کیا مردوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج 19 نومبر ہے۔ ہر سال 19 نومبر مردوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مردوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے۔ مرد کو درد نہیں ہوتا کا نعرہ عام ہے حالانکہ مردانہ وجاہت کے شاہکار معروف بھارتی اداکار ایوشمن کھرانہ نے بھی اپنی ایک وڈیو میں کہا تھا کہ مرد کو بھی درد ہوتا ہے۔

لیکن اس سے پہلے کی مردوں کے حقوق پہ بات کی جائے، یہ وضاحت زیادہ اہم ہے کہ کیا مرد کے کوئی حقوق ہوتے بھی ہیں یا نہیں؟ اس سوال کا جواب مندرجہ ذیل واقعات کی روشنی میں قارئین پہ چھوڑا جاتا ہے۔

کچھ ہفتے پہلے ایک سفر کے دوران ریل گاڑی میں اپنی پیشگی مخصوص کردہ نشستوں (Advanced Reserved Seats) پہ پہنچ کے میں نے دیکھا کہ دونوں نشستوں پہ پہلے سے ہی ایک خاتون اور ان کا بیٹا بیٹھے تھے۔ میں ذاتی وجوہات کی بنا پہ اکثر دو نشستیں مخصوص کر کے سفر کرتا ہوں جس میں سے ایک ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ خیر، جب میں نے انہیں بتایا کہ یہ دو نشستیں میرے لیے مخصوص ہیں تو ان کا ردعمل دیدنی تھا۔ ان کے ادھیڑ عمر شوہر نامراد (شوہر نامدار، نامراد کو لکھائی کی غلطی سمجھا جائے ) ، جو کہیں آس پاس ہی منڈلا رہے تھے وہ بھی دفعتاً آ موجود ہوئے۔

اول تو انہوں نے ان نشستوں کو متعلقہ نشستیں ماننے سے ہی انکار کر دیا لیکن جب میں نے انہیں نشستوں کے نمبر دکھائے تو وہ اپنے اصل رنگ میں آ گئے۔ انہوں نے مجھے جذباتی بلیک میل کرنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی حتٰی کہ دیدہ دلیری سے عورت کارڈ بھی استعمال کیا مگر ان کی ہر کوشش ناکام رہی۔ یہاں تک کہ ان کے شوہر اور میرے ہی ہم عمر بیٹے نے مجھ سے تلخ ہونے کی کوشش بھی کی مگر بے سود۔

کئی منٹوں تک بحث کرنے کے بعد مجھے قائل کرنے میں ناکام رہنے پر ان محترم خاتون نے مجھے یہ مطلع کرتے ہوئے نشستیں چھوڑ دیں کہ میرے والدین میری اچھی تربیت کرنے میں ناکام رہے تھے۔ ان کے اس فقرے پر دوسرے مسافروں نے میری طرف اچٹتی نظروں سے دیکھا۔ یہ توہین آمیز تھا۔ میرے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں تھا کہ میں اس توہین کا مداوا کر سکتا کیونکہ بہرحال میں ایک مرد تھا اور مرد کی نہ تو کوئی عزت ہوتی ہے اور نہ ہی جذبات۔

چند ہفتے پہلے، رات گئے، ایک لمبے تھکا دینے والے سفر سے واپسی پہ میں آرام دہ بس کی کشادہ نشست پہ نیم دراز تھا اور ساتھ والی نشست ہمیشہ کی طرح میں نے مخصوص کر کے خالی رکھ چھوڑی تھی۔ اچانک بس میں ایک خاتون ایک چھوٹے بچے کو ساتھ لیے نمودار ہوئیں اور کوئی نشست خالی نہ ہونے کی وجہ سے بس کے درمیان میں کھڑی ہو گئیں۔ پوری بس میں صرف میرے ساتھ والی نشست خالی تھی اور میں دیکھ سکتا تھا کہ بس کو لگنے والے ہر دھچکے کے ساتھ وہ لڑکھڑا کر رہ جاتیں۔

جذبہ ہمدردی کے تحت میں نے انہیں اپنے ساتھ والی نشست لینے کا کہا۔ اس کے جواب میں پوری بس کے سامنے انہوں نے چلا کر مجھ سے پوچھا، ”کیا آپ کو شرم نہیں آتی؟ کیا آپ کے گھر میں کوئی ماں بہن نہیں ہے؟“ جبکہ میں تادیر یہ سمجھنے کی کوشش کرتا رہا کہ ان کے میرے ساتھ بیٹھ جانے سے میری ماں بہن کا بھلا کیا تعلق ہو سکتا تھا اور اس سب میں بے شرمی کی کیا بات تھی؟ بڑی دیر بعد مجھے سمجھ آیا کہ میں ایک مرد ہوں اور کسی عورت کی مدد کرنا یا بحیثیت انسان ان کے لیے جذبہ ہمدردی کا اظہار کرنا ہی سب سے بڑی بے شرمی ہے۔

کچھ مہینے پہلے پنجاب صوبے کے سب سے بڑے امتحانی مراکز میں سے ایک میں داخل ہوتے ہوئے میں نے نوٹ کیا کہ مردوں کی جسمانی جانچ کرنے کے لیے اسکینر لگایا گیا ہے مگر خواتین کو بغیر تلاشی کے اندر گزارا جا رہا تھا۔ یہ سلوک امتیازی تھا۔ چنانچہ میں نے اس پر احتجاج کیا اور سکینر میں سے گزرنے سے انکار کر دیا۔ میرے احتجاج پہ میرے آگے والی فربہی مائل لڑکی نے اپنے جسم کا بالائی حصہ موڑ کر میری جانب مسکرا کے دیکھا اور میری توثیق کی۔ میرے احتجاج کی وجہ یہ تاثر تھا کہ صرف مرد ہی مجرم ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس احتجاج میں اکیلے کھڑے ہوئے مجھ پہ یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ عورت تو معصوم ہے اور تمام جرائم کی جڑ مرد ہی ہے۔

ایک دفتری میٹنگ میں شریک ہوتے ہوئے میں نے دیکھا کہ وہاں پہ شامل اکثر خواتین حجاب میں تھیں تو میں نے میٹنگ کی سربراہ افسر سے پوچھا کہ یہ خواتین اپنا چہرہ چھپائے ہوئے کیوں ہیں؟ ان کے مفصل جواب کا لب لباب یہ تھا کہ ان کی حیا اور پاکیزگی کا تقاضا ہے کہ ان کو کوئی غیر مرد نہ دیکھے (کیونکہ مرد کی نیت، نظر اور کردار تو ہمیشہ گندا ہوتا ہے ) ۔ میں نے برجستہ ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو لگتا ہے کہ میں بے حیا اور غیر پاکیزہ ہوں؟ ان کا جواب نفی میں تھا۔ تو میں نے ان سے دریافت کیا کہ کیا آئندہ سے مجھے بھی نقاب کر کے میٹنگ میں شرکت کی اجازت ہے؟ کیونکہ میں بھی نہیں چاہتا کہ میرے پاکیزہ اور مقدس چہرے کو غیر محرم عورتوں کی نگاہ آلودہ کرے۔ لیکن تب مجھے پہلی دفعہ پتہ چلا کہ، نہیں، صرف مرد کی نگاہ ہی آلودگی کا باعث ہو سکتی ہے۔

آج 19 نومبر، مردوں کے حقوق کا عالمی دن مناتے ہوئے میں سوچتا ہوں کہ کیا مردوں کے کچھ حقوق ہوتے بھی ہیں کہ نہیں؟ ایسی سوشل میڈیا پوسٹیں عام ہیں جن میں پردے کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے عورتوں کو کسی قیمتی دھات جیسے ہیرے اور جوہر سے تشبیہ دی گئی ہے جسے چھپا کہ رکھا جانا ضروری ہے جبکہ مرد کو لوہے جیسی کمتر اور خام دھات کے ساتھ ملایا جاتا ہے جسے کوئی چرانا بھی پسند نہیں کرتا۔ بسیار نگاری معاف، میرا سوال ابھی تک تشنہ جواب ہے کہ کیا مردوں کے کچھ حقوق ہوتے بھی ہیں کہ نہیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments