موت سے جنم لیتی کہانی۔ دشت امکاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہانی ایک خاتون کی اپنے مرحوم شوہر کی زندگی کی روداد سے شروع ہوتی ہے اور زمان و مکاں سے بہت دور کرداروں کے سہارے چلتی ہوئی صحرا کی ریت کے ذروں میں کہیں جا سوتی ہے۔ کہانی ختم ہونے کے بعد بہت دیر آپ کہانی سنانے والی کے بیان سے جنم لینے والے پہلے مکالمے کو یاد کرتے ہیں جو آہستہ آہستہ کئی مکالموں کو جنم دیتا ہے۔ مرحوم شوہر بہت بڑے مؤرخ تھے، ان کا نام جو بھی تھا ان کی بیوی انہیں آنس کہتی ہے، کہانی پڑھنے والے مورخ کے اصل نام کی تلاش آخری دم تک جاری رکھتے ہیں اور کئی نام ایک دوسرے میں غلط ملط ہوتے رہتے ہیں۔

ایک تاریخ دان کی زندگی کی یہ روداد اس سادہ سی کہانی میں چلتے چلتے کئی سوالوں کو جنم دیتی ہے، جن میں سب سے پہلا سوال کسی بھی عام سے لمحے کا لاشعور میں بہت اہم ہو جانے کے حوالے سے ہے۔ یہی سوال ان امکانات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو نقش پا میں پوشیدہ ہیں۔ یہ کہانی اصغر ندیم سید کے نئے ناول ”دشت امکاں“ کی کہانی ہے جو سادگی کے پیرائے میں کئی پیچیدگیاں لئے ہوئے ہے۔

کبھی یہ ایک مورخ کی زندگی کی کہانی لگتی ہے، کبھی کئی تاریخ دان اور دانش ور آنس محسوس ہونے لگتے ہیں اور کبھی یہ اصغر ندیم سید کی سوانح کا کوئی باب محسوس ہوتا ہے۔ جس میں وہ لاشعور سے ان لمحوں کو نکال لائے ہیں جو اگر سوانح لکھی جاتی تو کبھی بھی شامل نہ ہو سکتیں۔ یہی فکشن کا کمال ہے کہ یہ آدھے سچ کا پورا بیان بن کر سامنے آ جاتا ہے۔ کہانی میں کئی اہم نام نہ صرف واقعاتی طور پر آتے ہیں بلکہ مورخ کی زندگی میں ان کی اہمیت اور کہیں مختصر سے دورانیے میں ان اہم شخصیات کا فلسفہ زندگی کسی مکالمے میں کھل کر بیان ہو جاتا ہے۔ اگر اصغر صاحب فیض، راشد، انتظار حسین یا اشفاق احمد پر لکھنے بیٹھتے تو ان کے کام اور زندگی پر شاید اتنا واضح تبصرہ نہ کر پاتے جو فیض یا راشد کے آپسی یا آنس کے ساتھ مکالموں سے واضح ہو جاتا ہے۔

یہ تکنیک اردو ناول کے حوالے سے ایک نیا تجربہ بھی ہے اور کہانی کو ہیئت پر فوقیت دینے کا ثبوت بھی۔ کہانی میں مسلسل دو ہی کردار ہیں، جو کہانی بنا بھی رہے ہیں اور سنا بھی۔ کبھی یہ دونوں کردار خود کہانی بن جاتے ہیں اور کہیں کہانی کار۔ دراصل کہانی کار صرف خاتون نہیں بلکہ آنس صاحب خود بھی ہیں۔ جو کہانی اپنی یادداشتوں، تحاریر اور دوستوں کے سہارے چلا رہے ہیں۔

ناول میں تاریخ کے حوالے ہیں، شعراء اور ادبا کے قصے ہیں، سماجی تلخیاں ہیں، دنیا کا سفر ہے، مگر ان سب کے درمیان کہیں بھی کہانی پیچھے نہیں ہوتی بلکہ یہ سب کہانی ہی کے ذریعے کہانی ہی کی زبان اور کرداروں سے بیان ہوتے چلے جاتے ہیں۔ کہانی سنانا ہی اصغر صاحب کا بنیادی مقصد تھا جو ایک روانی میں چلتی چلی جاتی ہے اور ایک ہی بنیادی کردار کے گرد پورے ناول کو جوڑ دیتی ہے۔ باقی کردار حوالہ بن کر آتے ہیں اور چلے جاتی ہیں، کہانی چلتی رہتی ہے۔

ناول کا بنیادی کردار نیورو ڈس آرڈر کا شکار ہے، یہ بات ناول میں ایک جگہ کہی گئی ہے اور اس کے بعد اس کردار کا زمان و مکاں سے نکل جانا اور اس کی زندگی کے واقعات کا الجھ جانا ناول کے لئے ایک پیٹرن بن جاتا ہے۔ آنس اپنی زندگی کے واقعات تو بے ترتیبی سے سنا رہا ہے مگر وہ بے ترتیبی ناول کی ترتیب بن کر ابھری ہے، کیونکہ کئی چھوٹے چھوٹے کردار کی ناول میں انٹری ایک مکمل ترتیب سے ممکن ہوئی ہے۔ ایسے مریضوں کے ساتھ رہنے والے اپنی زندگی میں بھی الجھ جاتے ہیں اور یہاں راوی نے اسی الجھاؤ کا فائدہ اٹھا کر کہانی کو کئی رخ دیے ہیں۔

تاریخ دان ملکوں ملکوں گھومتا ہے، کہیں سیمینار ہیں کہیں کانفرنس، اور پھر وہ ہر جگہ کو یاد کرتے کرتے کئی تاریخی واقعات بیان کر جاتا ہے، جو اسی کہانی کا حصہ بن رہے ہیں۔ تاریخ ایک تو وہ ہے جو تاریخ ہی کی صورت میں لکھی جاتی ہے یا کہیے لکھوائی جاتی ہے، دوسری تاریخ فکشن کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو تاریخ تو نہیں ہوتی نہ ہی اس میں تاریخی واقعات شماریات اور فیکٹس کے ساتھ بیان کیے جاتے ہیں، مگر یہ فکشن تاریخ کے متبادل ایک آواز بن جاتی ہے، جو نہ صرف متبادل بیانیہ کا ساتھ دیتی ہے بلکہ کہیں کہیں یہی متبادل اور حقیقی آواز بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ آواز نہ صرف ہماری اور ہمارے خطے کی سیاسی اور سماجی تاریخ کے حوالے دیتی ہے بلکہ ان کے انسانی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا نوحہ بھی بیان کرتی ہے۔

ملکوں ملکوں کے احوال کے ساتھ کچھ غیر ملکی کردار بھی کہانی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ ان میں سے دو کردار سوزین اور کیتھرین، آنس کو دوران تعلیم باہر کی یونی ورسٹیوں میں ملی ہیں۔ دونوں نہ صرف آنس کی محبوبائیں رہیں ہیں بلکہ دونوں کے ساتھ اس کا تعلق کئی پرتوں میں چھپا ہے، کہانی چلتے چلتے آنس کی اپنی ذات کے کئی پہلو انہیں دونوں کی رفاقت سے کھلتے ہیں۔ آنس اپنی بیوی اور ان دونوں میں فرق بھولنے لگتا ہے تو راوی کو ان دونوں کا معلوم ہوتا ہے۔

پھر ان دونوں کی کھوج کہانی کا ایک اہم پہلو بنتا چلا جاتا ہے۔ ان کی ذات کی جستجو بیوی پر اپنے شوہر کی ذات کے کئی پہلو عیاں کرتی چلی جاتی ہے جو اسے بطور بیوی نہ کبھی معلوم تھے اور نہ معلوم ہو سکتے تھے۔ کئی جگہ یہ بات کئی پہلوؤں سے سامنے آتی ہے کہ بیوی اور شوہر کا تعلق ایک پردے کے اندر ہی ہمیشہ رہتا ہے کہ یہ اس رشتے کی مجبوری ہے اور دونوں فریقین اپنی ذات کا ایک حصہ چھپا ہی رہنے دیتے ہیں۔

ناول میں آنس کا کردار اور کہانی ہی بنیاد ہے مگر بہت سے حقیقی کرداروں کی زندگی کی کہانی کی جو جھلکیاں ملتی ہے وہ ان کرداروں کی زندگی کے پہلو ہیں، جیسے منٹو کی زندگی، انتظار حسین کی زندگی، فیض، شعیب ہاشمی اور بہت سے لوگوں کی داستان حیات کی کئی اقساط۔ اصغر صاحب چاہتے توان کہانیوں کی مدد سے ناول کو طویل کر سکتے تھے کہ یہ کہانیاں بہت طویل ہے اور زندگی کی ہل چل سے بھری پڑی ہیں، کہانی بناتے ہوئے اصغر صاحب نے ان سب شخصیات کی زندگی کے وہ پہلو آنس کی یادداشتوں سے نکالے ہیں جو ناول کی بنیادی ساخت یعنی زمان و مکاں سے آزادی کے ساتھ ان یادوں کو یاد کرتے ہیں۔ یہ واقعات شعوری سطح کے علاوہ کہیں لا شعور اور تحت الشعور میں نہ صرف رک گئے ہیں بلکہ اس کی استدلال بھی غیر شعوری سطح پر ہوئی ہے۔

اختتام پر کیتھی اور آنس کے بیٹے کا کہانی کا حصہ بن کر اسے اختتام پذیر کرنا آنس کی اپنی زندگی کے اختتام پذیر ہونے کا وہ پڑاؤ ہے جس کی شاید کہانی کو ضرورت تھی۔ بیٹا باپ کو رخصت کرنے آیا تھا اور باپ کی رخصتی کئی نئی کہانیوں کو جنم دے رہی تھی۔ کہانی ہی سے کہانی سننے والا سامنے آیا تھا اور اب وہ کہانی سنانے والا سب کہانی کاروں کی طرح کہانی چھوڑ کر رخصت ہو رہا تھا کہ کہانی کار کو تو جانا ہے مگر کہانی باقی رہنی ہے۔

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments