اقبال!


ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

9 نومبر 1877 کو سیالکوٹ کے ایک گھرانے میں ایک ایسے بچے نے آنکھ کھولی جس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ بڑا ہو کر شاعر مشرق کہلائے گا اور ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں کی بقا اور سالمیت کے لئے تصور پاکستان پیش کرے گا۔ ان کا نام ان کے والدین نے اقبال رکھا جو اپنے معنوں میں صحیح ثابت ہوا۔

علامہ اقبال کا آبائی وطن کشمیر تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے ہی شہر میں مولانا غلام حسین اور علامہ سید میر حسن کے مکتب سے حاصل کی، پھر مشن ہائی سکول سیالکوٹ میں داخل ہوئے۔ 1891 میں اسکول سے اینگلو ورینکفر مڈل سکول امتحان پاس کیا۔ 1892 میں شعر گوئی کا آغاز کیا اور تیرہ برس کی عمر میں جو پہلا شعر کہا وہ کچھ اس طرح ہے،

موتی سمجھ کہ شان کریمی نے چن لئے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے

1893 میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں سکاچ مشن ہائی سکول سیالکوٹ سے پاس کیا، اس پر تمغہ بھی ملا اور وظیفہ بھی جاری کیا گیا۔ 1899 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا اور خان بہادر شیخ نانک بخش میڈل پایا۔

1902 میں ملک الشعراء کا خطاب ملا۔ یورپ کے قیام کے دوران انھوں نے بہت سی فارسی کتب کا مطالعہ کیا اور ان کتابوں کا خلاصہ ایک محققانہ کتاب کی صورت میں شائع کیا جسے فلسفہ ایران کی مختصر تاریخ کہنا چاہیے۔

1930 میں الہ ’آباد کے جلسے۔ میں علامہ اقبال نے الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا۔ وہ مفکر پاکستان ہی نہیں، مفکر اسلام بھی تھے۔ اس عظیم المرتبت حکیم کو دنیا کی ظاہر بین نگاہوں نے محض شاعر کی حیثیت سے جانا مگر قائد اعظم نے ان کی صحیح روح کو پہچانا۔ آخرکار قائداعظم کی کاوشوں سے پاکستان کرہ ارض پر آفتاب کی مانند جلوہ گر ہوا اور اقبال کے خواب کو جناح نے شرمندہ تعبیر کر دکھایا۔

علامہ اقبال نے پاکستان کے قیام اور نظریہ پاکستان کی ترویج کے سلسلے میں جو عظیم اور اہم کردار ادا کیا، اس کا اعتراف قائداعظم کو بھی تھا۔ انھوں نے اقبال کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا، کہ اقبال نہ صرف ایک عظیم مفکر تھے، بلکہ وہ ایک عملی سیاستدان بھی تھے۔ اسلام ان کا ابدی پیغام تھا اور جب تک اسلام زندہ ہے، اقبال زندہ رہیں گے۔

قوم نے بھی زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے علامہ اقبال کو ”حکیم الامت“ اور ”ترجمان حقیقت“ کے خطابات سے نوازا۔

اقبال ایک عظیم المرتبت شاعر تھے، انہوں نے اپنی شاعری سے ہندوستان کے دس کروڑ مسلمانوں میں آزادی کی نئی روح پھونک،

سلطانی ئے جمہور کا آتا ہے زمانہ
جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

اقبال جب شعر کہتے تو آنسو لڑیوں کی صورت میں ان کی آنکھوں سے بہتے تھے۔ بانگ درا، بال جبریل اور ضرب کلیم اردو تصانیف ہیں اور پیام مشرق، زبور عجم، جاوید نامہ، مثنوی اسرار و رموز، فارسی مجموعہ کلام ہیں۔ ارمغان حجاز، اردو اور فارسی، دونوں زبانوں میں ہے۔

ایشیا کے اس عظیم شاعر کا لباس سادہ اور عمومی قیمت کا ہوتا تھا۔ حقہ پینے کے بہت شوقین تھے۔ رات اور دن میں صرف ایک بار کھانا کھاتے تھے۔ ہر وہ غزا پسند تھی جو ذائقے، بو اور رنگ کے اعتبار سے عمدہ ہوتی۔ پلاؤ اور کباب بہت مرغوب تھے۔ کہا کرتے تھے کہ یہ پان اسلامک ڈش ہے۔ علامہ اقبال کو کبوتر بازی کا بھی بہت شوق تھا، بے حد نفاست پسند تھے۔ طنز و مزاح کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ ایک اجلاس میں سامعین پر امید تھے کہ اقبال کوئی فصیح و بلیغ تقریر کریں گے، لیکن انہوں نے صرف چند منٹ تقریر کی اور یہ لطیفہ سنا کر بیٹھ گئے،

جنگ عظیم کے ایام میں ابلیس کے چند مرید اس کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ فارغ بیٹھا ہوا سگار پی رہا ہے، جب اس سے بے کاری کا سبب دریافت کیا گیا تو اس نے جواب دیا، آج کل میں فارغ ہوں اس لئے کہ میں نے اپنا سارا کام برطانوی وزارت کے سپرد کر رکھا ہے۔

حسرت ہے کہ غلامی کی تاریک رات کا مسافر آرزوؤں کی سہانی صبح کا آفتاب طلوع ہوتے نہ دیکھ سکا، 21 اپریل 1938 کو تاریخی شہر لاہور میں اپنی آخری منزل پا لی۔

اقبال آج ہم میں نہیں لیکن ان کی یاد ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رے گی۔ ان کی خدمات اور شاعری کو کوئی بھلا نہیں سکتا۔ آج ان کے دیکھے ہوئے خواب یعنی پاکستان کو دنیا کے نقشے پہ چمکتے ہوئے 74 سال ہو نے کو آئے۔

آسمان تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
انتقال سے دس منٹ پہلے راجہ حسن اختر کے سامنے اپنی یہ رباعی پڑھی تھی
سرور رفتہ باز آید کہ ناید
نسیمے از حجاز آیدکہ نا ید
سر آمد روزگار لے ایں فقیرے
دگر دانائے راز آید کہ ناید

Facebook Comments HS