ایام سردی میں گلگت بلتستان کی سیاحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسان نے آنکھ کھولتے ہی قدرت کی پیدا کردہ خوبصورت کائنات اور عجیب العجائب دنیاؤں سے لطف اندوز ہونا سیکھا ہے کیونکہ حقیقتاً کائنات اپنے اصل کے اعتبار سے بے حد نرالی اور مزیں و صاف ہے، یعنی کہ یہ نوع انسانی اور تمام جانداروں کی ضروریات حیات سے بھر پور کائنات ہے جسے آج کی اصطلاح میں مبنی بر ضرورت کائنات کہتے ہیں یعنی custom made universe۔ یوں تو اس جہاں میں سیر و سیاحت کے لئے سفر کرنے والوں کی تعداد کثرت سے پائی جاتی ہیں اور یہ سفر قدیم انساں سے جدید انساں تک تسلسل سے چلا آ ر ہا ہے، یہاں تک کہ جب سہولیات سفر کی فراوانی ہونے لگی تو انسان اس زمینی دنیا سے نکل کو آسمانی دنیا میں کمند ڈالنے لگے اور اپنا رخ سفر نیلی آسماں سے اوپر کی جانب کرنے لگے، حال ہی میں روسی فلم میکر اداکارہ اور ڈائریکٹر چاند اور مریخ پر فلم (The Challenge) کی عکس بندی کے لئے بین الاقوامی ٹھکانہ خلا (International Space Station) پر بارہ دن گزار کے آئے ہیں۔ کہنے کا مقصد اتنا ہے کہ کہ جدید دور کی سہولیات سے استفادہ کر کے انساں کی سیاحت اور سفر کہاں سے کہاں تک ہو سکتی ہے!

آج کے دور میں سیاحت اور سفر کا رجحان سردیوں کے ایام میں بھی باقی رہتا ہے۔ سیاحوں کی کثیر تعداد موسم شتاء (سرد) میں بھی مختلف ممالک کا دورہ کرتی ہیں۔ اس سفر کے لئے شرط اول یہ ہے کہ جہاں سفر ہو رہا ہے وہاں حکومت کی جانب سے موسم کے بہ نسبت جدید سہولیات کو وافر مقدار میں مہیا کی جائیں۔ ان سب سہولیات میں سب سے اہم ایندھن کا ہونا ہے کیونکہ سردیوں میں آگ جلائے بغیر سخت سرد علاقوں میں سفر کے آنا اور ٹھہرنا ممکن نہیں۔

آج بھی سیاحت کے لوگ انٹارکٹیکا جاتے ہیں جہاں درجہ حرارت آج کل منفی 40 سے منفی  52 سینٹی گریڈ رہتا ہے۔ یہاں حکومت کے بہتر انتظامات کی وجہ سے امیر طبقہ کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی سرد علاقوں میں سالہا سال سیاحت کے دروازے کھلے ہوتے ہیں۔ اور ہمارے ہاں آج کل گلگت بلتستان کا درجہ حرارت کم و بیشC 11۔ ہے۔ تو سردیوں میں یہاں سیاحت کا رجحان کیوں نہیں ہے۔ اب جبکہ مری کے علاقے میں، سردیوں میں رش لگا رہتا ہے جو اسلام آباد سے دو ڈھائی گھنٹے کی مسافت پہ ہے تو گلگت بلتستان میں کیونکر ممکن نہیں ہو سکتا جبکہ اب اسکردو ائر پورٹ انٹرنیشنل ہوائی اڈہ کا درجہ پا گیا ہے۔

موقع کو غنیمت جان کر یہاں سیاحت کے ضمن میں یہاں ضلع غذر کے متعلق کچھ عمومی یاداشت رقم کی جاتی ہے، کیونکہ یہ علاقہ بھی مثل فردوس بریں ہے۔ ضلع غذر میں پانچ تحصیلیں ہیں : گاہکوچ، گوپس، اشکومن، پونیال، یسین، گاہکوچ اس کا انتظامی ہیڈکواٹر ہے۔ ضلع گلگت سے گاہکوچ تک تقریباً 72 کلومیٹر کا سفر ہے۔ شندور پاس کے ذریعے ضلع غذر کا رابطہ چترال سے ہوتا ہے، آج بھی لوگ شاذونادر اس راستے سے چترال جاتے ہیں، اہم بات یہ ہے کہ ضلع غذر کے کئی مقامات پہ چترال کے لوگ آج بھی آباد ہیں۔ چترال کے علاوہ دیگر علاقوں کے لوگ بھی متفرق جگہوں پہ آباد ہیں۔

جہاں چترال کی خوبصورتی مشہور ہے وہیں غذر اس کے مماثل نہیں تو خوبصورتی میں کہیں کم بھی نہیں! اس کا اندازہ غذر دیکھنے والے ہی کو ہو سکتا ہے۔ ضلع غذر سے متصل ایک اہم باڈر واخاں ہے، گاہکوچ سے واخاں باڈر کے ذریعے افغانستان جایا جا سکتا ہے اور یہ مسافت تقریباً 50 کلومیٹر ہے، اس سے متصل دوسرا باڈر تاجکستان ہے ایک اور سنگم پہ چین کی سرحد بھی واخاں باڈر سے ملا ہوا ہے۔ ضلع گلگت کے علاقہ بسین کے بعد ہینزل، پھر سید آباد تھینگی، شروٹ تھینگی جہاں سے گاہکوچ تک 45 کلومیٹر کا دورانیہ ہے۔ شروٹ کے دائیں جانب بارگو کا گاؤں ہے، جو ہریالی اور سرسبز جنگل دکھائی دیتا ہے۔ خاص کر پہاڑوں کے درمیان دریا کے بالکل قریب اس کی خوبصورتی لاجواب ہے۔ پھر شکیوٹ کی ٹھنڈی دریائی ہوائیں آپ کی سلامی کے موجود ہوتی ہیں۔

اس کے بعد پولیس چیک پوسٹ کراس کر کے ضلع غذر کے حدود کی ابتداء ہوتی ہے۔ محلہ بیارچی ضلع غذر کا پہلا گاؤں ہے، گلگت کے سمت سے۔ اس کے بعد کچھ معروف علاقے جس کا دوران سفر گزر ہوتا ہے وہ یہ ہیں۔ محلہ تھول گلاپور، گلاپور، محلہ موس گلاپور کے دائیں جانب شیر قلعہ ہے، جہاں ایک زمانے میں راجہ رہا کرتا تھا۔ اس کے آثار آج بھی باقی ہیں۔ اس کے بعد دلناٹی کا اناروں سے بھرپور علاقہ بالکل راستہ میں موجود ہے۔ گوہرآباد، چپوکے، گیچ، سنگل، گلمتی کے دائیں جانب بوربر ہے اس کے بعد گرونچر ہے۔ اس کے بعد فوراً گاہکوچ کے درختوں سے بھرپور سرزمین آپ کے ویلکم کے لیے موجود ہوتی ہے جو آپ کو ان الفاظ میں ملے گا:

Welcome to the land of lakes!

گاہکوچ کو دیکھتے ہی ضلع گانگ چھے کی یاد آنے لگتی ہے اس لیے کہ گانگچھے کی علاقائی شکل سے گاہکوچ بالکل مماثلت رکھتی ہے۔ گاہکوچ میں ہوپر پکنک پوائنٹ دیکھنا کبھی نہ بولیں، خاص کر درختوں کے اوپر چھوٹا کمرہ نما ٹھہر نے کی جگہ بنے ہوئے ہیں، جن کو ٖ فقط درخت سہارے دیے ہوئے ہیں، اور ہاں یہاں کی تازہ ہوا اور ٹھنڈا پانی بیماریوں اور ٹینشنز کو لمحہ بر میں ختم کرتی ہیں۔

گاہکوچ کے مین آر سی سی پل کے دائیں جانب آپ سفر کریں گے تو ان علاقوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ دماسہ، ہاتون۔ ہاتون کا رقبہ غذر میں سب زیادہ ہے جو تقریباً 13 کلومیٹر ہے۔ ادھر بھی نیلے آسماں سے محو کلام ہوتے ہوئے بلند و بالا سنگلاخ پہاڑ، برف کے سفید لباس میں ملبوس پہاڑوں کی حسن و جمال کا کیا کہنا!

درمیان میں آباد علاقے جن کی خوبصورتی بے مثال ہے، ہاسس کے علاقے کی زرخیز زمینوں کے درمیان آباد لوگوں کے حوالہ سے مشہور ہے کہ غذر کے امیر ترین لوگ یہاں آباد ہیں۔ خاص کر ہاسس کے انار کے باغات اس علاقے کی شان کو اور بڑھاتا ہے۔ ایک عوامی معروف واقعہ ہے کہ جب غذر میں قحط پڑا کسی زمانہ میں تو تونگر اور ہاسس نے اس قحط الطعام کو کم کرنے میں بڑی مدد دی۔ فمانی میں کئی فش فارمز ہیں۔ ان میں خاص مچھلی ٹراؤٹ ہے جو کثرت سے پائی جاتی ہے۔

دریا کے پار پل گلوداس کا علاقہ ہے۔ اور اس کے سامنے والا گاؤں دماس ہے۔ اس کے بعد چٹور کھنڈ کا علاقہ آتا ہے جہاں سے سابق گورنر پیر کرم علی شاہ مرحوم کا تعلق ہے۔ البتہ یہاں کی کچی سڑکیں پیر صاحب سے دست سؤال ہیں کہ آج تک ان بے ڈھنگ سڑکوں کا پرسان حال نہیں اور عوام کی پریشانی ابھی بھی برقرار ہے۔ امید ہے ان کی آل اولاد اس کمی کو پورا کریں گے۔ اس کے بعد چنار، اشکومن، پکورہ، شونس، گشگش، ڈوک، بارجنگل، ایمت، بلہنجی،  ادھر بلہنجی کا آلو بہت معروف ہے، اس دفعہ آلو زیر کاشت تھا اور فصل پکنے میں کافی وقت درکار تھا اس لیے ہم اسے دیکھ نہ سکے، مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک آلو کا وزن تقریباً ایک سے دو کلو تربوز یا اس سے بھی کافی زیادہ وزنی ہوتا ہے۔

ہمارا آخری سٹیشن برصوات جھیل تھا، اس سے ہماری واپسی ہوئی۔ 2017 ء کے شدید طوفانی بارشوں اور مسلسل گلیشیرز کے پگھلنے کی وجہ سے جو خطرناک لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اس سے یہ جھیل قدرتی طور پہ وجود میں آئی، اس جھیل میں بھی کئی گھر غرق ہوئے البتہ اللہ کے فضل سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

یاد رکھے غذر کی اتنی زیادہ علاقائی خوبصورتی کو دیکھ اللہ کے حسن جمال کا خیال بار بار دل و دماغ میں اضافی طور پہ راسخ اور پیوست ہوتا جاتا ہے۔ اللہ کی یہ تمام آیات اور نشانیاں انسان کو اس کی معرفت کے قریب کرتی ہیں، اگر معمولی تعقل اور تفکر سے ان مقامات کا سفر کریں۔

شومئی قسمت کہ غذر میں ہماری مہمان نوازی غذر کے کسی دوست کے ذریعے نہ ہوئی، البتہ چلاس کے ایک مخلص دوست اقرار الحق قریشی اور ان کے والد محترم ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن جمعہ سعید نے خوب میزبانی کی، جن کا تہہ دل سے شکریہ۔ (معلومات میں کمی بیشی ہو تو درستگی مطلوب ہے )


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نجم الدین ہمدانی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments