کیا تشکیکی انداز فکر کسی کو پڑھایا یا سکھایا جا سکتا ہے؟
انسانی دماغ ایک ”pattern recognizing“ مشین ہے جو پر اسرار، ان دیکھی اور بے بنیاد خوف کو محسوس کر کے کہانیاں گھڑنا شروع کر دیتا ہے۔ الف لیلوی داستانوں کا انبار اسی ذہنی کیفیت کے معجزے ہیں اور یہی سلسلہ آج بھی کسی نہ کسی صورت میں چل رہا ہے وہ الگ بات ہے کہ اب ان کہانیوں کی کریڈیبلٹی کافی حد تک مشکوک ہوتی جا رہی ہے۔ پہلے وقتوں میں لوگ ”اسٹیٹس کو“ یا ”اسٹیبلش عقائد“ کو ہی فائنل اتھارٹی یا فکس آئیڈیالوجی کے طور پر تسلیم کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔ کوئی ذرا سی تبدیلی کی بات کرتا تو بھونچال پیدا ہوجاتا تھا۔
پرانی روایات کے پجاری ہیں جن کی روزی روٹی انہیں قدامت پسندانہ روایات سے وابستہ تھیں اپنی توپوں کا رخ ایسے بندے کی طرف موڑ لیتے تھے جو حتمی اصولوں سے انحراف کرنے کی کوشش کرتا یا مختلف موقف اپنی زبان سے نکالنے کی ضرورت کرتا کائنات کا ابتدائی ماڈل پیش کرنے والے ریاضی دان کوپر نیکس جن کی کیتھولک تعلیمات پر بھی گہری نظر تھی انہیں کافی مشکل پیش آئی جب ان پر یہ راز کھلا کہ سورج زمین کا مرکز ہے اور زمین حرکت کرتی ہے تو وہ تذبذب میں پڑ گئے کہ وہ کیسے اتنے بڑے انکشاف کو دنیا کے سامنے لائیں۔ ان کی اس تھیوری کو ”کوپرنیکن ریولوشن“ کا نام بھی دیا جاتا ہے اور اسی انکشاف نے ہی سائنسی انقلاب کو آگے بڑھنے میں مدد فراہم کی کی لیکن اس تصور کو پیش کرنے میں مشکل پیش آئی کیونکہ یہ اس وقت کے رائج اصولوں کے بالکل منافی تھا اور لوگ اس سچ کو ہضم کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔
اسی قدامت پسندانہ سوچ کی وجہ سے ”برونو“ کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ پرانی روایات کو للکارنے کے نتیجہ میں جو کچھ گلیلیو کو بھگتنا پڑا وہ بھی تاریخ میں رقم ہے۔ مذہبی روایت میں انا الحق کا راگ چھیڑنے والے منصور کو مصلوب ہونا پڑا، یہ تو خیر اس دور کی باتیں ہیں جب سائنس چپکے قدموں پختگی کی منازل طے کر رہی تھی مگر آج تو انتہائی پختہ شکل میں ہمارے سامنے آ چکی ہے
اسی کی بدولت ہم آج بہت کچھ جاننے کے قابل ہو چکے ہیں اور یہ صلاحیت دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے انہیں سائنٹیفک رویوں کی بدولت ڈاگمیٹک تصورات کی گراں ڈھیلی پڑتی جا رہی ہے تشکیکی رویے فروغ پانے لگے ہیں روایتی فکر سے تسلی بخش جواب نہ ملنے کی وجہ سے اگناسٹک اور ایتھی ازم کو فروغ ملنے لگا ہے۔
عوام کی اکثریت کا تو ان سے کچھ بھی لینا دینا نہیں ہوتا بلکہ وہ تو اپنی ریوڑ ذہنیت پر ہی صابر شاکر ہوچکے ہوتے ہیں یہ پڑاؤ تو ان لوگوں کے لیے ہوتے ہیں جو زندگی کی باریکیوں کو سمجھنے کے طالب ہوتے ہیں ان تشکیکی رویوں کو اختیار کرنا ایسے لوگوں کی ضد نہیں ہوتی بلکہ فکری خلاء کی تہہ میں اتر کر کچھ نیا جاننے کی تمنا خواہش ہوتی ہے اور اس کی ان کو بہت بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے بلکہ سائنس کی دنیا میں تو بہت سوں کی جوانیاں بھی لگ جاتی ہیں
جب 2012 میں ”ہیگز بوسون گاڈ پارٹیکل“ دریافت ہوا تو سائنسدان خوشی و حیرت سے اس تاریخی لمحہ کو انجوائے کر رہے تھے اور اس پروجیکٹ کے تجویز کنندہ بڑی ( پیٹر ہیگز ) اس بڑی تاریخی کامیابی کے اعلان کے دوران بار بار اپنے آنسو صاف کر رہے تھے کیونکہ کامیابی کا یہ دن دیکھنے کے لیے ان کی ٹیم نے اپنی جوانیاں وقف کر ڈالی تھیں، 1964 ء سے شروع ہونے والا یہ کٹھن سفر اپنی کامیابی کی دہلیز پر پہنچ چکا تھا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ فزکس کی دنیا کا بہت بڑا انقلاب تھا جس نے انسانی سوچ کو بلندیاں عطاء کی تھیں، حقائق کھوجنے کے لیے زندگیاں داؤ پر لگانا پڑتی ہیں۔
عجز و انکساری، کھلے پن اور ہزاروں کاؤ شوں و تجرباتی کوششوں کی ناکامی کا حوصلہ لیے مسلسل آگے کی طرف بڑھنا پڑتا ہے زندگی وفا کرے تو کامیابی کا امکان موجود ہوتا ہے ورنہ بہت سارے سائنسدان حقائق کھوجتے کھوجتے دنیا سے چلے جاتے ہیں اور پھر ان کی جگہ پر مزید آ جاتے ہیں اور ڈھونڈنے کا یہ تسلسل جاری رہتا ہے۔
دوسری طرف دعوٰی کی زبان ہے جس میں کوئی محنت نہیں لگتی اور اندھے پیروکاروں کی گنتی میں بھی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ پہلے وقتوں میں ”مائنڈ ہیکر“ فادر، پنڈت اور ملا خود کو فائنل اتھارٹی سمجھتے ہوئے جنت جہنم یا اگلے جنم میں مکتی کے سرٹیفکیٹ بانٹتے تھے اور سوالات پوچھنے پر مینٹل جمناسٹک کر کے سیدھی سادھی عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے اور بغیر ثبوت کے لمبی لمبی چھوڑتے رہتے تھے مگر آج ان کا یہ روایتی دائرہ سوالات کی زد میں ہے اور کم و بیش اپنی افادیت آہستہ آہستہ کھوتا جا رہا ہے اسی وجہ سے ہمارے مذہبی رہنماؤں کے فرزندان مغرب میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ آج کے دور کی ریالٹی ہے۔ سائنس کے معجزے چیخ چیخ کر حقائق بیان کر رہے ہیں۔ حقائق کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہ بہت تلخ ہوتے ہیں۔ یہ بہت سوں کی خوشیوں و حیرت میں چیخیں نکلوا دیتے ہیں اور بہت سوں کو خوف میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
یہ روایتی سوچ پہلے کہا کرتی تھیں کہ سائنس کا علم حرام ہے اسے پڑھنے والا بہک جاتا ہے جب سائنس نے اپنے ٹھوس حقائق دنیا کے سامنے پیش کیے تو روایتی فکر نے یہ دعوے شروع کر دیے کہ یہ سب کچھ تو مذہبی کتابوں میں پہلے سے ہی درج تھا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نا اہلیت کس کی ہے؟ دوسری طرف یہ موقف بھی اختیار کیا جاتا ہے کہ روایتی فکر یعنی مذاہب، فکس اور ناقابل تبدیل ہیں تو سوال یہ ہے کہ سائنس تو قابل تبدیل ہے اور جامد چیز نہیں ہے بلکہ یہ تو تجرباتی حقائق کی بنیاد پر بدلتی رہتی ہے تو پھر سائنس اور روایتی فکر کے درمیان کیا جوڑ بنتا ہے؟
حقیقت میں یہ دونوں نظام ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہیں بلکہ بعد المشرقین ہیں۔ روایتی فکر عقائد کا مجموعہ ہیں جن میں عقل کو دخل نہیں بلکہ یہ اصول ”یقین کامل“ پر ٹکے ہوئے ہیں جو کہ فکس ہوتے ہیں اور ماننے والے اپنے اپنے مکتبہ فکر کے مطابق عقائد کی دنیا میں مگن رہتے ہیں۔ یہ ہر ایک کا ذاتی فعل ہوتا ہے اور بطور انسان ہمیں ان کا احترام کرنا چاہیے جبکہ دوسری طرف سائنس ہے جو کہ مشاہداتی و تجرباتی حقائق کا مجموعہ ہے جو بدلتے حقائق کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ عقائد میں سب کچھ تقدس کے دائرے میں آ جاتا ہے جبکہ سائنس میں کچھ بھی مقدس نہیں ہوتا اور ننگے حقائق ہی اس سسٹم کا حصہ بنتے ہیں۔
اب یہ کہا جاتا ہے کہ سائنس کی بدولت تشکیکی رویے یا ایتھی ازم کا رجحان بڑھ رہا ہے میری نظر میں یہ تاثر زیادہ اپیل نہیں کرتا کیونکہ تشکیکی رویے یا ایتھی ازم پڑھایا یا سکھایا نہیں جاسکتا بلکہ یہ آپ کے لاشعور میں مختلف علوم سے نتھی ہو کر فروغ پانے لگتا ہے اور یہ انہی دماغوں میں اپنے پنجے گاڑتا ہے جنہیں سوچنے کا چسکا لگ چکا ہوتا ہے۔ سوچ سے فاصلہ رکھنے والوں کو یہ تشکیکی رویے کچھ نہیں کہتے، لوجیکل ریزننگ، اینالیٹیکل ریزننگ اور کریٹکل تھنکنگ کی سرحدیں عبور کرتا کرتا بندہ ریشنلٹی کی طرف مائل ہونے لگتا ہے جسے ہم تشکیکی انداز فکر کہتے ہیں دراصل یہ وہ ”لوپ ہولز“ ہیں جن کا جواب دینے سے روایتی فکر قاصر ہے۔
اب یہ جو بڑے بڑے بڑے ہولز ہیں عقائد کی دنیا میں محو رہنے والوں کو تو کچھ نہیں کہتے البتہ ریشنل مائنڈ بہت زیادہ ڈسٹرب ہوتے ہیں اور اسی جستجو میں مگن کچھ ایتھیسٹ، اگناسٹک یا اسکیپٹک بن جاتے ہیں جس طرح ہمیں مذہبی روایت پر چلنے والوں کا احترام کرنا چاہیے بالکل اسی طرح غیر روایتی راستوں پر چلنے والوں کا بھی احترام کرنا چاہیے یہی انسانیت کا سب سے اہم سبق ہے لوجیکل برین انسانیت کا بہت بڑا سرمایہ ہوتے ہیں جو لوجک کوئی فری میں ہاتھ آ جانے والی چیز نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے خود کو کھپانا پڑتا ہے۔ فکری خلاء کو محض ”دعوٰی سے بھرنا تو بہت آسان ہوتا ہے مگر حقیقت میں اس خلا کو بھرنے میں کئی زندگیاں لگ جاتی ہیں۔



فکری خلاء کو محض ”دعوٰی سے بھرنا تو بہت آسان ہوتا ہے مگر حقیقت میں اس خلا کو بھرنے میں کئی زندگیاں لگ جاتی ہیں۔ بہت خوب لکھا۔