دسمبرسٹ سکوائیر کا’’ دی برونز ہارس مین ‘‘،بے نظیر بھٹو، حبیب جالب اور پُشکن کا ایوگینی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دسمبر سٹ سکوائر پیٹرز برگ جیسے اہم ترین سکوائیر میں جس پہلی چیز نے میری بھرپور توجہ کو کھینچا وہ کانسی کے گھوڑے پر سوار مجسمہ ہے جو کیتھرائن دی گریٹ کی طرف سے اپنے نانا سُسر پیٹر دی گریٹ کو خراج ہے۔ کیتھرائن غیر رُوسی ہونے کی وجہ سے اپنا تعلق رومانوف خاندان سے جوڑنے کی بُہت خواہشمند رہتی تھی۔

جرمنی کی ایک چھوٹی سی ریاست میں پیدا ہونے والی یہ شہزادی بڑی توپ شے تھی۔ ایسی فطین و ذہین کہ نو عمری سے ہی دُنیا کے مفکروں اور دانشوروں کو پڑھتی اور اُن سے متاثر تھی۔روسو اورDiderot سے تو دوستی اور خط و کتابت بھی تھی۔پیٹر سوم سے شادی ہوئی تو آرتھوڈوکس عیسائی بنی۔ بڑی عاشق مزاج ، جی دار اور حُسن پرست تھی۔ جو عاشق تھے وہ بھی بڑے جیالے، بہادر، خوبصورت اور صلاحیتوں سے مالا مال قسم کے لوگ تھے۔ تو بھلا کمزور سا شوہر کِس کھاتے میں تھا۔سولہ سترہ سالوں میں ہی پھڑکا کر اگلے جہان پہنچا دیا۔

ادب، آرٹ اور سائنس کو فروغ دیا۔ پیٹرزبرگ کو دُنیا کا خوبصورت اور مثالی شہر بنایا ۔زبردست قوت فیصلہ اور انتظامی صلاحیتوں کی حامل ملکہ تخت پر بیٹھی تھی اور معاونت کرنے والے بھی بڑے جری اور دلیر لوگ تھے۔

اُنیسویں صدی کے آغاز میں ایک بے حد اہم واقعے نے جنم لیا۔حکمران زار نکولس اول تھا۔سلطنت فوجی ٹولے کے ہاتھوں میں تھی۔شرفاء مملکت کے ایک گروپ نے آزادی اظہار، بنیادی انسانی حقوق اور آئین کی بالادستی کے لئے بغاو ت کر دی۔ تاریخ میں سنائی دینے والی اِس پہلی احتجاجی آواز پر اس کا گلا جس بُری طرح گھونٹا گیا اُس نے تاریخ کے صفحات میں دُکھ اور ملال کے تاثرات بکھیر دئیے۔

میں نے اِس واقعے کی پینٹنگ دیکھی تھی۔ اس وقت وہ منظر فریم سے نکل کر سکوائیر میں مجسم ہو گیا تھا ۔میں دیکھتی تھی یادگار کے پاؤں میں بکھرے احتجاجی تو شایدپندرہ اٹھارہ سو سے زائد نہ ہوں پر گھڑ سوار بندوقوں والے ہزاروں کی تعداد میں میدان کے ہر طرف کیل کانٹوں سے لیس یوں کھڑے تھے کہ جیسے کوئی دم میں جنگ کا طبل بجا چاہتا ہو۔

حبیب جالب بھی کیسے وقت یاد آیا تھا اور وہ پیاری سی لڑکی بھی چھم چھم کرتی جمہوریت اور آئین کی بالادستی کا جھنڈا اُٹھائے سامنے آ گئی تھی اور سکوائر حبیب جالب کی گونج دار آواز سے بھر گیا تھا۔

ڈرتے ہیں بندوقوں والے اِک نہتّی لڑکی سے۔

اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ کس قدر بُزدل ہوتے ہیں کہ سچ کا عَلم تھامے چند لوگوں سے ڈر جاتے ہیں۔

14 دسمبر 1825ء کے بے حد سرد دن جب احتجاج کرنے والے لوگ ’’ دی برونز ہارس مین‘‘کے قدموں میں اکٹھے ہوئے، اُن پر گولی چلی۔پانچ لیڈر اور سینکڑوں لوگ تو وہیں ختم بقیہ گرفتار ہوئے اور سائبیریا کے کالے پانیوں میں پہنچائے گئے ۔ اور یہی وہ لوگ تھے جو دسمبر ی کہلائے ۔ انہی جیسے لوگوں کے لئے پُشکن جیسے شاعر نے انقلابی نظمیں لکھیں اور اس سکوائیر کو دسمبرسٹ سکوائیر کا نام ملا۔

ماحول میں افسردگی کا رچاؤ عود آیا تھا․میں نے گھوڑے کو بغور دیکھا تھا․ میں شاید یہ جاننا اور دیکھنا چاہتی تھی کہ اپنی پُشت پر عہد ساز شخصیت کو بٹھانے کا جو گھمنڈ اُسکے نتھنوں کو پُھلائے ہوئے ہے کیا اسکی آنکھوں میں کہیں اُس احساس، اُس درد کی کوئی ہلکی سی رمق بھی

رقصاں ہے کہ جب بے گناہوں کے خون سے یہ جگہ رنگین ہوئی؟

’’The Bronze Horseman دی برونزہارس مین‘‘ پیٹر دی گریٹ جیسے تخلیق کار کی خوبیوں کے پَرت کھولنے کے ساتھ ساتھ پُشکن جیسے بے مثال شاعر کی لازوال نظم کو بھی اُجاگر کرتا ہے کہ اس کی نظر نے اِسے کِس انداز میں دیکھا اور محسوس کیا۔ نظم کے پسِ منظر میں 1777ء کاخوفناک سیلاب تھا۔

ذرا دیکھیئے نظم کے خیال کو۔

’’ برونزہارس‘‘ کا ایوگینی، دریائے ینوا کی کھاڑی کے کسی جھونپڑے میں رہنے والا مچھیرا،دریا کے منہ زور سیلاب میں اپنے جھونپڑے اور اپنی محبوبہ پر اشا کو کھو بیٹھا تو گھڑ سوار سے یہ پوچھنے چلا آیا کہ تو کیسا شہنشاہ ہے؟ منہ زور پانیوں کے کنارے شہر آباد کرنے سے پہلے تو نے نہ سوچا کہ یہ پانی بھی کبھی کبھی انسانوں کو سبق سکھانے آ دوڑتے ہیں۔ اور جب بھی ایسا ہوگا تو مرنا کِس نے ہے ؟ غریبوں اور ماٹھے لوگوں نے ۔ تیرا کیا ہے؟ تیرے محلوں میں بھرے ہوئے پانی کو تو تیرے جرنیل تیری ایک آواز پر سمیٹنے کے لئے دوڑ پڑیں گے۔ پر ہم جیسے ماڑے لوگ تو برباد ہو جاتے ہیں۔ اب تو مجھے بتا۔ میری

کُٹیا اور میری پراشا جو میرا خواب، میری امید تھی۔ وہ سب تو پانیوں میں بہہ گئے۔

جواب دے مجھے۔ آدھے جہاں کے مالک و وارث! تجھے اُس آگ کا کچھ اندازہ بھی ہے جو میرے سینے میں جل رہی ہے؟ ‘‘

اُس نے سر کو چبوترے پر پٹخا پھر اُٹھایا۔ مجسمے کو دیکھا اور طنز سے بولا۔

’’بڑا آیا عمارتیں بنوانے والا ۔ نیا شہر بسانے والا اور تاریخ میں اپنا نام لکھوانے والا۔‘‘

اُس نے گھڑ سوار کو بس اتنا ہی تو کہا تھا۔ اتنا سا گلہ ہی تو کیا تھا پر اُسے لگا جیسے گھڑ سوار کی آنکھوں میں غُصے کی چنگاریاں پھوٹ پڑی ہیں ۔زمین سنسنانے لگی ہے اور گھوڑا اس پر چڑھ دوڑنے والا ہو۔ ایوگینی خوف اور دہشت سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اُسے لگا جیسے گھوڑے کی ٹاپیں سڑک کا سینہ کوٹتے ہوئے اُس تک پہنچ کر اُس کا سر کُچل دیں گی۔

آہ !ایوگینی بیچارہ،یو ں ہی بھاگتا پھرا اور ایک دن اپنی کُٹیا میں مر گیا۔

میں نے ایک بار پھر گھڑ سوار کو دیکھا تھا اس کے چہرے اور ہاتھ کو بھی ۔سچی بات ہے کہ میں ایوگینی کی طرح بھاگی نہیں پر بہت سارے سوالوں کی زد میں تھی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments