بٹرفلائی افیکٹ: تتلی کے پروں کی اثر انگیزی


ایک عام سے حادثہ نے دنیا کی تاریخ ہی بدل کر رکھ دی اور جنگ عظیم اول کو جنم دینے کا سبب بنا، جس کی تباہ کاری نے بڑھتے بڑھتے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا یہاں تک کہ لاکھوں لوگ اپنی جان سے گئے۔ کروڑوں روپے کی املاک تباہ و برباد ہوئی، قصہ کچھ یوں ہے کہ آسٹریا کا شہزادہ فرانز فردینند ، اپنی بیوی کے ساتھ بوسنیا کے دورے پر تھا کہ ایک سرب قوم پرست کے ہاتھوں جون 28، 1914 میں مارا گیا، اس قتل کے نتیجے میں ہنگری، آسٹریا، فرانس اور رشیا نے بوسنیا پر حملہ کر دیا بعد میں کچھ اور حلیف ممالک بھی اس جنگ میں شامل ہو گئے اور اگست آتے آتے جنگ عظیم اول کا آغاز ہو گیا تھا۔ جس کے نتیجہ میں یورپ بڑی حد تک تباہ ہو گیا تھا، یہ واقعہ بٹرفلائی افیکٹ کی ایک نہایت ہی عمدہ مثال ہے۔ اس واقعہ سے ہرگز یہ گمان نہ لیا جائے کہ اس کے نتیجے میں صرف نقصانات ہی ہوتے ہیں بلکہ اس کے فوائد بھی ہوسکتے ہیں جن کا تذکرہ ہم آگے چل کریں گے۔

دراصل بٹرفلائی افیکٹ کی اصطلاح 1960 میں ایڈورڈ لورینز نے متعارف کرائی، جو ایک امریکن ماہر موسمیات اور ریاضی دان تھا۔ ان کا ماننا تھا کہ ایک ننھی سی تتلی کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے فضا میں جو ارتعاش پیدا ہوتا ہے وہ کبھی کبھی کسی بڑے طوفان کو جنم دے سکتا ہے، جو اپنی ذات میں منفی بھی ہو سکتا ہے اور مثبت بھی۔ بٹرفلائی افیکٹ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی چھوٹے سے چھوٹا عمل کسی بڑے سے بڑے نتیجے کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، جہاں غیر سنجیدہ اور غیر محتاط طرز عمل حوادث و پریشانی کا سبب بن سکتے ہیں وہیں اچھے اطوار و افعال مفید اور سودمند بھی ہو سکتے ہیں۔اس لئے جو قدم بھی اٹھایا جائے نہایت سوچ سمجھ کر اور اس کے نتائج کو مد نظر رکھ کر اٹھایا جانا چاہیے۔

جس طرح ایک انگریزی کی کہاوت ہے کہ ایک چھوٹا سا رساؤ پورے جہاز کو ڈبو سکتا ہے بالکل اسی طرح چھوٹی سی غیر ذمہ داری زندگی بھر کا روگ بن سکتی ہے یا ایک چھوٹی سی نیکی کی عادت بڑے ثواب کا موجب ہو سکتی ہے۔ اس کی زندہ مثال ایدھی ٹرسٹ کی ہے کہ جناب عبدالستار ایدھی کہہ رہے تھے کہ ان کے پاس نہ ہونے برابر سرمایہ تھا، مگر نیکی کرنے کا جذبہ بہت تھا، لہذا بہت ہی معمولی سرمائے اور نہایت ہی قلیل وسائل کے ساتھ کام شروع کیا گیا جو بعد میں دنیا بھر میں اپنی مثال آپ بنا یہ بھی بٹرفلائی افیکٹ کی ایک خوبصورت مثال کہی جا سکتی ہے۔

کسی بھی کام کے کرنے سے پہلے اگر اس کے نتائج پر غور کر لیا جائے تو بہت ممکن ہے کہ سب کے لئے آسانیاں پیدا ہوتی رہیں۔ کیونکہ یہ دنیا دار الاسباب ہے، یہاں ہر شہ امکانی ہے۔ تو پھر امکانات کا مشاہدہ اگر تجربے اور تدبر کی روشنی میں کر لیا جائے تو ممکنہ مثبت نتائج کی زیادہ امید کی جا سکتی ہے۔ یہاں یہ ہرگز ضروری نہیں کہ ہر چھوٹے سے چھوٹے کام کا انجام یا نتیجہ کسی بڑے یا گہرے اثر کی شکل میں ہی نکلے گا۔ بہت ممکن ہے کہ کچھ بھی نہ ہو مگر کیونکہ ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں لہذا اس امر کا لحاظ کیا جانا ضروری ہے کہ یہ کس حد تک اثر پذیر ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی چھوٹے سے چھوٹے کام کو بھی معمولی یا غیر اہم سمجھ کر نہیں کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ یہ آپ کی یا کسی اور کی زندگی میں مثبت یا منفی تبدیلی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کی ایک اور مثال یوں لی جا سکتی ہے کہ ایک گاہک دکاندار کو کھوٹا سکہ دے دیتا ہے، جب گاہک جان لیتا ہے کہ وہ دھوکہ کا شکار ہوا ہے تو وہ کم تولتا ہے یا کم معیاری مال بیچنا شروع کر دیتا ہے، جس کے لئے وہ فیکٹری والے یا سپلائر سے دو نمبر مال لاکر دینے کے لئے کہتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے، جو بعد میں معاشرے میں مستقل بنیادوں پر رائج ہو کر بلاتفریق لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونا شروع ہوجاتا ہے، جیسے شہروں میں خالص دودھ ملنا محال ہے، جو بالخصوص چھوٹے بچوں کی غذا ہے اور یوں نوجوان نسل نقلی یا ملاوٹ شدہ دودھ کے استعمال سے مختلف بیماریوں اور صحت کے مسائل سے دوچار رہتی ہے۔

لہذا نہ اچھے سے کھیل پاتے ہیں اور نہ پڑھ پاتے ہیں کہ جو نشو نما خالص دودھ سے ان کے جسم و دماغ کی ہونا تھی وہ مستقل نامکمل اور غیر سودمند غذا کی وجہ سے ہو نہیں پاتی اور ایک پوری کی پوری نسل صحت و توانائی کی بربادی کے دھانے تک پہنچ جاتی ہے۔ جس طرح پانی کی بھری بالٹی میں اگر غلاظت کا ایک قطرہ گر جائے تو نہ اس پانی کا رنگ بدلے کا نہ ذائقہ اور نہ اس میں سے کسی قسم کی بو آئے گی مگر یہ پانی اب طہارت کے لئے قابل استعمال نہیں رہ جائے گا۔

بظاہر بالکل صاف نظر آنے والا پانی محض غلاظت کے ایک قطرے کی وجہ سے طہارت کے لئے ناقابل استعمال ہو کر رہ گیا ہے، بالکل اسی طرح بے شمار اعمال و افعال ایسے ہیں جو بظاہر بے ضرر اور معمولی نظر آتے ہیں مگر وہ معاشرے اور کبھی کبھی دنیا بھر پر اثر انداز ہو جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس طرح چوتھی صدی قبل مسیح میں قدیم عراق اور وہاں بابل کے لوگوں نے پہیہ ایجاد کیا، جس نے دنیا بھر میں ایجادات کی نہ صرف راہ ہموار کی بلکہ کارکردگی کو بڑھایا اور آسانیاں فراہم کیں، دیکھا جائے تو آج سڑکوں پر دوڑتی بھاگتی گاڑیاں، صنعتوں میں چلنے والی مشینیں، ہواؤں میں اڑنے والے جہاز یہاں تک کہ پانی میں تیرنے والے بحری جہاز بھی اس ایک پہیہ کی ایجاد کے مرہون منت نظر آتے ہیں جو قدیم عراق کے گاؤں بابل میں ایجاد ہوا۔

اسی طرح اگر ہم مقامی مثالوں پر نظر ڈالیں تو پائیں گے کہ ہمارے ہاں بھی اس طرح کے بہت سے کام ہوئے ہیں جو قابل تقلید مثال ہیں۔ جیسے بٹرفلائی افیکٹ کی ایک مثال سٹیزن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے ہزاروں اسکولز ہیں، جو گزشتہ بیس سال سے کم آمدنی والے اور نادار افراد کے بچوں کو اچھی تعلیمی سہولیات فراہم کر رہے ہیں جو یقیناً ایک قابل تقلید و ستائش عمل ہے، TCF ایک اسکول سے شروع ہو کر آج ہزاروں اسکولز پر مشتمل ایک تعلیمی درسگاہوں کا مربوط نظام ہے جو معاشرے کی بے مثال خدمت کر رہا ہے، اور بہت سے لوگوں کو ایسا ہی کرنے پر آمادہ کر رہا ہے، جن میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جنہوں نے یہاں سے تعلیم حاصل کی ہے اور آج ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔

تو یہ بھی بٹرفلائی افیکٹ کی ایک عمدہ اور مثبت مثال کہی جا سکتی ہے، لہذا ہمیں مادی عوامل کے ساتھ ساتھ نفسیاتی اور روحانی عوامل کی پاکیزگی اور خالص ہونے کا یقین کرنا نہایت ضروری ہے۔ محنت و ایمانداری سے کیے گئے کام کے نتائج عموماً انفرادی و اجتماعی طور پر لوگوں کے لئے مثبت اور سودمند ہوتے ہیں جبکہ ریاکاری، دھوکہ اور منافقت کی بنیاد پر کیے گئے چھوٹے سے چھوٹے معاملات کبھی کبھی معاشرتی طور پر بڑی بڑی برائیوں اور حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حسن اخلاق، ایمانداری، ایثار و اخوت کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی معاشرے میں پذیرائی دی جانی چاہیے تاکہ وہ معاشرے میں پروان چڑھ سکیں بہت ممکن ہے کہ ان ہی اعمال صالحہ میں سے کوئی مقبول ہو جائے اور معاشرے کی اخلاقی بہتری و تربیت کا سبب بن جائے۔

Facebook Comments HS