ٹی ٹی پی سے معاہدہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے تحریک لبیک پاکستان کو کالعدم تنظیموں کی فہرست سے خارج کرنے کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے قانون کی پاسداری اور وسیع تر قومی مفاد کو مدنظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے بعد وفاقی کابینہ نے اس پر عائد پابندیاں ہٹانے کی منظوری دی تھی۔ اس معاہدے کے مطابق مذکورہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے تمام اسیران کو بھی جلد رہائی دے کر تنظیم کی مالی معاونت کی جائے گی اور آئندہ اس تنظیم کو ملک میں سیاست کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔

جواباً تحریک لبیک پاکستان نے بھی اپنے کارکنوں کو جی ٹی روڈ سے ہٹا لیا ہے اور امید ہے کہ اگلے کچھ مہینوں تک اس طرف سے اب امن ہو گا۔ تحریک لبیک پاکستان پر سے پابندی اٹھائے جانے کے فوراً بعد کالعدم تحریک جعفریہ پاکستان (ٹی جے پی) اور کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) نے بھی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ مذکورہ تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ انہیں بھی نومبر 2016 ء کے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بحال کیا جائے۔

شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سبطین حیدر سبزواری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی جے پی کو جسٹس ظہیر جمالی کے فیصلے کی روشنی میں بحال کیا جائے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت عدالتی فیصلے کی حکم عدولی کر کے توہین عدالت کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اپنے موقف کے حق میں ان کا کہنا تھا کہ ٹی جے پی ایک پر امن سیاسی جماعت ہے مگر اسے آزادی حاصل نہیں جبکہ ٹی ایل پی کو ملک دشمن سرگرمیوں، تشدد اور پولیس والوں کے قتل میں ملوث ہونے کے باوجود بحال کیا گیا ہے۔

اسی طرح علامہ اورنگزیب فاروقی نے بھی اہلسنت و الجماعت نے بھی سپاہ صحابہ سے پابندی اٹھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت نے سپاہ صحابہ پاکستان پر سے پابندی نہیں اٹھائی تو وہ بھی احتجاج پر مجبور ہوں گے۔ کچھ اسی قسم کی سوچ اب ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنان میں پیدا ہو رہی ہے، اس حوالے سے خدشات کا پچھلے کالم میں ہم اظہار کر چکے ہیں لہذا اس پر مزید تبصرہ کیے بغیر آگے چلتے ہیں۔ اگلی خبر یہ ہے کہ حکومت نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ فائر بندی معاہدے کی تصدیق کر دی ہے۔

اس معاہدے کے بارے میں ٹی ٹی پی کے ترجمان محمد خراسانی نے بھی بتایا ہے کہ فی الحال 9 نومبر سے 9 دسمبر 2021 ء تک کے لیے سیز فائر پر اتفاق ہوا ہے۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے چند روز قبل قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سیاسی قائدین، اراکین پارلیمنٹ، وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا کو بتایا کہ فریقین کی باہمی رضامندی سے معاہدے کی مدت میں توسیع کی جا سکتی ہے، اس کے ساتھ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مصالحت کے لیے افغان طالبان نے کردار ادا کیا ہے۔

پچھلے کئی برسوں سے ہمارا ریاستی بیانیہ یہ رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان دراصل بھارت کی آلہ کار جماعت ہے اور افغان طالبان کا اس گروہ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اس تنظیم کو افغانستان میں امریکی کٹھ پتلی حکومتیں محفوظ ٹھکانے فراہم کرتی ہیں جہاں سے پھر وہ ہمارے ہاں دہشتگردی کی کارروائیاں کرتی ہے۔ ہمارے ہاں آج تک ہونے والی اسی ہزار سے زائد شہادتوں اور تخریب کاری کی تمام وارداتوں کا ذمہ دار ہمیشہ ٹی ٹی پی اور اس کی سرپرست امریکا، بھارت اور افغان حکومتوں کو قرار دیا جاتا رہا۔

کئی مرتبہ اعلان ہوا کہ ہماری طرف سے ٹی ٹی پی کی اعلی قیادت کے خلاف افغان حکومت کو ثبوت فراہم کیے گئے ہیں اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے لیکن ہماری متعدد درخواستوں کے باوجود افغان حکومت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔ کئی بار پاکستان نے ان دہشتگرد گروہوں کی کارروائیوں کے بارے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو آگاہ کیا اور ہندوستان کی پاکستان میں مداخلت کے ثبوت دنیا بھر کو ڈوزیئر کی صورت فراہم کیے ۔

کہا جاتا تھا کہ ہماری تمام تر کوشش اور واویلے کا اس لیے فائدہ نہیں ہوتا کیونکہ افغانستان اور انڈیا کی سرپرست عالمی قوتیں بھی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار دیکھنے کی آرزومند ہیں۔ اغیار کی ان سازشوں کے باوجود عوام کے تعاون اور سول اور ملٹری قیادت کے عزم کے سبب بڑی حد تک ہم دہشتگردی کے عفریت پر قابو پانے میں کامیاب ہو گئے تھے اور وطن عزیز میں امن بحال ہونا شروع ہو چکا تھا۔ رواں برس 15 اگست کی تاریخ سے بقول ہمارے وزیراعظم عمران خان صاحب کے افغانوں نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں اور افغانستان بھی اب بدل چکا ہے۔

افغانستان سے امریکی انخلا کے دوران وطن عزیز کے بارے میں تخریبی جذبات رکھنے والی ہماری تمام دشمن ایجنسیاں اور ان کے آلہ کار بھی وہاں سے فرار ہو چکے ہیں۔ اس وقت وہاں طالبان کی حکومت ہے جنہیں ہم دوست سمجھتے ہیں اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کی مخالفت مول لے کر ہم جن کی حمایت کر رہے ہیں اس موقع پر تو ہمارے اعتماد کا لیول ہر صورت بلند ہونا چاہیے۔ افغانستان سے لیکن اس قسم کی خبریں آ رہی ہیں کہ وہاں کی جیلوں میں قید ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے افراد کو رہائی مل چکی ہے۔

لہذا یہ سوال پیدا ہونا فطری بات ہے کہ یہ کیسی دوست حکومت ہے جس نے ہمارے تمام دشمنوں کو جیلوں سے رہائی دے دی ہے اور ہم سے بھی اصرار ہو رہا ہے کہ اپنے اسی ہزار بچوں کے قاتلوں کو بلا مشروط معاف کر دیا جائے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی کہ تحریک طالبان اس وقت اگر واقعی کمزور پوزیشن میں ہے تو پھر آخر اس سے مذاکرات کی کیا جلدی ہے اور اتنی عجلت کا مظاہرہ کیوں کیا جا رہا ہے۔ اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ کوئی بھی ریاست ہمیشہ حالت جنگ میں نہیں رہ سکتی اور ہر جنگ کا اختتام مذاکرات پر ہی ہوتا ہے۔

تحریک طالبان اگر واقعی شدت پسندی چھوڑ کر ملکی آئین کے احترام کا حلف اٹھانا چاہتی ہے تو فبہا۔ اس صورت تحریک طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے طریقہ کار پر ضرور غور ہونا چاہیے۔ تاہم یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس تنظیم کی مذموم کارروائیوں کی قیمت کسی مخصوص ادارے یا طبقے نے نہیں بلکہ پوری قوم نے ادا کی ہے لہذا اس متعلق کوئی بھی فیصلہ چند اشخاص کے بجائے قوم کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لاکر یعنی پارلیمنٹ میں بحث کے بعد ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے اہم چیز یہ دیکھنے والی ہوگی کہ آج تک ٹی ٹی پی کے ساتھ جتنے معاہدے ہوئے، اس مہلت کا فائدہ اٹھا کر انہوں نے پہلے سے زیادہ قوت حاصل کرلی۔ معاہدے میں کیا ضمانت ہوگی جو ٹی ٹی پی کو دوبارہ اس قسم کی سرگرمی میں ملوث ہونے سے روکے گی۔ آخری بات یہ کہ کاش تمام کالعدم تنظیمیں بشمول ٹی ٹی پی واقعی قومی دھارے میں شامل ہو جائیں اس کے بعد ستر سال سے رائج ملکی داخلی اور خارجی پالیسیوں سے بھی رجوع کر لیا جائے تو ہمارے بیشتر مسائل ہمیشہ کے لیے حل ہو سکتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments