پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: انتخابی اصلاحات ترمیمی بل منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ویب ڈیسک — پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات سے متعلق متنازع ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا ہے۔

اس بل کی منظوری سے آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دیا گیا ہے۔

بدھ کو ہونے والے اجلاس میں مشترکہ ایوان نے کثرت رائے سے مجموعی طور پر 33 قانونی بلوں کی منظوری دی گئی جن میں سے ایجنڈا پر موجود 29 بلوں کے علاوہ چار بل سپلیمنٹری ایجنڈے کے طور پر ایوان میں پیش کیے گئے۔

منظور ہونے والے بلوں میں انتخابات میں رائے شماری کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال سے متعلق ترمیمی بل اور انتخابی ترمیمی بل 2021 شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ کے نمائندے علی فرقان کے مطابق انتخابی ترمیمی بل کے تحت 2017 کے الیکشن ایکٹ میں ترامیم کرتے ہوئے ووٹنگ کے لیے الیکٹرانک مشینوں کے استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کے ذریعے ووٹ کا حق دیا گیا ہے۔

انتخابی اصلاحات سے متعلق قانون سازی کے علاوہ کلبھوشن جادھو کیس سے متعلق عالمی عدالت انصاف میں نظرِ ثانی کا بل 2021 بھی ایوان سے منظور کیا گیا ہے۔

حکومت نے اینٹی ریپ بل 2021 اور مسلم فیملی لا کے دو بل بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے تھے جنہیں ایوان سے منظور کر لیا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک پاکستان بینکنگ سروسز کارپورشن ترمیمی بل 2021 بھی حکومت کو مشترکہ اجلاس سے منظور کرانے میں کامیابی ملی۔

مجوزہ بل کے مطابق اسٹیٹ بینک کے گورنر، ڈپٹی گورنرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز کے خلاف کوئی حکومتی ادارہ سرکاری ذمہ داریوں کے سلسلے میں کسی قسم کی تحقیقات صرف تب ہی کر سکے گا جب اسٹیٹ بینک کا بورڈ خود اس کی منظوری دے گا اور گورنر اسٹیٹ بینک کو صرف کوئی عدالت سنگین خلاف ورزی کی صورت میں ہٹا سکے گی۔​

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں انسدادِ جنسی زیادتی تحقیقات اور ٹرائل کا بل بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

بلوں کی منظوری پر متحدہ اپوزیشن نے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کر دیا اور کئی اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

قائدِ حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں کے ہمراہ پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

اُں کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال دنیا میں ترک کیا جا رہا ہے، لیکن پاکستان میں اسے ہمارے اُوپر مسلط کیا جا رہا ہے۔

شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی پر جانب داری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اُنہوں نے ایوان کی کارروائی کو بلڈوز کرتے ہوئے ان بلز کی منظوری کی راہ ہموار کرائی۔

متحدہ اپوزیشن نے الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگر بلز کو عدالت میں چیلنج کرنے کا بھی اعلان کیا۔

بدھ کو پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کے مشیر برائے پارلیمانی اُمور بابر اعوان نے انتخابی اصلاحات ترمیمی بل کی تحریک پیش کی جسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔

تحریک کے حق میں 221 جب کہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے جس کے بعد اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود شق وار بلز منظور کرا لیے گئے۔

اس سے قبل اسپیکر اسد قیصر کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ایک گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہوا۔

اسپیکر اسد قیصر کی اجازت سے قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے حکومت اور حکومت کی جانب سے لائے جانے والے قوانین پر شدید تنقید کی۔

شہباز شریف نے اسپیکر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کالے قوانین منظور کرانا چاہتی ہے۔ اگر آج آپ نے انہیں منظور ہونے دیا تو پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس کی ذمے داری حکومت اور اسپیکر پر ہو گی۔

قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف (فائل فوٹو)
قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف (فائل فوٹو)

اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اجلاس کو مؤخر کر دیں اور حکومت کی جانب سے لائے جانے والے قانونی بلوں پر مشاورت کریں۔

‘چاہتے ہیں آئندہ انتخابات میں دھاندلی کا دھبہ نہ لگے’

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایسی قانون سازی کرنی چاہیے جس کے بعد کسی کو انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگانے کا موقع نہ ملے۔

اُن کا کہنا تھا ہم کالا قانون مسلط نہیں کرنا چاہتے بلکہ ماضی کی کالک صاف کرنا چاہتے ہیں اور اگر ہمارے پاس عددی اکثریت نہ ہوتی تو پارلیمنٹ کا اجلاس نہ بلاتے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) ‘ایول ڈیزائن’ کا راستہ روکنے کے لیے لائی جا رہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر حزبِ اختلاف چاہتی ہے کہ ووٹ کو چوری ہونے سے بچانا ہے تو مجوزہ بلز کی حمایت کرے۔

بلاول بھٹو زرداری کی تقریر سے قبل اسپیکر اسد قیصر اور پیپلزپارٹی کے رُکن اسمبلی عبد القادر مندوخیل کے درمیان تلخی کلامی ہوئی جس پر اسپیکر نے اُنہیں تنبیہ کی کہ وہ انہیں ایوان سے باہر نکال دیں گے۔

اسپیکر کا کہنا تھا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو بات کرنے کا موقع دے رہے ہیں البتہ پھر بھی ان سے بدتمیزی کیوں کی جا رہی ہے۔

‘الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے خلاف عدالت جائیں گے’

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر حکومت نے عددی اکثریت کی بنیاد پر متنازع بل منظور کرائے تو پیپلز پارٹی عدالت سے رُجوع کرے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر انتخابی اصلاحات کا بل منظور ہوا تو پیپلز پارٹی اس کے تحت ہونے والے آئندہ انتخابات کے نتائج بھی تسلیم نہیں کرے گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ حکومت بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کو ریلیف دینے کے لیے متنازع بل لا رہی ہے۔ اگر حکومت نے ریلیف دینا ہے تو پاکستان کے عوام کو دے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ ہم حکومت کو اس ایوان کا استعمال کر کے کلبھوشن کو ریلیف دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔

‘کھلاڑی ہر چیز کے لیے تیار ہوتا ہے’

پارلیمنٹ آمد کے موقع پر وزیرِ اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کھلاڑی جب میدان میں چلتا ہے تو ہر چیز کے لیے تیار ہوتا ہے۔ گراؤنڈ میں موجود کھلاڑی کہتا ہے کہ جو مخالفت کرے گا میں اس سے بہتر کروں گا۔

ایک صحافی نے وزیرِ اعظم سے سوال کیا کہ آپ اتنی ملاقاتیں کر رہے ہیں، کوئی پریشانی تو نہیں؟ اس پر عمران خان نے صحافی سے ہی سوال کیا کہ کون ملاقاتیں کر رہا ہے۔

وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا قانون پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانے کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔

مشترکہ اجلاس کے دوران حیدر آباد انسٹیٹیوٹ فار ٹیکنیکل اینڈ مینیجمنٹ سائنسز کے قیام، خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی زیادتی کی روک تھام سے متعلق کریمنل لا ترمیمی بل اور بچوں کی جسمانی سزا کے تدارک کا بل بھی منظور کر لیا گیا ہے۔

حکومت نے گزشتہ ہفتے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے انتخابی اصلاحات کے بل کو منظور کرانے کا فیصلہ کیا تھا جس پر اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق) اور متحدہ قومی موومنٹ نے اعلانیہ اعتراضات کا اظہار کیا تھا۔

اتحادی جماعتوں نے انتخابی اصلاحات اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال سے متعلق بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت بلوں کی منظوری کے لیے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس چاہتی تھی لیکن اتحادیوں کے تحفظات سامنے آنے کے بعد حکومت نے اس اجلاس کو ملتوی کر دیا تھا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3138 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments