سیکس ایجوکیشن کو نصاب کا حصہ بنائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری یہ تحریر ان نوجوانوں کے لئے ہے جو ابھی تک رشتہ ادواج میں منسلک نہیں ہوئے یا پھر مستقبل قریب میں ہونے والے ہیں ۔مدعے کی طرف آنے سے پہلے میں ذرا کچھ باتیں گوش گزار کرنا چاہتا ہوں ۔صاحب پاکستان اکیسویں صدی میں بھی وہ ملک ہے کہ جہاں آپ لفظ "سیکس”کا کھلے عام استعمال نہیں کرسکتے ۔یہ تو وہ شجر ممنوعہ ہے کہ جس پر اس طرح پابندی ہے کہ گویا اس کی ادائیگی سے جنت سے نکالے جائیں گے۔اس کے علاوہ چند اور الفاظ بھی ہیں کہ جن کی ادائیگی آپ کی مجموعی تربیت،ذہنی حالت کو معاشرتی کٹہرے میں لاکھڑا کرتی ہے ۔جیسا کہ "ننگا”اب چونکہ میرے گھر میں ایک کمرہ بغیر چھت کے تھا ،تو ہم بچے اسے ننگا کمرہ بولتے تھے ۔چونکہ وہ کمرہ تھا ہی کھلا ڈلا تو لفظ "ننگا "ہی دماغ میں آتا تھا۔بہرحال جب فیملی میں نئے ممبر کا اضافہ ہوا ۔جنہیں مادری زبان یعنی کہ سرائیکی سے چڑ تھی اور اردو سے محبت تھی (خدانخواستہ مجھےاردوکاناقد نہ سمجھاجائے،مگر گھر میں مادری زبان ہی بولی جائے تو بہتر ہوتا) یوں ہم خالص دیہاتی لوگوں کو یہ سبق رٹایا گیا کہ آج کے بعدیہ لفظ نہیں بولنا بلکہ بغیر چھت والا کمرہ بولنا ہے۔

اتنی لمبی چوڑی تمہید باندھنے کا مقصد یہ بتانا تھا کہ جہاں روزمرہ استعمال کے الفاظ بولنابھی ممنوع ہوں ۔وہاں "سیکس”یا اس کے بارے میں معلومات تو بس بائیولوجی کے استاد کی ذومعنی باتوں سے ملے گی ۔ان لیکچروں سے تجسس پکڑنے والے افراد گھر میں یا معاشرہ میں تو یہ بات کھل کر بول  یا پوچھ ہی نہیں سکتے۔ یوں بات گوگل بابا تک چلی جاتی ہے ۔اسی وجہ سے  پھر شہوت بھری کہانیاں انٹرنیٹ پر ڈالنے والوں ،پورنوگرافی کی ویب سائیٹس چلانے والوں کا دھندا جوبن ہے۔اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو گوگل کرکے دیکھ لیں سیکس ویب سائیٹس اور پورنوگرافک مواد دیکھنے میں انڈیا اور پاکستان سرفہرست ملیں گے ۔

میں دیواروں ،رسالوں ،اخبارات پر اعصابی کمزوری ،کامیاب ازدواجی زندگی اور محبوب آپ کے قدموں میں جیسے اشتہارات پڑھ کر سوچتا تھا ۔کہ ایسے کونسے بیوقوف لوگ ہوں گے کہ جو ان سے تعویز ،ادویات یا ان کے بتائے ٹوٹکوں پر عمل کرتے ہوں گے ۔پھر ایسے وقوعہ کا عینی شاہد بنا تو سمجھ آیا کہ آخر ایسے لوگوں کا کاروبار کیسےاور کس پیمانے پر چل رہا ہے ۔ یہ کہانی چونکہ یونیورسل کہانی ہے ،تو کسی ایک شخص سے منسلک کرنے کے بجائے میں اسےعمومی کہانی کے طور پر ہی بیان کروں گا۔شادی نزدیک آتے ہی نہ صرف کچھ یار دوست شادی کے فیوض و برکات پر لیکچر دینا شروع ہوجاتے ہیں ۔وہیں کچھ ایسے شادی شدہ یار دوست بھی ہوتے ہیں (جو کہ پیروں ،فقیروں ،جوگیوں ،حکیموں  کےچلتے پھرتے اشتہاراور بغیر کمیشن کے ایجنٹ ہوتے ہیں)جو اپنی سہاگ رات اور ازدواجی زندگی کے ایسے قصے سناتے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ جیسے شادی ایک بہت بڑا معرکہ یا جنگ ہوتی ہے ،جس کے یہ بہت بڑے جنگجو پہلوان ہیں اور انہوں نے بڑے بڑے معرکے سر کئے ہوئے ہیں ۔خدانخواستہ  آپ نے بھی ان کی طرح کی بہادری اور جرات کا مظاہرہ نہ کیا تو آپ کو شکست فاش ہوگی اور دشمن (بیوی) کے سامنے آپ کی ناک کٹ جائے گی ۔

یوں آپ جتنے بڑے دانشور، لبرل، حقیقت پسند یا پھنے خان ہوں ایک دفعہ آپ مخصمے میں لازمی پڑیں گے ۔یوں آپ کے مضبوط قوت ارادی میں پڑنے والی یہ چھوٹی سی لیک نما دراڑ دراصل وہ نقطہ آغاز ہوتا ہے ۔جہاں سے آپ وہ تجربہ کنندہ  بن جاتے ہیں جس پر پھر پیر، فقیر، جوگی، سنیاسی، حکیموں کے تجربوں کا آغاز ہوتا ہے ۔ میں نے لاہور میں ایک حکیم کی چھوٹی سی دکان نما کلینک کے باہر کھڑی 60 لاکھ روپے کی چمچاتی گاڑی دیکھی تو حیرت زدہ رہ گیا کہ یہ کہاں سے کماتا ہوگا ۔جب اس بندے کے مریضان کی فہرست کے بارے میں پتہ چلا تو پھر سمجھ آیا کہ بھیا میں جو صحافت میں آکر اپنے آپ کو پھنے خان سمجھتا ہوں، میری تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے

اچھا اب ان پیروں ،فقیروں ،جوگیوں ،سنیاسیوں ،حکیموں کا اپنا اپنا طریقہ واردات ہوتا ہے ،بس قدر یہ مشترک ہوتی ہے کہ یہ سب آپ کو وضح قطع سے نورانی چہرے ،پاکیزہ شخصیت  اور وصف والے لگیں گے ۔یوں آپ جو اپنے کسی قریبی یار،دوست کی بلند و بالا تعریفوں اور دعووں کو سن کر آدھے متاثرین بن چکے ہوتے ہیں ۔ان کی شخصیت کو دیکھ کر پورے معتقد ہوجائیں گے ۔طریقہ واردات کی طرف آتے ہیں تو آپ کی عمر اور پریشانی کو بھانپ کر ہی آپ  سے بیماری پوچھے بغیر ہی آپ  کی نبض دیکھ کر وہ وہ علامات(جو آپ انجانے خوف کا شکار ہوکر اپنے اندر سمجھ رہے ہوتے ہیں )بتاتے جاتے ہیں اور آپ خاموشی سے شرمندہ ہوتے ہوئےہاں میں سر ہلائی جاتے ہیں ۔یہاں پر کچھ آپ کے ساتھ دوماہ کے کورس کے نام پر اکٹھے ہی نرخ طے کرتے ہیں ۔اور یہ رقم اچھی خاصی ہوتی ہے ،جس کی تفصیل میں آپ کو جڑی بوٹیوں اور دیگر اشیاء کے نرخ اور ان کی نایابیت کے بارے میں پورا لیکچر دیا جاتا ہے۔چونکہ افادیت ہی ایسی بتائی جاتی ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے بتائے گئی رقم ادا کردیتے ہیں ۔

کچھ آپ کا ہفتہ وار چیک اپ کرتے ہیں ،اور ہر ہفتے اچھی خاصی رقم آپ سے ادویات (سفوف) کے نام پر بٹور لی جاتی ہے ۔اب یہاں چونکہ حکیم صاحب یا سنیاسی یا جوگی یا نیم ڈاکٹر نے اپنی دوا کے فوری اثر کے ایسے دعوے کئے ہوتے ہیں کہ آپ ان دعوؤں کے زیر اثر اپنی جسمانی صحت اور حالت کو دیکھے بغیر اندھا دھند استعمال کئے جاتے ہیں ۔یوں وہ چیز یا دوا نے آپ کو فائدہ تو خاک پہنچانا ہوتا ہے بلکہ الٹا معدہ ،جگر کو نقصان کی صورت میں مزید بیماریوں کے در کھول دیتی ہے ۔

اب پھر آپ کے وہی دوست پھر آپ کو کسی اور آزمودہ حکیم،سنیاسی کے پاس لے جاتے ہیں ۔جہاں ایک بار پھر مندرجہ بالا سلوک ہوتا ہے اور یوں ایک یا دوماہ کے اندر آپ ذہنی ،نفسیاتی اور جسمانی طور پر اس مریض کا عملی نمونہ پیش کرنے لگ جاتے ہیں کہ جس کو دنیا جہاں کی تمام بیماریاں لگ چکی ہوتی ہیں ۔یہ سب کی وجہ ہوتی ہے تو آپ کے گھر سے لے کر درس گاہ اور حلقہ احباب میں ایک ایسے ٹاپک پر بات نہ ہونا ہے ۔جو کہ انسانی زندگی کا ایک مستقل حصہ ہوتا ہے ۔

میرے تمام دوست یہاں یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ بیوی آپ کی دشمن یا آپ کے مقابلے کی جنگجو نہیں آپ کی زندگی بھر کی ساتھی  اور دوست ہوتی ہے ۔شادی کے بعد کے افعال میں”سیکس” ہی سب کچھ نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کے علاوہ اور بھی غم ہوتے ہیں ۔دوسرا مسئلہ آپ کے اعصاب کا نہیں آپ کے دماغ کا ہوتا ہے ۔اگر اپنی ذہنی طور پر مضبوط ہیں تو باقی سب چیزیں ثانوی ہوتی ہیں ۔اگر آپ کی شادی ہونے والی ہے تو ایسا کوئی دوست جو اپنی نام نہاد بہادری کے قصے سنائے تو اس کو مذاق کے طور پر لیں ۔100 میں سے 99 فیصد ڈاکٹروں کی جانب سے آپ کو سیکس تھراپی یعنی کہ نفسیاتی علاج کا مشورہ دیا جاتا ہے نہ کہ سلاجیت ،سانڈھے کا تیل ،سات پٹیوں اور سفوف کے استعمال سمیت کسی انگریزی ادویہ کا ۔اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے افعال کی وجہ سے آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ ہے تو سیدھا ڈاکٹر کے پاس جائیں اور بلا جھھک سب معاملات بتائیں ۔

میری یہاں تمام طبقہ فکر کے افراد سے گزارش ہے کہ اس موضوع کو نہ صرف نصاب کا حصہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا جائے ۔بلکہ اس پر بحث و مباحصہ اوربات چیت کو معیوب سمجھنے کے بجائے اس کے بارے میں معلومات کو عام کرنے کی روائت ڈالی جائے ۔تاکہ یہ سونے کی تلاش میں پہاڑ کھودنے والوں کے لئے چوہے کے صورت میں مایوسی کا سامان نہ بنے 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments