ڈینگی وائرس سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ڈینگی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کراچی سے خیبر تک ملک بھر میں ڈینگی نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں نئے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ ڈینگی کی زیادہ تعداد پنجاب میں رپورٹ ہو رہی ہے۔ ڈینگی وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد خطرے کی علامت ہے۔

ڈینگی کیا ہے؟ اس کی علامات کیا ہیں؟ اس کے کیسز پھر سے کیوں بڑھ رہے ہیں؟ روک تھام کیسے ممکن ہے؟

ڈینگی ایک وائرس ہے جو خاص قسم کے مچھروں سے پھیلتا ہے۔ ڈینگی ایک خاص قسم کے وائرس سے پھیلتا ہے جو کہ مچھروں میں موجود ہوتا ہے۔ یہ تقریباً دنیا بھر میں پھیلا ہوا ہے۔ ڈینگی سنگین بخار ہوتا ہے اور موت کا سبب بھی بنتا ہے۔ ڈینگی ایک مخصوص مادہ مچھر ایڈیس ایجپٹائی (Aedes Aegypti) کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ اس مچھر کے جسم پر دھبے ہوتے ہیں اور یہ مون سون کی بارشوں کے بعد نمودار ہوتا ہے۔ مادہ مچھر خود ڈینگی وائرس سے متاثر ہوتی ہیں اور اس وائرس کو انسانی خون میں منتقل کرتی ہیں۔

ڈینگی وائرس ستمبر سے دسمبر تک پھیلتا ہے۔ نر سے ملاپ کے بعد مادہ کو انڈے دینے کے لیے پروٹین کی ضرورت پڑتی ہے اور وہ یہ پروٹین حاصل کرنے کے لیے انسانی خون چوستی ہے جس سے ڈینگی کا انفیکشن پھیلتا ہے۔ دنیا میں ہر سال 40 کروڑ سے زیادہ افراد اس انفیکشن کا شکار ہوتے ہیں۔ ڈینگی وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل نہیں ہوتا۔ مگر جو مچھر ڈینگی سے متاثرہ شخص کو کاٹ لے تو اس وائرس کا ویکٹر بن جاتا ہے اور وائرس کو آگے منتقل کرنے کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس کی علامات میں تیز بخار جسم میں شدید درد خصوصاً کمر درد، سر درد اور ٹانگوں میں شدید درد شامل ہیں۔ کمزوری کا احساس، ٹانگوں اور جوڑوں میں درد، سر درد، منہ کا ذائقہ تبدیل ہونا، چہرے کا رنگ سرخ پڑ جانا یا پھر جسم کے بعض اعضاء کا گلابی پڑ جانا اور سردی لگنا شامل ہیں۔ اس کو ’بریک بون فیور‘ کہتے ہیں کیونکہ اس بیماری کے مریض کی ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے جیسے ہڈیاں ٹوٹ گئی ہوں۔ اس کے مریض کو متلی اور قے کی شکایت ہوتی ہے، جسم پر سرخ نشان پڑ جاتے ہیں اور اس کے مسوڑھوں یا ناک سے خون بھی آ سکتا ہے۔

یہ علامات عموماً تین سے چار دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔ بعض مریضوں میں یہ علامات انتہائی معمولی ہوتی ہیں۔ علامات ظاہر ہونے یا شبے کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈینگی وائرس کی تصدیق کے لئے این ایس ون ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ ڈینگی سے متاثرہ شخص کے جسم میں پلیٹلیٹس کی تعداد غیر معمولی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ یاد رہے ڈینگی جان لیوا مرض ہے غفلت برتنے کی صورت میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ پنجاب میں خصوصاً لاہور ہیں ڈینگی وائرس کے مریضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ سروے کے مطابق لاہور کے 74 ہزار گھروں سے ڈینگی پھیلانے والے مچھر کے لاوے پائے گئے ہیں۔

ڈینگی ستمبر سے دسمبر میں زیادہ پھیلتا ہے اس دوران خاص احتیاط اختیار کریں۔ ڈینگی وائرس سے بچاؤ کے لئے ابھی تک کوئی ویکسین نہیں بنائی گئی لیکن احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس موذی مرض سے بچا جا سکتا ہے۔ ڈینگی وائرس مچھروں کے کاٹنے سے پھیلتا ہے اور یہ مچھر کھڑے صاف پانی میں اپنی افزائش کرتے ہیں۔ ان مچھروں کی افزائش کو روکنے کے لئے پانی کو گھروں میں کھڑا نا ہونے دیں۔ گملوں ٹائروں ٹوٹے پھوٹے برتنوں کیاریوں وغیرہ میں پانی کھڑا نا ہونے دیں۔

مکمل آستینوں والے کپڑے پہنیں۔ جسم کو ڈھانپ کر رکھیں۔ موسکیٹو ریپیلنٹس کا استعمال کریں۔ کمروں میں مچھروں والا اسپرے کریں۔ مچھروں کی آمدو رفت کو روکیں۔ خصوصاً شام کے وقت کھڑکیاں بند رکھیں۔ مچھر دانی استعمال کریں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments