نوبل انعام یافتہ اور عالمی شہرت یافتہ پاکستانی بیٹی ملالہ یوسف زئی کی شادی کیا ہوئی ہمارے سوشل میڈیائی مجاہدین، نیم مولوی، کٹھ ملا اور طالبانی سوچ کے حامل نیم مولانا ایک بار پھر اپنے برہنہ اور اپاہج خیالات کے تیغ و تفنگ لے کر میدان میں آ گئے ہیں۔ یہ وہی پست ذہنیت ہے جو ہر وقت معاشرے میں پھیلنے والی ”فحاشی و عریانی“ کے مظاہروں پر کڑھتی رہتی ہے اور اس کے سد باب کے لیے چوبیس گھنٹے منصوبے بناتی رہتی ہے۔ اسی طرح کے ایک جنونی مولوی نے اگلے دن ایک پوسٹ میں یہ سوال پوچھا تھا کہ معاشرے سے زنا ختم کرنے کا قابل عمل حل بتائیں۔ جواب میں ایسے ایسے حل بتائے جاتے رہے کہ جنہیں پڑھ کر حکومت کی طرف سے مہنگائی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات بھی شرمندہ بلکہ شرمندۂ تعبیر ہوتے رہے۔

ہم سے نہ رہا گیا اور ہم نے صاحب پوسٹ سے یہ سوال پوچھنے کی گستاخی کر ڈالی کہ آپ ایسے کتنے واقعات کے عینی شاہد ہیں؟ اس کے بعد انہوں نے ہمیں حسب توقع بلاک مار دیا اور ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

بات ہو رہی تھی ملالہ کے نکاح کی کہ جس پر پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد خوش ہے اور نوبیاہتا جوڑے کو ہدیۂ تہنیت پیش کر رہی ہے مگر ایسے سڑیل اور کٹھ ملاوٴں کی بھی کمی نہیں ہے جو خوشی کے اس موقعے پر بھی ملالہ کو سنگ دشنام اور تیر الزام کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اکثر اکثر طعنہ زن ہیں کہ ملالہ نے تو پچھلے دنوں ایک انٹرویو میں شادی کے بجائے پارٹنرشپ کی بات کی تھی، اب اسلامی تعلیمات کے مطابق نکاح کیوں کیا؟

حقیقت تو یہ ہے کہ شادی پارٹنرشپ ہی ہوتی ہے۔ میاں بیوی دکھ سکھ، نفع نقصان، کھانے پینے اور اولاد و خاندان کے حوالے سے ایک دوسرے کے پارٹنرز ہی تو ہوتے ہیں۔ اگر وہ ہر معاملے میں پارٹنرشپ یعنی شراکت داری قائم نہ کریں تو مصاف زندگی میں اتنی ڈھیر ساری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا کے کیسے آگے بڑھیں؟ نکاح کو تو ہم لوگوں نے گورکھ دھندا اور کمائی کا دھندا بنا رکھا ہے ورنہ حقیقی اسلام میں تو یہ نہایت سادگی سے انجام پذیر ہوتا ہے۔ لڑکے لڑکی کی رضا مندی اور دو گواہان کی موجودگی میں قول و قرار بنیادی چیزیں ہیں باقی تمام باتیں اضافی ہیں۔

نکاح ہمارے ہاں پہلے ہی بہت مشکل تھا مگر اب تو خیر سے ہماری جدید ریاست مدینہ نے نکاح کے لیے ختم نبوتﷺ کی شق شامل کر کے اسے اور بھی مشکل بنا دیا ہے۔ عقیدۂ ختم نبوتﷺ کے تحفظ کے لیے ہمارے حکمران بھی کٹھ ملاوٴں کے دباوٴ پر عجیب و غریب طریقے اختیار کر رہے ہیں۔ کمزور حکمران ہمیشہ مذہب کا استعمال کر کے اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی ملالہ کے نکاح یا پارٹنر شپ کے معاہدے کے حوالے سے جس پر ہمارے طالبانی ذہنیت کے مالک سوشل میڈیائی مجاہدین عجیب و غریب ردعمل دے رہے ہیں۔

ہم ان سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ قوم کی قابل فخر بیٹی اور طالبان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بچیوں کی تعلیم کے لیے کام کرنے والی ملالہ کے نکاح پر اسے مبارک باد نہیں دے سکتے تو کم از کم اسے طعن و تعریض اور دشنام و الزام کا ہدف تو نہ بنائیں۔ ملالہ کی شادی پر پرملال ہونے کی نہیں خوشی سے نہال ہونے کی ضرورت ہے۔