ہدایت کار پرویز ملک: کامیابی ہمیشہ جن کی تلاش میں رہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میزبان نے ان سے پانچواں یا چھٹا سوال ہی کیا تھا جب یہ محسوس ہونے لگا کہ اس انٹرویو کے لئے سوالات کم پڑ جائیں گے۔ ان کی گفتگو میں اس قدر، روانی، شستگی اور جواب دہی میں اتنی جامعیت اور سلاست تھی کہ اچھے مکالمے کی تمام تر خصوصیات، جیسے ظاہر ہونے لگی ہوں۔ ہر سوال کا برجستگی کے ساتھ برملا جواب، اور وہ بھی نہایت شائستگی اور ٹھہراؤ میں لپٹا ہوا۔ ( ان سے قبل آنے والے مہمانوں سے کم وبیش اتنے ہی سوالات پوچھے جاتے تھے اور کبھی یہ صورت حال پیش نہیں آئی کہ سوالات کم ہونے کا احساس ہوا ہو۔ )

اور وہی ہوا کہ ان کی رواں گفتگو کے آگے، طے شدہ ( ممکنہ ) تمام سوالات توقع سے پہلے ڈھیر ہونے لگے اور اس ایمرجنسی کی کیفیت میں کہ مہمان کو کسی تاخیر کا تاثر نہ ملے، نئے سوالات، ان کی گفتگو کے دوران، جس قدر ممکن تھے، تیار ہوئے اور میزبان کے حوالے کیے جاتے رہے تاکہ گفتگو کا ربط، تسلسل سے برقرار رہے۔ ہمارے ہاں گفتگو کا یہ قرینہ، عنقا ہے کہ بات مختصر اور مرکوز ہو اور یہی مختلف اور کمیاب خوبی یہاں نمایاں تھی جس کی وجہ سے سب کچھ غیر معمولی ہوا۔

الیکٹرانک میڈیا سے آن ائر کی جانے والی گفتگو کا محور چوں کہ مدعو کی جانے والی شخصیت خود ہوتی ہے اس لئے ان سے سوالات مقررہ وقت میں، مخصوص دائرے میں رہ کر ہی کیے جا سکتے ہیں اور غالباً کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں بہت سے غیر متعلق پہلووں سے صرف نظر کی جاتی ہے جو کسی بھی مشہور شخصیت سے مل کر، ان کا نقطہ نظر جاننے کی خواہش میں، ذہن خود بہ خود اکساتا ہے۔ اسی لیے عام طور پر ایسی شخصیات سے آف ائر کی گئی باتیں جنہیں آن ائر نہیں جانا ہوتا، زیادہ دلچسپ، معلومات افزا اور مہمان کی شخصیت کو زیادہ اجاگر کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہاں بھی یہی ہوا۔ انٹرویو سے پہلے اور انٹرویو کے بعد ، ایک ایسی شخصیت سے جس کو فلم انڈسٹری میں کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور جس کا ٹریک ریکارڈ پاکستان کے تمام فلم ڈائریکٹرز میں سب سے منفرد اور مثالی ہو، مزید سے مزید جاننے کا تجسس کم نہ ہوتا تھا۔

ان سے جب ان کی سب سے مختلف فلم سوغات کے بارے میں بات چیت ہوئی جسے بلا شبہ اس وقت کی آرٹ فلم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس فلم میں ایک شاعر کی بپتا بیان کی گئی تھی۔ جس سے ایک فلم بین کے ذہن میں فطری طور پر یہ خیال آ سکتا تھا کہ کیا یہ گرو دت کی، شاعر کی زندگی پر بنائی گئی شہرہ آفاق فلم پیاسا سے متاثر تھی۔ انھوں نے اس تاثر کی تردید کی اور وضاحت میں بتایا کہ اس فلم کا سکرپٹ، فرانسیسی کہانی سے لیا گیا تھا۔ انھوں نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ اس فرانسیسی کہانی میں ہیرو کی ناک لمبی بتائی گئی تھی۔

شاید کاسٹنگ کرتے ہوئے، انھوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہ بات ہمارے ذہنوں میں تھی اس لیے اس کردار کے لئے فوری طور پر اداکار ندیم کا خیال آیا۔ ان کی توجہ جب اس فلم کے ایک نغمے کی طرف دلائی گئی جسے احمد رشدی نے گایا تھا ”تم ہی کو مبارک رہے دوستو، مجھے ایسی دنیا نہیں چاہیے“ ، جسے سن کر محمد رفیع کا وہ گانا یاد آ جاتا ہے، ”یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے“ ۔ اس پر انھوں نے اپنے مخصوص شائستہ لہجے میں کہا کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس فلم کے شاعر مسرور انور، ضرور فلم پیاسا سے متاثر تھے۔

سقوط ڈھاکہ کے بعد ان کی فلموں میں اصلاحی پہلو زیادہ نمایاں نظر تا ہے۔ مثلاً فلم پہچان ( اللہ ہی اللہ کیا کرو ) سچائی ( ہیرا پھیری کرنا اپنا کام ہے ) دشمن ( ہر دھڑکن میں جاگ اٹھا ہے ایک نیا پیغام ) انتخاب ( جگ میں جو کرتا ہے اچھے اچھے کام ) انمول ( دکھ جھیلیں بی فاختہ اور کسی انڈے کھائیں ) وغیرہ۔

انھوں نے اپنی فلموں کے موضوعات اور ٹریٹمنٹ کے حوالے سے اس تاثر سے پوری طرح اتفاق کیا اور اسے بدلتے حالات کا تقاضا اور تخلیقی افراد کی ذمہ داری قرار دیا۔ اس طرح اس عظیم سانحے کے بعد ، ان کی فلموں میں شعوری طور پر کوئی ایسی فکر انگیز بات لازما ”شامل کی گئی جو معاشرے کی بہتری میں نشان راہ ہو سکتی ہو۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا کہ انھوں نے مارکیٹ کے رجحانات کو عام طور پر خاطر میں نہ لاتے ہوئے، اپنی فلموں میں حقیقت پسندانہ رویے کو ترجیح دی۔ اس بارے میں انھوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی ایک فلم کے پریمیئر میں انھیں یہ مشورہ دیا گیا کہ آپ نے فلم کے ویلن کو زندہ رہنے دیا ہے جبکہ ہمارے فلم بین، ویلن کا برا انجام ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس ہم دردانہ مشورے کے باوجود اس فلم میں یہ تبدیلی نہیں کی گئی کیوں کہ اس کردار کا منطقی تقاضا تھا کہ اسے، اسی انجام سے دوچار کیا جائے۔ اس تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے فلم کی کامیابی متاثر ہوئی، مگر ان کے لئے، حقیقت پسندانہ انتخاب ہی قابل ترجیح تھا۔

فلم انڈسٹری کی تب کی تباہ ناک صورت حال کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ایک فائنانسر میرے پاس فلم بنوانے کے لئے آئے اور اس فلم کے لئے انھوں نے یہ انوکھی ( اور ناقابل یقین ) خواہش ظاہر کی کہ میری لئے آپ جو فلم بنائیں، اس میں کہانی نہ ہو کیوں کہ اس کے لئے ان کا دلچسپ استدلال یہ تھا کہ کہانی سے فلم کا ٹیمپو متاثر ہوتا ہے۔

اب یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ ارمان، دوراہا، میرے ہم سفر، پہچان، انتخاب، سچائی، تلاش، قربانی، پاکیزہ، مہمان، کامیابی، گمنام اور اس قبیل کی نہ ختم ہونے والی کامیاب فلموں کی اس طویل فہرست جیسے شاہکار بنانے والے برد بار اور سنجیدہ تخلیق کار کے لئے وہ ماحول کس قدر اذیت ناک اور ناقابل برداشت بن چکا ہو گا۔

ارمان کے ہدایت کار سے ارمان کے ہیرو کا اور ارمان کے ہیرو سے ارمان کے ہدایت کار کا نہ پوچھا جائے، بھلا یہ کیسے ممکن ہے۔ دوستوں کے اس گروپ کے حوالے سے انھوں نے اپنا نقطہ نظر یوں پیش کیا کہ ہم نے ہیرو کو یہ دلیل دی کہ جب انھیں مختلف ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کی آزادی ہے تو گروپ کے دوسرے افراد کو بھی مختلف ہیرو کے ساتھ اشتراک کا موقع ملنا چاہیے۔ اس طرح دوستوں کا یہ گروپ، گروپ سے ہٹ کر انفرادی سطح پر کام کرنے لگا۔ یہاں انھوں نے اس بات کا نہایت صاف گوئی سے اعتراف کیا کہ اس فیصلے کے بعد وحید مراد نے کبھی ان سے اس خواہش کا اظہار ر نہیں کیا کہ انھیں فلم میں لیا جائے۔

انھوں نے مزید یہ بتایا کہ جب وحید مراد کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ ان کی عیادت کے لئے ہسپتال گئے تب انھوں نے اپنے دیرینہ ساتھی سے پہلی بار یہ خواہش کی کہ انھیں فلم میں لیا جائے مگر یہ خواہش اس لئے حقیقت کا روپ نہ دھار سکی کہ ان کی زندگی نے پھر وفا نہ کی۔

پرویز ملک کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ وہ پاکستان فلم انڈسٹری کے وہ ہدایت کار تھے جن کی فلموں کی ( عوامی سطح پر ) بے پناہ مقبولیت، ( ناقدین کی نظر میں ) بے حد پسندیدگی اور ( تجارتی اعتبار سے ) زبردست پذیرائی کو دیکھتے ہوئے، بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ کامیابی انھیں خود تلاش کرتی تھی!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments