مشترکہ اجلاس کی آئینی حقیقت!
یوں تو قومی اسمبلی میں مشترکہ پارلیمانی اجلاس کے دوران جو گرما گرم ماحول ہمیں دیکھنے کو ملا ہے تو وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نہیں تھا بلکہ ماضی کے ادوار میں بھی ہمیں اس طرح کے گرما گرم اور جوشیلی تقاریر سے بھرپور اجلاس دیکھنے اور سننے کو ملے ہیں۔ یہ اجلاس اس وقت اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جب آپ نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت تشکیل دی ہو اور آپ انہیں اپنے مستقبل کے فیصلوں کے بارے میں بار بار اعتماد میں لیتے رہیں۔
اس سے قبل حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں نے میڈیا کے ذریعے وزیراعظم کو صاف انکار کر دیا تھا کہ وہ ان قوانین کی منظوری کے لیے آپ کا ساتھ نہیں دیں گے لیکن بعد میں کچھ وفاقی وزراء اور وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کا اجلاس بلایا اور ان کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ مسلم لیگ ق کے رہنماء وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے صاف بول دیا تھا کہ میں ذاتی طور پر آپ کو ووٹ نہیں دینا چاہتا تھا لیکن اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی کی وجہ سے آپ کو ووٹ دے رہا ہوں۔ ایسا ہی کچھ ایم کیو ایم کے رہنماء ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کیا لیکن بعد میں وہ بھی ان قوانین کی منظوری کے لیے وزیراعظم کے ہم پلہ ہو گئے۔
اس سے قبل 2015 ء میں جب مسلم لیگ نون نے فوجی عدالتوں کی بحالی کے لیے قانون سازی کرنی تھی تو اس وقت پیپلز پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ دینی جماعتوں نے بھی نون لیگ کو آڑے ہاتھوں لیا تھا لیکن پھر کیا ہوا؟ ہوا وہی جو وہ چاہتے تھے اور یوں سب نے قومی اسمبلی اور سینیٹ سے متفقہ طور پر یہ بل منظور کروایا اور یوں فوجی عدالتوں نے دہشتگردی کے مقدمات کو سننا شروع کیا۔ اس کے علاوہ جب نون لیگ کی حکومت نے دہشتگردوں کو پھانسی دینے والے قانون سے پابندی ختم کی اور اس پر عمل درآمد شروع کیا تو اس وقت غیر ملکی این جی اوز اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس پابندی کو ہٹانے کے خلاف کمپین چلائی جو زیادہ کامیاب نہ ہو سکی اور یوں حکومت اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئی۔
بالکل اسی طرح کے حالات و واقعات ہمیں حال ہی میں ہونے والے مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں دیکھنے کو ملے جہاں حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں سے 32 میں سے 12 قانون منظور کروانے کا وعدہ کیا تھا لیکن تحریک انصاف کی قیادت نے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ تمام قوانین اس اجلاس میں منظور کروا لیے جو وہ پہلے دن سے چاہتے تھے اور اپوزیشن ایوان میں ان کے خلاف نعرے بازی اور احتجاج ریکارڈ کروانے کے ساتھ ساتھ حکومتی ارکان کا چہرہ تکتی رہی۔
اس اجلاس میں جو سب سے اہم بل پاس کیے گئے تو وہ میری نظر میں چار بل تھے جس میں پہلا؛ الیکٹرانک ووٹنگ مشین، دوسرا؛ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینا، تیسرا؛ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو اپیل دائر کرنے کا حق دینا اور چوتھا؛ جنسی زیادتی کے واقعات کے نتیجے میں مرد کو نامرد بنانے کا بل ہے اور یہ وہ تمام اہم قوانین تھے جو اپوزیشن پہلے دن سے ہی رد کر چکی ہے۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے متعلق الیکشن کمیشن سمیت بہت سی دوسری جماعتوں کو خدشات لاحق ہیں کہ ماضی میں ہونے والے انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم کو بٹھا کر الیکشن چوری کیا جاتا تھا اور اس دفعہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو ہیک کر کے الیکشن چوری کیا جائے گا۔ بہرحال اس کے استعمال پر سیاسی جماعتوں اور ان کے کارکنان کے ذہنوں میں سوالیہ نشان ضرور رہے گا جس کا جواب اب الیکشن کمیشن کو دینا ہے۔
اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کے لیے ہر سیاسی جماعت اپنا بیان جاری کرتی رہی ہے اور ماضی میں پیپلز پارٹی اور نون لیگ بھی اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن اس کے باوجود ہمیں ان کے حالیہ بیانات میں تضاد دیکھنے کو ملا اور یوں حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دینے کا قانون منظور کروا لیا۔ اب اس قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن کو امریکہ کے فیڈرل پوسٹ کارڈ ایپلیکیشن کے نظام کو بڑی باریک بینی کے ساتھ دیکھنا چاہیے کہ امریکہ کس طرح اپنے اوورسیز شہریوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیتا ہے؟ اور کن کن مراحل سے گزر کر اوورسیز امریکیوں کو انتخابات میں حصہ لینا پڑتا ہے؟ بہرحال اب الیکشن کمیشن کے اوپر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے اور ان کو بہت کم عرصے میں یہ سب کچھ واضح کرنا ہے۔
کلبھوشن یادیو کے متعلق یہی حکومتی جماعتیں جب اپوزیشن میں تھی تو وہ اس وقت کے وزیراعظم میاں نواز شریف کو ”مودی کا یار“ جیسے القابات سے نوازتی تھی لیکن اب انہوں نے وہ سب کچھ کر دیا ہے جو میاں نواز شریف چاہتے ہوئے بھی نہیں کرنا چاہتے تھے اور اس قانون کی منظوری کے بعد موجودہ حکومت کے اپنے ہی اتحادی ان کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے کسی کو اعتماد میں لائے بغیر یہ قوانین منظور کروائے ہیں۔
جنسی زیادتی کے الزام میں مرد کو نامرد بنانے کا قانون اسلامی نظریاتی کونسل کے نزدیک غیر شرعی ہے کیونکہ ان کا موقف یہ ہے کہ جنسی زیادتی کے مجرم کو اسلام نے جو سزائیں دینے کی اجازت دی ہے حکومت اس کو ہی پارلیمنٹ سے منظور کروائے اور غیر اسلامی سزا کو اسمبلی سے منظور نہ کروائے ورنہ بعد میں اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے لیکن اگر ہم اس بل کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کی رائے کو دیکھنا چاہیں تو تو وہ سرعام پھانسی کی سزا کا قانون منظور کروانا چاہتے تھے لیکن بعد میں ان کے قانونی مشیروں نے کہا کہ پھانسی والے قانون کو مغربی ممالک تسلیم نہیں کریں گے۔ لہذا مرد کو نامرد بنانے کا قانون پاس کروا کر اکتفا کیا گیا۔
اگر ہم اپوزیشن جماعتوں کی بات کریں تو وہ ان تمام قوانین کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں لیکن سوال پھر وہی ہو گا کہ سپریم کورٹ اپوزیشن جماعتوں کی داد رسی کرے گی یا پھر وہ بھی حکومت کے ساتھ کھڑی ہونے کو بہتر سمجھے گی؟ اس کا جواب مستقبل میں ہمیں ضرور مل جائے گا۔


