بچوں کا تعلیم کا حق انہیں کیسے مل سکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یونیسف کے پیش کردہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے دو کروڑ اٹھائیس لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ کون ہیں یہ بچے؟ اور کہاں رہتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد لڑکیوں کی ہے۔ سکولوں سے باہر لڑکیاں زیادہ تر تو کم آمدنی والے گھروں سے تعلق رکھتی ہیں لیکن کھاتے پیتے گھروں کی بھی ہو سکتی ہیں۔ ان بچوں میں غربت کا شکار گھروں کے لڑکے شامل ہیں۔ معذور بچے ہیں۔ ٹرانجنڈر ہیں۔ وہ بچے ہیں جنہیں مزدوری یا بھیک مانگنے پر لگا دیا گیا ہے۔ وہ لڑکیاں، لڑکے اور ٹرانسجنڈر ہیں جن سے سیکس ورک کروایا جاتا ہے۔ سیکس ورکرز ماؤں کے بچے ہیں، چونکہ انہیں کوئی سکول قبول نہیں کرتا ۔ وہ بچے ہیں جنہیں ان کے والدین کا علم ہی نہیں۔ وہ بچے ہیں جو کلاس میں ٹھیک پرفارم نہیں کر پاتے اور استادوں نے مار مار کر سکولوں سے بھگا دیا ہے۔

وہ بچے جنہیں مدرسوں میں جھونک دیا گیا ہے تاکہ ان کی پرورش سے جان بھی چھوٹ جائے اور وہ والدین کو جنت بھی لے جائیں۔ خانہ بدوش خاندانوں کے بچے ہیں۔ مذہبی اقلیتوں کے بچے جو سکولوں میں امتیازی سلوک کی وجہ سے جا نہیں پاتے اور اگر جاتے ہیں تو بھگا دیے جاتے ہیں۔ سٹریٹ چلڈرن یعنی وہ بچے جنہیں گھر میسر ہی نہیں ہیں اور وہ گلیوں اور سڑکوں پر رہنے پر مجبور ہیں۔ وہ لڑکیاں ہیں جن کی کم عمری میں شادیاں کر دی گئی ہیں اور ان میں سے بہت ساری مائیں بھی بن گئی ہیں جبکہ خود ابھی بچوں کی کیٹیگری میں ہیں۔

دور دراز علاقوں میں رہنے والے وہ بچے ہیں جن کے قریب کوئی سکول ہی نہیں یا اگر سکول ہے بھی تو وہاں کوئی استاد ہی نہیں۔ خانہ بدوش لوگوں کے بچے سکول نہیں جا پاتے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں رہنے والے بہت سے مہاجر بچے بھی سکول نہیں جا سکتے۔ بہت سے وہ بچے جو ہاری اور مزارح خاندانوں کے ہیں وہ سکول نہیں  سکتے۔ بانڈڈ لیبر میں پھنسے خاندانوں کے بچے بھی سکول نہیں جاتے۔ اور بھی نہ جانے کون کون سے بچے ہیں جو سکول نہیں جاتے۔

اوپر بیان کی گئی ہر قسم کے بچوں کی تعداد، پاکستان میں، لاکھوں میں ہے۔ ان بچوں کو سکول بھیجنا آسان نہیں۔ ایک ایک گروپ کو پہچاننا پڑتا ہے اور اس تک تعلیم پہنچانے کے لیے پلان کرنا پڑتا ہے۔ اس کام کے لیے مالی وسائل کے ساتھ ساتھ بہت اچھی، تفصیلی اور لمبے عرصے کی منصوبہ بندی اور مینجمنٹ بھی درکار ہے۔ یہ سب چیزیں تو مہیا کی جا سکتی ہیں لیکن ریاست کی نیت ہی نہیں۔ بچوں کی تعلیم کے حوالے سے ہماری کسی بھی حکومت نے سنجیدگی سے کوئی کام نہیں کیا ہے۔ تعلیم کا بجٹ دیکھ کر یہ اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں کہ ہم بچوں کا تعلیم کا حق ادا کرنے میں کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔

جو تعلیم بچوں کو مل رہی ہے اس کا معیار اتنا خراب ہے کہ اسے تعلیم کہنا ہی زیادتی ہے۔ اگر بہت رعایت بھی کی جائے تو یہ محض لکھنے پڑھنے کے ہنر سے زیادہ کچھ نہیں۔ بچوں کے حقوق کے بین القوامی معیار یعنی یو این سی آر سی کی شق 29 کے مطابق بچوں کی تعلیم ایسی ہو کہ؛

1۔ بچے کی شخصیت، قابلیت اور ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کی بھرپور نشوونما ہو سکے

2۔ بنیادی انسانی حقوق اور شخصی آزادی کا احترام کرنا سیکھ سکے

3۔ اپنی ثقافتی شناخت، زبان اور اقدار کے بارے میں جان سکے اور دوسری تہذیبوں، جو کہ اس کی اپنی تہذیب سے مختلف ہوں، کا احترام کرنا سیکھ سکے

4۔ ایک آزاد معاشرے میں ذمہ دارانہ زندگی کے لیے بچے کی تیاری، افہام و تفہیم، امن، رواداری، جنس کی مساوات، اور تمام لوگوں، نسلی، قومی اور مذہبی گروہوں اور مقامی باشندوں کے درمیان دوستی کا جذبہ پیدا ہو سکے

5۔ قدرتی ماحول کا احترام کرنا سیکھے

 


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 297 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments