عالمی ادب


"ادب”انسانیت کو بیان کرتا ہے۔ "ادب”قوت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مذہب کے بنیادی اجزاء میں "ادب”انتہائی اہم جُز ہے۔”ادب”انسانی تمدن،ایمان اور رسومات کی بنیاد ہے۔ حقیقت کا عکس، فن کو پیداکرنے والا اور تصورات کو بیان کرنے والے علم کا نام "ادب” ہے۔ اس کُرۂ ارض پر انسانی تہذیب و تمدن کے آغاز سے قبل بھی سُمندروں کی گہرائیوں اور جنگلات کی پنہائیوں میں کہانیوں کا وجود تھا۔ قدیم تہذیبوں اور معاشروں میں بھی "ادب”ایک اہم کردار ادا کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ الفاظ اور زبانوں کی ایجاد سے پہلے بھی "ادب” قدیم انسانی تہذیبوں میں نظر آتا ہے۔ اس سے قبل کہ دُنیا میں بولی جانے والی زبانیں ایجاد ہوئیں، روزمرہ واقعات سے جنم لینے والی کہانیاں سُنائی جاتی تھیں۔اورآنے والے ادوار کے انسانوں کے لئے انہیں غاروں کی دیواروں اور پتھرکی تختیوں پر تحریر کیا جاتا تھا۔اس سے قبل کہ بنی نوع انسان نے الفاظ پڑھنے اور لکھنے شروع کئے، "ادب” اس دُنیا میں وجود رکھتا تھا۔قدیم غاروں کی دیواروں پر کھدائی سے لکھی تحریریں اور تصاویر ابتدائی انسان کے وجود اور طرزِ حیات کا ثبوت پیش کرتی ہیں۔دُنیا کی قدیم تہذیبوں میں سے تہذیبِ مصر کے بلند و بالا اہراموں میں دیواروں پر کُندہ  تحریریں اور تصاویر کتنی ہی کہانیوں کے ثبوت ہیں جو یہاں صدیوں سے مدفون ہیں۔ الہامی اور غیر الہامی مذاہب کی مقدس کُتب جن میں توریت،زبور، انجیل مقدس، قُران مجید، بھگوت گیتا،رامائن اور ویدھ کا شمار بھی ادبی لحاظ سے معتبر تصور کیا جاتا ہے۔  ان کُتب میں زندگی کے بھیدوں اور اسرار کو وضاحت سے لکھا گیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ ایک ایماندار زندگی گذارنے کے لئے آئین اور قوانین کو مرتب کیاگیا ہے۔
ادب انسانی تصورات اور اقدار کی وضاحت کرتا ہے۔جس طرح نامور قدیم یونانی فلسفی سکراتؔ، پلاٹوؔ اور ارسطو ؔ کا کام معاشرہ میں کمال کو فروغ دیتا ہے۔ اگربنی نوع انسان اس پر قائم رہیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ارادہ کریں تو معاشرہ کی تعمیر و ترقی میں مدد گار ہوسکتا ہے۔پلاٹوؔ کی مکالمات پر مبنی تحریر  "Allegory of Cave” انسانی عقل کی اہمیت اوراعلیٰ معیار کے علم کے حصول میں حائل مُشکلات کے بارے میں بتاتی ہے۔ان فلاسفر کی عالمی ادب میں شراکت نہ صرف الفاظی شکل میں ان چیزوں کو پیش کرنا ہے بلکہ انسانی منطق اور تصورات کا بھی بیان ہے۔
"ادب”کوانقلاب کے آلہء کار کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ادب سیاسی بحران، معاشرتی ناانصافی اور نسل پرستی کے غلبہ کے خاتمہ اور اس کے حل میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔ایک شاعر یا مصنف اپنے الفاظ کو ہتھیار بناکر ایک جنگجو کی حیثیت سے معاشرتی مسائل کے خلاف آواز  اُٹھا سکتا ہے۔ وہ اپنے قلم کی کاری ضرب سے ایک با اثر انقلابی کا کردار ادا سکتاہے تاکہ وہ اپنی قوم میں جاری بدعنوانی کو بے نقاب کرسکے۔ یہ بات یا د رکھی جانی چاہیے کہ انقلابات ہمیشہ خونی جنگ و جدل ہی سے نہیں آتے بلکہ”ادب” اس ضمن میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔
ہر وہ واقعہ یا واردات جو اس معاشرے میں وقوع پذیر ہوتی ہے اُسے لکھا جاسکتا ہے، محفوظ کیا جاسکتا ہے اور ادب کی مختلف اصناف کی مدد سے سیکھا اور سکھایا جاسکتا ہے۔ نثر ہو یا شاعری، ایک حساس انسان کے لئے ادب بنیادی علم، تصور،  فہم اور احساسات مہیا کرتا ہے۔ زندگی کی وسعت کو "ادب”میں مقید کیاجاسکتا  ہے۔”ادب”کے بغیر زندگی بے رنگ اور بے معنی ہے۔”ادب” کی بنیاد انسانی حادثات، خواہشات اور احساسات پر ہے۔”ادب”جہاں اپنے حیران کُن طرزِ اظہار سے ایک نسل کو متاثر کرتا ہے وہیں ہر زمانہ سے متعلق بہت سی معلومات کا خزانہ بھی لئے ہوئے ہے۔
یورپ میں احیاء علوم کے دور (14 ویں تا 16 ویں صدی عیسوی) میں ایک جرمن راہب مارٹن لُوتھر نے اپنے 95 مقالوں کی مدد سے مسیحیوں میں شعور پیدا کیا اور مسیحی کلیسیاء کو دو فرقوں، کاتھولک اور پروٹسٹنٹ میں تقسیم کرنے کا سبب بنا۔ممتاز فرانسیسی منصف وکٹر ہوگونے اپنے مشہور ناول "Les Miserable” میں انقلابِ فرانس کی واضح تصویر پیش کی جبکہ اپنے ناول "The Hunckback of Notre Dam” میں فرانس کے رومانوی ادب کو بیان کیا۔ ایڈولف ہٹلر، جرمن سیاستدان، آمر، نازی پارٹی کا سربراہ تاریخ میں ایک ظالم حکمران گذرا ہے۔اس کے نسل پرستانہ دور کے مظالم کا شکار ایک یہودی لڑکی اینی فرینک نے قید کے دوران اُس پر اور اُس کی قوم پر ہونے والے مظالم اور صعوبتوں کا حال اپنی ڈائری میں تحریر کیا، جس سے دُنیا کو اُن مُشکلات، جان لیوا  سختیوں اور بے رحمانہ قتل ِ عام کے بارے علم ہو سکا۔برصغیر پاک و ہند کے نامور  فلسفی، مفکر اور شاعر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال نے اپنے اعلٰی افکار اور رُوح و جان کو گرما دینے والی شاعری کی بدولت تحریکِ آزادیِ پاکستان میں ایک نئی رُوح پھونک دی۔یہ تو ذکر ہے اُن چند ادبی شخصیات کا جن کے قلم کی بدولت دُنیا کی تاریخ آنے والی نسلوں کے لئے تحریروں میں قید ہوگی۔ لیکن دُنیا کے مختلف مُلکوں اور خطوں سے تعلق رکھنے والے فلسفیوں، مفکروں، دانشوروں، شاعروں، مصنفین اور ادباء کی تخلیقات اور ان کی اہمیت کو چند سطروں میں سمونا آسان نہیں۔”ادب” کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دورِ حاضر میں جدید انٹرنیٹ اور الیکٹرانک ٹیکنالوجی کی بدولت یہ علم کاسمندر وسیع سے وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ انسان کی مختصر سی زندگی میں یہ مُشکل بلکہ کٹھن کام ہے کہ”عالمی ادب”تک مکمل طور پر رسائی حاصل کی جاسکے یا اس کا احاطہ کیا جاسکے

Facebook Comments HS