بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر مہاجرین کا بحران آخر ہے کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نومبر مہینے کے اوائل میں یہ خبریں آنا شروع ہوئی کہ بیلاروس سے ملحقہ سرحد پر بڑی تعداد میں پناہ گزین جمع ہو رہے ہیں جو یورپی یونین کے رکن پولینڈ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شدید سردی کے موسم میں ہزاروں افراد جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں سرحد پر جمع ہیں جن میں سے کئی لوگ شدید سردی کی وجہ سے موت کے منھ میں جا چکے ہیں۔ اب تک دس اموات رپورٹ ہو چکی ہے۔ سخت سردی میں سرحد پر پھنسے ہوئے مہاجرین کے حالات انتہائی ابتر ہیں اور سخت موسم میں تارکین وطن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ بیلاروس کا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے کیمپ میں تقریباً 2000 افراد موجود ہیں جن میں حاملہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جب کہ پولینڈ کا کہنا ہے کہ سرحد پر 3000 سے 4000 کے درمیان تارکین وطن موجود ہیں۔

اس وقت دونوں ممالک کی سرحد پر پناہ گزینوں کی موجودگی سے ایک بحران جنم لے چکا ہے جس کی شدت میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بیلا روس میں سرحد پر جمع مہاجرین نے کئی مرتبہ بارڈر عبور کر کے یورپی یونین میں داخل ہونے کے لیے سرحد پر نصب خاردار باڑ کو کاٹنے کو جو کوشش کی، جسے پولینڈ بارڈر سیکورٹی فورس نے ناکام بنا دیا۔ یورپین یونین سمجھتی ہے کہ بیلاروس یہ سب کچھ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سے توجہ ہٹانے کی کوشش میں کر رہا ہے۔

یورپی یونین نے بیلاروس پر مزید پابندیوں کا عندیہ دیا ہے جس کے ردعمل میں بیلاروس نے یورپ کو جانے والی گیس کو بند کرنے کی دھمکی دی ہے۔ روس سے یورپ آنے والی کئی گیس پائپ لائنز بیلاروس سے گزرتی ہیں۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کہا ہے کہ اگر یورپ نے ان پر مزید پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی تو وہ اس کا جواب دیں گے۔ یورپی یونین بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو پر الزام عائد کر رہی ہے کہ وہ یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے رد عمل میں پناہ گزینوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ صدر لوکاشینکو نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ پولینڈ کی حکومت نے سرحد کی صورتحال پر ایک ہنگامی اجلاس کے بعد وہاں 12 ہزار اضافی فوجی تعینات کر دیے ہیں۔ پولینڈ کے وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ وہ اگلے ماہ سرحد پر دیوار کی تعمیر شروع کر دے گی۔

بیلا روس اور یورپ تنازع کا پس منظر

مشرقی یورپ کے ملک بیلاروس میں اگست 2020 کے انتخابات میں وہاں کے مطلق العنان حکمران صدر الیگزینڈر لوکاشینکو چھٹی مرتبہ منتخب ہوئے تھے۔ حزب اختلاف نے انتخابی نتائج کو شرم ناک قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور احتجاج شروع کر دیا۔ بیلاروس میں انتخابی نتائج کے لیے احتجاجی مظاہروں کا یہ سلسلہ کئی ماہ تک جاری رہا۔ بیلاروس کے حکام نے احتجاجی مظاہروں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں جن میں پولیس نے 35 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔

حزب اختلاف کے اس احتجاج کے خلاف بیلاروس کی حکومت کی کارروائیوں کے رد عمل میں امریکہ اور یورپی یونین نے لوکاشینکو کی حکومت پر پابندیاں عائد کر دی تھی۔ پابندیوں کے بعد رواں برس مئی میں ایک اور واقعے نے بیلاروس کے ساتھ امریکہ اور یورپی یونین کے تعلقات میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا۔ بیلاروس نے 23 مئی کو یونان سے لتھوینیا جانے والی پرواز کا رخ موڑ کر اسے اپنے دارالحکومت منسک میں اتار لیا تھا۔

اس طیارے میں صدر لوکاشینکو کی حکومت کے ناقد صحافی رومن پروٹا سیوچ سوار تھے۔ بیلاروس کے حکام نے پرواز سے صحافی پروٹاسیوچ کو حراست میں لیا تھا۔ اس اقدام کے بعد یورپی یونین نے بیلاروس کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں اور بیلاروس سے پیٹرولیم مصنوعات، پوٹاش اور کھاد کی اجزا کی درآمدات بھی روک دی ہیں۔ بیلا روس کی برآمدات کا بڑا حصہ ان ہی اشیا پر مشتمل ہے۔ ان پابندیوں کے خلاف صدر لوکاشینکو نے اعلان کیا کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے یورپی یونین کے معاہدے ہر عمل درآمد نہیں کریں گے۔ صدر لوکاشینکو نے موقف اختیار کیا کہ یورپی یونین کی پابندیوں کے باعث ان کی حکومت کے پاس پناہ گزینوں کو ٹھہرانے کے لیے وسائل نہیں ہیں۔ اس اعلان کے بعد انہوں نے عراق، شام اور دیگر ممالک سے بیلاروس آنے والے پناہ گزینوں کو پڑوسی ممالک پولینڈ، لتھوینیا اور لٹویا کی جانب بھیجنا شروع کر دیا ہے۔

بیلاروس میں حزب اختلاف کے ایک رکن پاول لتوشکا نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست کے کنٹرول میں چلنے والی ٹورسٹ ایجنسیز تارکین وطن کو سرحدی علاقوں تک پہنچانے میں ملوث ہیں۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ صدر لوکا شینکو پناہ گزینوں کو پابندیوں کے خلاف بطور ’مہرہ‘ استعمال کر رہے ہیں۔

بیلاروس اور پولینڈ سرحدی تنازع میں بین الاقوامی طاقتوں کا کردار

بیلا روس مشرقی یورپ کا ملک ہے جس کی آبادی لگ بھگ ایک کروڑ ہے مگر روس اور یورپی یونین کے درمیان واقع ہونے کے باعث اس کی اہمیت یورپ کی سیاست میں اچھی خاصی ہے۔ پھر یہ ملک تین عشرے پہلے تک سوویت یونین کا حصہ تھا۔ اس لیے اس کی سماجی و معاشی حالت پر اب بھی سوشلسٹ نظام کے گہرے اثرات باقی ہیں۔ روس اس تنازع میں اس وقت بیلا روس کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر کشیدگی کے درمیان روس نے بیلاروس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ مغرب نے مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کیا ہے اور اس لیے یورپ میں پناہ لینے والے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔

بیلاروس اور روس کے سیاسی، دفاعی اور معاشی تعلقات ہیں اور روس نے اس ہفتے شروع ہونے والے یورپی تنازعے میں بیلاروس کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے اپنے جنگی طیارے بھی بیلا روس کی فضاؤں میں بھیجے ہیں۔ بیلاروس اور یورپی یونین کے درمیان کشیدگی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو ہنگامی اجلاس میں یورپی ممالک اور امریکہ نے بیلاروس کی مذمت کی، جبکہ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ تقریباً دو ہزار تارکین وطن کے بارے میں سفارتی طور پر بیلاروس کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔

یورپی یونین ماسکو پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ اپنے اتحادی بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی مدد کر رہا تاکہ وہ پولینڈ میں پناہ گزینوں کا بحران پیدا کریں۔ یورپی یونین نے موجودہ صورت حال میں پولینڈ، لتھوینیا اور لٹویا کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا ہے۔ استحکام کا شکار کرنے کے لیے ہائبرڈ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ یورپی یونین کا اشارہ بیلا روس کی جانب سے مہاجرین کو پولینڈ کی سرحد کی جانب دھکیلنے کی کوششوں سے ہے۔

اطلاعات کے مطابق یورپی حکام بیلاروس کے خلاف مزید پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ سکیورٹی کونسل کے مغربی اراکین، برطانیہ، فرانس، اور امریکہ نے ایک مشترکہ بیان میں بیلاروس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے لیے تارکین وطن کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ نیٹو اتحاد نے کہا ہے کہ اسے پولینڈ کی سرحد پر جاری تناؤ پر تشویش ہے اور وہ خطے میں امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیے تیار ہے۔

بیلا روس پر کیا پابندیاں لگ چکی ہے اور کیا نئی پابندیاں لگنی والی ہے؟

یورپی یونین نے یورپی حکام سے ”بیلاروس کی پروازوں کو یورپی یونین کے فضائی حدود کے اوپر سے گزرنے اور یورپی یونین کی ہوائی اڈوں تک رسائی حاصل کرنے سے روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات“ کرنے کے لیے کہا ہے۔ انہوں نے یورپی یونین کی پروازوں کو بیلاروس کے فضائی حدود استعمال کرنے سے گریز کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ عراق سے ایسے جن تارکین وطن کو بیلاروس کے راستے یورپ اسمگل کیا جاتا ہے، ان کی اکثریت کا تعلق تو عراق ہی سے ہوتا ہے مگر ان میں خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے شہریوں کے علاوہ افریقہ میں کانگو اور کیمرون جیسے ممالک کے باشندے بھی شامل ہوتے ہیں۔

یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بیلاروس پر انسانی اسمگلنگ کے تناظر نئی پابندیاں عائد کرنے پر گفتگو کی گئی۔ دوسری جانب بیلاروس اور پولینڈ کی سرحد پر غیر قانونی مہاجرین بدستور ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں بیلاروس پر پابندیوں کے حوالے سے گفتگو ضرور ہوئی لیکن نئی پابندیوں کے اطلاق کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔ اس کا امکان ہے کہ اس میٹنگ کی روشنی میں منسک حکومت کو جلد ہی نئی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔

ان پابندیوں میں بیلاروس کی بعض شخصیات اور ادارے بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔ ان پر الزام عائد ہے کہ وہ انسانوں کی غیرقانونی اسمگلنگ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یورپین وزرائے خارجہ نے اپنی میٹنگ میں ممکنہ نئی پابندیوں کی مکمل سیاسی حمایت و تائید کی ہے۔ ابھی ان ممکنہ پابندیوں کی تفصیلات کو سامنے نہیں لایا گیا ہے کیونکہ ان کی جزئیات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ یورپی یونین اب تک چار مراحل میں بیلاروس پر مختلف نوعیت کی پابندیوں کا نفاذ کر چکی ہے۔

ان پابندیوں کا سلسلہ اکتوبر سن 2020 میں شروع ہوا تھا، جب بیلاروس کے صدارتی الیکشن میں عدم شفافیت کے بعد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے سلسلے میں جمہوریت نواز مظاہرین اور سرگرم کارکنوں کا استحصال شروع کر دیا گیا تھا۔ کینیڈا، یورپی یونین، برطانیہ اور امریکہ، سب نے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانے اور بیلا روس کے عوام پر ظلم و جبر کرنے کی وجہ سے بیلا روس پر پابندیاں لگائیں ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے بیلاروس کے 46 عہدیداروں پر امریکی ویزے کی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ان میں لوکا شینکو انتظامیہ کے اہلکار اور بیلاروس کی ریاستی سکیورٹی کمیٹی اور وزارت اطلاعات کے اراکین بھی شامل ہیں۔ ان پابندیوں کی زد میں آنے والے بالعموم امریکہ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ بیلا روس کی حکومت کے سولہ عہدیداروں اور پانچ اداروں پر پابندی عائد کی گئی ہے متعلقہ عہدیدار اور ادارے امریکہ کے ساتھ مالی لین دین نہیں کر سکتے۔ یورپی یونین نے اب تک ایک سو چھیاسٹھ افراد اور پندرہ اداروں اور ان کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ سفری پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں۔ اور آنے والے دنوں میں یورپین یونین کی طرف سے مزید پابندیوں کا امکان ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments