سفرنامہ پنجاب: تیرے شہر میں یوں زندگی ملی۔ پانچویں قسط۔

” اک نئے نگر میں“
پتوکی سے دوپہر کو شروع ہونے والا سفر رات ساڑھے نو بجے ہماری منزل مقصود پہ آ کے ختم ہوا۔ اب ہمارا قیام سرگودھا اور ساہیوال کے درمیان چھوٹا ساہیوال کے گاؤں فاروقہ کے ایک علاقے سلکیاں میں تھا۔ یہاں ہمارے میزبان ریٹائرڈ میجر سربلند اقبال خان صاحب تھے جو علاقے کی نمایاں شخصیت ہیں۔ اس پرفضا علاقے میں ان کی زمینیں ہیں جہاں فصل اگائی جاتی ہے اور انھی زمینوں کے درمیان انھوں نے ایک گیسٹ ہاؤس بنایا ہوا ہے۔ دیگر جاگیرداروں کی طرح انھوں نے بھی گھوڑوں کا فارم بنایا ہوا ہے جہاں اچھی نسل کے گھوڑے موجود ہیں۔
اس کے علاوہ انھوں نے کتے بھی پالے ہوئے ہیں جن کا مقصد گھر اور لوگوں کی حفاظت اور چوکیداری ہے۔ راستے میں سڑک بند ہونے کی وجہ سے ہم لوگوں کو گیسٹ ہاوس پہنچنے میں دو گھنٹے کی تاخیر ہو گئی تھی ورنہ تو ہم شام کو یہاں پہنچ جاتے۔ پروگرام یہ تھا کہ عشائیے کے بعد محفل غزل اور مشاعرہ تھا۔ ہمیں پہنچنے میں تاخیر ہو گئی تھی لیکن یہ پروگرام چوں کہ شام کا تھا تو دیگر مدعوئین مقررہ وقت پہ آچکے تھے اور ہم لوگوں کی آمد کے منتظر تھے۔
ان مہمانوں میں علاقے کے معززین شامل تھے جیسے کہ وہاں کے مشہور شاعر اسد اعوان سجادہ نشین صاحبزادہ نورالدین سیالوی، سردار عباس علی ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے، ایم پی اے غلام اصغر خان لاہڑی وغیرہ۔ ان کے علاوہ عام لوگ بھی اس محفل میں شریک تھے۔ جس وقت ہم وہاں پہنچے تو محفل سجی ہوئی تھی اور ہمارے انتظار کی کوفت کم کرنے کے لیے موسیقی سے مہمانوں کا دل بہلایا جا رہا تھا۔ خیر ہم گیسٹ ہاؤس کے اندر واقع کمروں میں پہنچے اور اپنے اپنے کمرے منتخب کر کے سامان رکھوایا۔
گیسٹ ہاؤس میں اٹھارہ کمرے تھے ہم بھی کم و بیش پندرہ سولہ افراد تھے۔ ہمارے میزبان ریٹائرڈ میجر سربلند خان صاحب نے ہم سب کو اجازت دے دی تھی کہ جس کو جو کمرہ پسند آئے وہ وہاں شب باش ہو۔ ہمارے گروپ کے لوگوں نے اپنی مرضی اور اپنی پسند کے مطابق کمروں کا انتخاب کیا اور اپنا سامان اپنے کمروں میں لے گئے۔ کمروں میں سامان رکھوانے کے بعد اگلا مرحلہ کپڑے بدلنے اور خود تیار ہونے کا تھا۔ منہ ہاتھ دھو کے کپڑے بدلے ہی تھے کہ گیسٹ ہاؤس کی ملازمہ بلانے آ گئی کہ کھانا چن دیا گیا تھا اور مہمانوں کو بلایا جا رہا تھا۔
خیر صاحب ہم بھی کمرہ طعام یعنی ڈائننگ روم کی طرف چل دیے کیوں کہ بقول ملازمہ کے باقی مہمان وہاں پہنچ چکے ہیں اور ہمارے میزبان وہاں ہم سب کی آمد کے منتظر تھے۔ کمرہ طعام میں کھانے کی وسیع میز پہ کھانا سجا ہوا تھا اور تقریباً سبھی لوگ وہاں موجود تھے۔ کھانے میں کڑاہی گوشت، پلاؤ اور بھنڈی کی بھجیا، نان، سلاد اور رائتہ تھا۔ یہ کھانا گیسٹ ہاؤس کے ملازمین نے پکایا تھا اور مزے دار تھا۔ کھانے کے بعد ہم نے صحن کا رخ کیا جہاں محفل سجی ہوئی تھی۔
ہم سب بھی شریک محفل تھے۔ اس محفل کا اہتمام گیسٹ ہاؤس کے کشادہ صحن میں کیا گیا تھا۔ گیسٹ ہاؤس کا نقشہ کچھ اس طرح تھا چاروں سمت کمرے تھے۔ درمیان خاصا کشادہ صحن تھا جہاں اس وقت ہمارے اعزاز میں مشاعرہ اور محفل موسیقی سجائی گئی تھی۔ گیسٹ ہاؤس جہاں تھا وہاں دور دور تک اور کوئی گھر نہ تھا۔ جس طرف بھی نگاہ کیجیئے کھیت اور سبزہ تھا۔ یہاں آبادی نہ ہونے کے سبب ماحول خاصا خاموش اور تھما تھما سا رہتا ہو گا لیکن اس دن چوں کہ ہمارا کارواں وہاں پہنچا ہوا تھا اور ہم جہاں جاتے تھے ہلا گلا، قہقہے، نغمے اور رونقیں ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔
اس غیر آباد ویرانے کے پرسکون ماحول میں بھی ہمارے کارواں کے لوگوں کی بدولت زندگی کی ہلچل ہوئی۔ فضا میں پرجوش سی کیفیت کا احساس موجود تھا۔ سوچیئے ذرا کیا عالم ہو کہ دور دور تک سناٹا ہو، خاموشی ہو، چاروں طرف سبزہ ہو، درمیان میں شعر و غنا6 کی محفل آراستہ ہو شرکائے محفل بھی شعر و سخن اور ادب کے دل دادہ ہوں تو ایسی بزم کی رونق کے کیا کہنے۔ ایسی ہی رونقوں میں تو زندگی بھی پورے دل سے مسکراتی ہے یا یوں کہیے ایسی محفلوں میں ہی تو زندگی درحقیقت زندگی محسوس ہوتی ہے۔
ہماری عدم موجودگی میں حاضرین محفل کو انتظار کی کوفت سے بجانے کے لیے گلوکار اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان مقامی فن کاروں نے اردو اور علاقائی زبان میں خوب صورت کلام پیش کیا۔ بلاشبہ بہت اچھے گلوکار تھے۔ موسیقی وہ جادو ہے جو ہر سوز و گداز رکھنے والے دل کو پوری طرح اپنے اثر میں لے لیتا ہے۔ ہم سب بھی اسی جادو کے اثر میں تھے۔ رات کے سمندر میں گیسٹ ہاؤس کسی تنہا جزیرے کی مانند معلوم ہو رہا تھا۔ خوب صورت آوازوں میں عمدہ گائیکی، مشرقی افق سے دھیرے دھیرے طلوع ہونے والا، چمکتے ہوئے گہرے زرد رنگ کا چاند کہ جس نے گیسٹ ہاؤس کے نقرئی قمقموں کی روشنیوں کے ساتھ مل کے ایک الگ ہی طرح کا اجالا کیا ہوا تھا۔
اس جگمگاہٹ اور اپنی رونق کے سبب گیسٹ ہاؤس اس وقت رات کی دلھن کے ماتھے کا جھومر محسوس ہو رہا تھا۔ خواب ناک رات کا تاثر اپنے عروج پر تھا۔ محفل موسیقی کے اختتام پر میزبان سربلند کھوسہ صاحب نے اپنے معزز مہمانوں کو ہم سے متعارف کروایا۔ پروگرام کا دوسرا حصہ مشاعرہ تھا۔ شعرا نے جس جوش و خروش سے کلام سنایا حاضرین نے بھی اسی جذبے سے اشعار سنے اور خوب داد دی۔ ان شعرا6 کے کچھ اشعار آپ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
بڑی مشکل سے سنوارا ہے یہ گلشن میں نے
اسے دشمن کی نگاہوں سے بچا سکتی ہوں
(عشرت حبیب)
اے کاش کہ مل جائیں فلک اور زمیں اور
ہم لوگ نکل جائیں، چلے جائیں کہیں اور


