تحریک انصاف حکومت، دعوے اور کارکردگی (2)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تجارتی خسارہ اور روپے کی بے قدری:

جب بھی کسی ملک کی کرنسی کی بین الاقوامی مارکیٹ میں ما لیت کم ہوتی ہے تو اس ملک کی اشیا کی ایکسپورٹ بڑھ جاتی ہے یا بڑھ جا نی چاہیے اور تجارتی خسارہ کم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک قدرتی امر ہے کیوں کہ بیرونی دنیا کے لئے اس ملک کی اشیا سستی اور بیرونی کرنسی کی قدر میں اضافہ ہو چکا ہوتا ہے۔ پاکستان میں روپے کی بے توقیری جس تیزی سے تحریک انصاف کے دور میں ہوئی ہے پہلے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ 2018 میں ایک امریکی ڈالر 105 روپے کا تھا جو کہ آج کی تاریخ میں 174.50 روپے کا ہے۔

یہ چند دن پہلے تک 175 روپے کا تھا جس مقام سے اسٹیٹ بینک نے 1.2 ارب ڈالر کی اضافی رسد فراہم کی۔ لیکن ڈالر کی اونچی اڑان کے آگے یہ کاوش بھی کار بے سود ثابت ہوتی نظر آ رہی ہے۔ روپے کی اس بے قدری کا ایک ممکنہ فائدہ جو ہو سکتا تھا وہ بھی اس قدر نہیں ہوا۔ اکتوبر 2021 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ حکومتی رپورٹ کے مطابق پچھلے سال اس ماہ کے مقابلے میں دوگنا ہو گیا ہے اور وہ بھی خاص اس وقت میں جب روپیہ تاریخ کی کم ترین سطح پر تھا۔

معاشی اشاریے :

پاکستان کی معاشی شرح نمو 2018 میں % 5.6 تھی اور 2019 میں یہ کم ہو کر کر % 1.9 ہو گئی تھی اور 2020 میں مزید گھٹ کر یہ % 0.4۔ اور 2021 میں امکان ہے کہ یہ % 2 کے قریب ہوگی۔ جبکہ مہنگائی کی شرح جو کہ 2018 میں % 4.7 تھی 2019 میں % 6.8 اور 2020 اور 2021 میں بالترتیب % 10.7 اور % 17.5 ہے۔ مہنگائی کی شرح کا اس حد تک پہنچنا انتہائی تشویشناک صورت حال کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس ہوشربا مہنگائی پر ارباب اقتدار کا یہ کہنا کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے، زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔

2018 میں پاکستان کی اوسط فی کس سالانہ آمدنی 1580 ڈالر تھی جو کہ 2021 میں کم ہو کر 1190 ڈالر ہو گئی ہے۔ پاکستان کی مجموعی اقتصادی صورتحال کا خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو وہاں یہ صورتحال نظر نہیں آتی۔ بنگلہ دیش میں اوسط فی کس سالانہ آمدنی 2138 ڈالر ہو گئی ہے اور معاشی شرح نمو % 5.2 رہنے کا تخمینہ ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش میں مہنگائی کی شرح 2020 میں % 5.65 فی صد تھی جو کہ 2021 میں کم ہو کر % 5.56 فی صد رہنے کا امکان ہے۔ جبکہ ہمسایہ ملک چین کی معاشی شرح نمو 2020 میں % 8.47 اور 2021 کے لئے اس کا تخمینہ % 6 کے قریب ہے۔ ڈیڑھ ارب سے زائد آبادی کے حامل اس ملک کی فی کس سالانہ آمدنی 8840 امریکی ڈالر ہے۔

اپنے ایک حالیہ خطاب میں جناب وزیراعظم نے خاص طور پر ہندوستان کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ وہاں پٹرول کی قیمت 250 پاکستانی روپے فی لٹر ہے۔ کیوں کہ صراحت کے ساتھ ہندوستان کا حوالہ دیا ہے، تو ہندوستان اور پاکستان کی معاشی صورتحال کا تقابلی جائزہ لینے کی غرض سے ہندوستان کے کچھ معاشی اشاریے پیش خدمت ہیں۔ 2020 میں ہمسایہ ملک بھارت کی معا شی شرح نمو % 9.2 اور 2021 میں % 8.5 فیصد رہے گی۔ ایک ارب 40 کروڑ آبادی کے اس ملک کی فی کس سالانہ آمدنی 1850 امریکی ڈالر ہے۔ اور یہ حیران کن طور پر 22 کروڑ آبادی والے پاکستان سے فی کس 650 امریکی ڈالر زیادہ ہے۔ ہندوستان میں چوہتر برس میں آج تک آمریت کے تازیانے کبھی نہیں برسے۔ اس نے ایک سے زیادہ مرتبہ کرکٹ کا ورلڈ کپ بھی جیت رکھا ہے لیکن کسی بھی کپتان نے ریاست کو تجربہ گاہ میں بدل کر مطلق العنانیت کے تازیانے نہیں برسائے۔

چائنہ پاکستان اقتصادی راہداری :

2013 میں چین اور پاکستان میں اقتصادی تعاون کا ایک بہت بڑا معاہدہ طے پایا۔ یہ معاہدہ اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان طے پایا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اقتصادی تعاون کا سب سے بڑا منصوبہ تھا۔ اس منصوبے کو پاکستان کے اقتصادیات کے لئے ”گیم چینجر“ منصوبے کا نام دیا جا رہا تھا۔ جیسے ہی اس منصوبے کے معاہدات پر دستخط ہوئے تو پاکستان کی ترقی کے حاسدین کی بے چینی، پاکستان میں سیاسی بد امنی اور لا متناہی احتجاج کی صورت میں ظہور پذیر ہوئی۔

”پاک چین اقتصادی راہداری“ کے معاہدے کے تحت چین نے پاکستان میں اولاً 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا تھی جس کو بعد میں بڑھا کر 66 ارب ڈالر کر دیا گیا تھا۔ 2015 سے 2018 تک اس منصوبے پر نہایت سرعت سے کام ہوتا رہا جس کے تحت لاہور سے ملتان اور ملتان سے سکھر موٹروے کی تکمیل ہوئی۔ ہزارہ اور ایبٹ آباد موٹرویز کی تکمیل ہوئی۔ لیکن 2018 کے بعد اس منصوبے کے تمام پروجیکٹس عملاً سست روی کا شکار ہو گئے اور آج 2021 میں یہ منصوبہ تقریباً قصہ پارینہ بن کر رہ گیا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments