ڈینگی سے ڈریں نہیں، احتیاط برتیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کل موسم تبدیل ہو رہا ہے، پہاڑی علاقوں میں سردی آ چکی ہے جبکہ میدانی علاقوں میں ابھی سردی بتدریج آہستہ آہستہ پڑ رہی ہے۔ موسم کے تبدیل ہوتے ہی بہت سی موسمی بیماریاں پھیل رہی ہیں خاص کر مچھروں کی کثرت سے ڈینگی بخار بہت پھیل رہا ہے۔ چند احتیاطی تدابیر سے آپ خود کو اور اپنی فیملی کو اس موذی اور خطرناک مرض سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

یاد رکھیں! ڈینگی سے بجائے گھبرانے کے یا ڈرنے کے احتیاط کی ضرورت ہے، گو کہ میں کوئی ڈاکٹر نہیں لیکن بطور انسان میرا فرض ہے کہ میں جس تکلیف و اذیت سے گزر چکا ہوں، خود سے جڑے ہوئے لوگوں کو اس سے محفوظ رہنے کی تدابیر سے آگاہ کروں۔

ڈینگی ایک ایسا مرض ہے جو ایک مخصوص مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے۔ ڈینگی بخار ہونے کے بعد آپ کے خون میں سے وائٹ بلڈ سیلز یعنی خون کے سفید ذرات ختم ہونے لگتے ہیں اور ساتھ ہی کچھ کھا پی نہ سکنے کے باعث سرخ خون میں بھی بتدریج کمی واقع ہونے لگتی ہے۔ میں جب اس بخار میں مبتلا ہوا تو مجھے آٹھ بوتلیں وائٹ بلڈ سیلز کی اور دو بوتلیں سرخ خون کی لگی تھیں۔

یہ ایک انتہائی خطرناک بخار ہے جس میں سب سے پہلے ٹانگوں اور جوڑوں میں شدید قسم کا ناقابل بیان درد شروع ہوتا ہے اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ آہستہ آہستہ درد و تکلیف بڑھتی ہوئی پورے جسم میں پھیل جاتی ہے اور ایک دو دن کے اندر ہی ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کے منہ کا ذائقہ اتنا کڑوا اور تلخ ہو جاتا ہے کہ پانی پینا بھی محال ہو جاتا ہے۔

تین سے چار دن کے اندر دماغ میں یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دھماکے ہو رہے ہوں اور بخار کی شدت سے جسم یوں جھلس رہا ہوتا ہے گویا کسی نے جسم میں آگ جلا رکھی ہو۔ وقفے وقفے سے بیہوشی کے دورے پڑتے ہیں جن کا صحیح علم صرف ڈاکٹر صاحبان کو ہو سکتا ہے جبکہ مریض کے قریبی لوگوں کو یہی لگتا ہے کہ مریض اب سکون میں ہے اور سو رہا ہے۔

پورا جسم ایک ناقابل برداشت و ناقابل بیان اذیت میں مبتلا ہوتا ہے اور کچھ کھانا پینا تو کجا سانس لینا بھی بوجھ لگنے لگتا ہے۔ میں چند مہینے قبل اس مرض کی تکالیف و اذیتوں سے گزر چکا ہوں اور جو مجھ پر بیت چکی ہے وہی خود سے جڑے ہوئے دوستوں کو سنا رہا ہوں۔ ممکن ہے مختلف انسانوں میں اس کے آثار مختلف قسم کے ظاہر ہوتے ہوں اور اتنی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑتا ہو مگر جو مجھ پر بیتی وہی آپ کو سنا رہا ہوں اور درخواست کرتا ہوں کہ ذیل میں درج چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیاں محفوظ کریں۔

اگر خدانخواستہ آپ کے یا آپ کے کسی عزیز میں درج بالا علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر یا کسی قابل اعتماد طبی عملے سے رابطہ کریں۔

گھروں، دفاتر یا کام کی جگہ پر کھلی جگہ میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں، واش رومز کی پانی کی ٹینکی کو ہمیشہ کسی مضبوط ڈھکنے سے بند رکھیں، کھانے پینے کے برتن اور اشیا کو ڈھانپ کر رکھیں، خصوصاً شام کے وقت پوری آستینوں کے کپڑے پہنیں، ہمیشہ کوشش کریں کہ پینے کے لیے تازہ پانی کا استعمال کریں اور وقتاً فوقتاً تازہ پانی پیتے رہیں، رات کے وقت خصوصاً شام کو کھڑکیاں دروازے حتی الامکان بند رکھیں، رات کو سوتے وقت مچھر دانی یا مچھر مار کوائل کا استعمال لازمی کریں۔

یہ چند آسان اور قابل عمل تدابیر اختیار کر کے آپ اپنی اور اپنے پیاروں کی ناصرف زندگیاں محفوظ کر سکتے ہیں بلکہ کرب و اذیت اور پریشانی سے بھی بچ سکتے ہیں۔ اگر خاکم بدہن آپ یا آپ کا کوئی عزیز ان علامات کا شکار ہو جاتے ہیں تو بجائے گھر میں ٹونے ٹوٹکے کرنے، بخار کو سنجیدہ نہ لینے کے فوراً طبی عملے سے رابطہ کریں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments