عاصمہ جہانگیر: اے آئرن لیڈی تجھے سلام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں عاصمہ جہانگیر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا جس میں ایک لمحہ کے لیے یوں لگا جیسے عاصمہ  کی روح اس مجمع میں آن پہنچی ہو. ہر ایک کی زبان پر  عاصمہ کا نام تھا٫ اسٹیج سے ایسے ایسے دبنگ انکشافات ھو رھے تھے جنہیں عاصمہ جیسی دبنگ خاتون ہی زبان پر لانے کا حوصلہ رکھتی تھی مگر اس دن عاصمہ  کی روح علی احمد کرد میں حلول کر گئی اور اس آئرن لیڈی نے اپنی موجودگی کا احساس مرنے کے بعد بھی دلا دیا ۔ مرنے والے مرتے ہیں اور  مرتے رہیں گے، تاریخ کے باب میں ہمیشہ کے لئے دفن ہوتے رہیں گے مگر آئرن لیڈی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئ ۔ وہ ایک ایسی چیخ تھی جب کسی مظلوم کی حمایت کے لیے بلند ہوتی تھی تو دلوں کو دہلا کر رکھ دیتی تھی، جب ایوان اقتدار پر براجمان جابر حکمرانوں یا ظلم کرنے والے ظالموں کے خلاف بلند ہوتی تھی تو درو دیوار لرز اٹھتے تھے،وہ ایک ایسی  نڈر چیخ تھی جنہیں سننے کی عادت نہیں تھی یا حقیر سمجھ کر نظر انداز کر دینے کو ترجیح دیتے تھے وہ بھی اس کانوں کو چیرنے والی چیخ سے آشنا ہونے لگے تھے ۔ وہ ایک ایسی آواز تھی جسے سننے کے لیے بڑا حوصلہ اور ہمت چاہیے ہوتی تھی ۔
اس نڈر آواز کو سامعین تک پہنچانے کا ذریعہ بننے والے مختلف چینلز کے اینکر بھی بڑے سوچ سمجھ کر بلاتے تھے کیونکہ عاصمہ چبا چبا کر بات کرنے کے ہنر سے بالکل ناآشنا تھی جو بھی اس کے دل و دماغ میں ہوتا بغیر فلٹر یاسینسر کیے دھڑلے سے کہہ دیتی تھی ۔ وہ انسانی رشتوں میں تفریق پر یقین نہیں رکھتی تھی، جب کسی مظلوم کے ساتھ کھڑی ہوتی تھی تو یہ بھول جاتی تھی کہ مظلوم مخالف پارٹی کا بندہ ہے یا سنی، شیعہ ،دیوبندی بریلوی، اہلحدیث یا کسی بھی نسل و رنگ اور مذہب سے اس کا تعلق ہوتا اس کے لیے ڈٹ جاتی تھی اسی لئے مرتے دم تک کوئی اسے پہچان نہ سکا کہ وہ مذہبی طور پر کس سکول آف تھاٹ کا حصہ تھی ۔ مرنے کے بعد بھی وہ صرف ایک ہی پہچان کے ساتھ زندہ ہے اور زندہ رہے گی وہ سلوگن ہے( ظلم کے خلاف ایک توانا اور بے خوف آواز کا) آپ جانتے ہیں کہ کردار کشی کرنا ہمارے اس  گھٹن زدہ ماحول کا طرہ امتیاز ہے اور عاصمہ اس برائی کا آخری عمر تک شکار رہیں ۔ وہ قوم جو فاطمہ جناح کو گرے ہوئے القابات سے نوازتی رہی ہے اسی ذہنیت کا سامنا عاصمہ کو بھی رہا ، اسے زندگی میں رنڈی، کافر مرتد ،اسماعیلی، احمدی، جیسے القابات سے نوازا جاتا رہا اور دائرہ اسلام سے فتاویٰ کی صورت میں بار بار خارج کیا گیا مگر آئرن لیڈی نے اس گھٹیا زبانی کا  بڑے حوصلہ سے سامنا کرتے ہوئے یہ ثابت کردیا کہ عورت جب ڈٹ جاتی ہے تو اسے کسی بھی الزام سے کمزور نہیں کیا جاسکتا ۔
وہ ساری عمر روایات سے باغی رہی اسی لئے اس کا سفر آخرت بھی غیر روایتی تھا ۔یہ واحد اور انوکھا جنازہ تھا جس میں مرحومہ کی میت کو مرد عورت مل کر کندھادے رہے تھے ، یہ اس ملک کا واحد سفر آخرت تھا جس کے جنازہ میں خواتین بھی شامل ہوئیں اور لحد میں اتارنے تک موجود رہیں ۔ واہ عاصمہ  تیرے ساتھ عقیدت کے جذبہ نے خواتین کو گھر سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیا ، جنہیں کمزور دل اور ایموشنل فول یا کم سمجھ کہہ کر ہمیشہ سے مین سٹریم  سے پیچھے ہٹایا جاتا ہے انہی خواتین نے اس دن آئرن لیڈی کے جنازہ میں شریک ہو کر ان تمام روایتی باتوں کو دفن کر دیا ۔ انہیں اس دن راویت شکنی سے کوئی نہ روک سکا ۔ جس عورت کا جنازہ روایت شکن  تھا تو اسی عورت کے اعزاز میں منعقد ہونے والا سیمینار روایت شکن کیوں نہ بنتا ؟
کیا پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ایسا اجتماع ہوا جس میں حاضر سروس جوڈیشری کی موجودگی میں ایسے انکشافات ہوئے ہوں؟ جس میں گنگ زبانوں کو قوت گویائی ملی ہو؟ بے بسی کا دیدنی مظاہرہ ہوا ہو ؟ ہزاروں سالوں سے ذہنوں پر پڑے روایتی قفل ٹوٹے ہوں ؟  روایات کے نام پر نظریاتی سموک سکرین منظر سے ہٹی ہو ؟ کم از کم میری اڑتیس سالہ زندگی میں تو اس قسم کا باغیانہ مظاہرہ میرے دیکھنے میں نہیں آیا ۔ میں تو سوچتا ہوں کہ ابھی تو عاصمہ اس مجمع میں اپنے وجود کے ساتھ موجود نہیں تھی اور روایت شکنی کا اتنا بڑا مظاہرہ رونما ہوا مگر اگر وہ خود موجود ہوتی تو کیسا منظر ہوتا؟  مگر وہ جس قسم کی توانا آواز تھی ایسا لگتا ہے وہ ہر آنے والے سیمینار میں معاشرے کو جھنجھوڑنے کا وسیلہ بنتی رہے گی، اس کی روح پلٹ پلٹ کر کسی نہ کسی علی احمد کرد میں حلول کرتی رہے گی اور ظلم کرنے والوں کو سپنے میں ڈراتی رہے گی۔ پرانے وقتوں میں اس قسم کی کہاوتوں کو بڑے مزے سے بیان کیا جاتا تھاکہ جس کی بیوی مرنے لگتی تھی  تو وہ اپنے شوہر سے عہد لیا کرتی تھی کہ میرے مرنے کے بعد تم نے کسی عورت سے شادی نہیں کرنی ورنہ میں بھوت بن کر تمہارے سپنوں میں آ کر تمہاری کلاس لیا کروں گی۔ بالکل اسی طرح عاصمہ جانگیر بھی وہ امر آتما ہے جو کبھی سیمینارز  کی صورت میں ، کبھی منصف کے ذہن میں اور ہر طرح کا ظلم کرنے والے ظالموں کے سپنوں میں آ کر کلاس لیتی رہیں گی کیونکہ وہ امر شخصیت کی مالک تھی اسے جیتے جی کوئی ختم نہ کرسکا اور مرنے کے بعد اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ناممکن ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments