35 برس کی عمر تک شادی نہیں کرنا چاہتی تھی: ملالہ یوسف زئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملالہ کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ عملی طور پر اس رشتے کے حوالے سے کافی محتاط ہیں۔

حال ہی میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہونے والی نوبیل انعام یافتہ پاکستانی خاتون ملالہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران جب بھی ان سے شادی سے متعلق پوچھا گیا تو ان کے یہ الفاظ ہوتے تھے کہ "میں شادی نہیں کرنا چاہتی یا کم از کم اس وقت تک جب تک 35 برس کی نہیں ہو جاتی۔”

ملالہ کا کہنا ہے کہ وہ شادی کے خلاف نہیں لیکن وہ عملی طور پر اس رشتے کے حوالے سے کافی محتاط ہیں۔

ملالہ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے شادی کا اعلان کیا تھا۔ اب شادی کے بعد امریکی فیشن میگزین ‘ووگ’ میں 11 نومبر کو ان کا پہلا انٹرویو شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے رشتہ ازدواج سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

انٹرویو میں ملالہ کا کہنا تھا کہ ان کا سوال معاشرے کی پدرانہ جڑوں سے ہے جہاں شادی کے بعد خواتین سے سمجھوتوں کی توقع کی جاتی ہے۔ اور دنیا کے ہر کونے میں ازدواجی رشتے سے متعلق قوانین تو موجود ہیں لیکن روایات اور خواتین سے نفرت قوانین پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ملالہ کے بقول، ” مجھے یہی خوف تھا کہ کہیں میں اپنی آزادی، انسانیت کے لیے کی جانے والی کوششیں نہ کھو دوں اور اس کا میرے پاس یہی حل تھا کہ میں شادی سے اجتناب کروں۔”

یاد رہے کہ ملالہ نے رواں برس جولائی میں ‘برٹش ووگ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اب تک یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کو شادی کیوں کرنی ہے؟ اگر آپ کسی شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے شادی کے کاغذات پر دستخط کرنا کیوں ضروری ہے؟ صرف پارٹنر شپ کیوں نہیں کی جا سکتی۔

اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا تھا اور صارفین کی جانب سے ملالہ کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

شادی کے بعد ‘ووگ’ کو دیے گئے انٹرویو میں ملالہ نے شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں پرورش پانے والی لڑکیوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ شادی ایک آزاد زندگی کا متبادل ہے۔ اگر خواتین تعلیم اور نوکری حاصل نہیں کر پاتیں یا امتحان میں کامیاب نہیں ہو پاتیں تو انہیں جلد شادی کرنے کا کہا جاتا ہے۔

ملالہ نے بتایا کہ بہت سی لڑکیاں جن کے ساتھ وہ پلی بڑھی تھیں ان کی شادی اس سے پہلے ہی ہو گئی تھی کہ وہ اپنے کریئر سے متعلق کوئی فیصلہ کر سکتیں۔

ملالہ نے کہا کہ کچھ لڑکیوں کو اس وجہ سے اسکول سے نکال دیا جاتا ہے کہ ان کے گھر والے تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے جب کہ کچھ تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں اپنے خاندان کی توقعات پر پورا نہیں اتر پاتیں اور ان کے گھر والے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ان کی تعلیم پر سرمایہ لگانے کا کوئی فائدہ نہیں، تو ایسی لڑکیوں کے لیے شادی صرف ان کی زندگی کی ناکامی کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ میرے ارد گرد موجود لڑکیوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب مدِ نظر رکھتے ہوئے انہیں شادی کے بارے میں سوچنا کافی مشکل لگا۔

ملالہ نے اپنے گزشتہ انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب اس وقت ان سے شادی سے متعلق پوچھا گیا تو ان کا یہی جواب تھا کہ شاید شادی ممکنہ طور پر ان کے لیے نہ ہو۔

ملالہ نے کہا کہ ان کے دوستوں، رہنمائی کرنے والوں اور شوہر کے ساتھ گفتگو نے انہیں اس بات پر غور کرنے میں بہت مدد کی کہ وہ کیسے برابری، انصاف اور دیانت کے ساتھ یہ رشتہ قائم کر سکتی ہیں۔

‘عصر کو میری حسِ مزاح پسند تھی ‘

ملالہ نے اپنے شوہر کے حوالے سے بتایا کہ 2018 میں موسمِ گرما میں عصر اپنے دوستوں سے ملنے آکسفورڈ آئے تھے اور انہوں نے کرکٹ کے شعبے میں کام کیا ہے تو مجھے ان سے بے شمار باتیں کرنا تھیں۔

ملالہ کے بقول، "عصر کو میری حسِ مزاح پسند تھی اور پھر ہم بہت اچھے دوست بن گئے۔ ہمیں معلوم ہوا کے ہمارے درمیان بہت سی چیزیں ایک جیسی ہیں اور ہم ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے سے بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔”

انہوں نے بتایا کہ ہم خوشی اور غم دونوں لمحات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوتے تھے اور مشکل اور اچھے دونوں حالات میں ایک دوسرے کو سنتے اور بات کرتے تھے۔

واضح رہے کہ ملالہ کے شوہر عصر کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز ہیں۔​

ملالہ کے مطابق عصر میں انہیں ایک بہترین دوست اور ساتھی نظر آیا۔ انہیں یقین ہے کہ شادی میں وہ دوستی، پیار اور برابری کا لطف اٹھا سکتی ہیں۔

ان کے بقول وہ نو نومبر کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں۔ اور نکاح کی تقریب ان کے گھر میں ہی منعقد ہوئی تھی جس میں دونوں کے خاندان اور ان کے قریبی دوستوں نے شرکت کی تھی۔

شادی کی تقریب کے حوالے سے ملالہ نے انٹرویو میں بتایا کہ ان کی والدہ اور ان کی دوست نے ان کے لیے جوڑا خریدا تھا جب کہ عصر کی والدہ اور بہن نے انہیں زیورات دیے تھے جب کہ انہوں نے اپنی مہندی خود لگائی تھی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ شادی سے ایک روز قبل عصر اور انہوں نے شاپنگ مال میں گھنٹوں عصرکی گلابی رنگ کی ٹائی ڈھونڈنے میں لگائے تھے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3136 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments