راٹا سر کی ریل سے لکھا ہوا ایک ادبی خط


اردو ادب میں شاہکار حیثیت کے حامل عبداللہ حسین کے ناول اداس نسلیں کے عاشق پیارے شرجیل بلوچ تمہیں یاد ہو گا وہ پچیس نومبر 2014 کی ہی رات تھی. ہم سب دوستوں نے مل کر شمال کی ہواؤں کی سرسراہٹ میں تھر کی ٹھنڈی پرسکون ریت پر تمہارا جنم دن منایا تھا.

قلم کی چاہ اور دھرتی کے درد کی دوستی نے یہ محسوس ہی نہ ہونے دیا کہ آپ جو ملک کے نامور صحافی، ہدایت کار، لکھاری، اور عالمی نشریاتی اداری کے وڈیو پروڈیوسر بھی ہیں. اور ہم۔ تھر کی ریت میں جنم لیہ ہوئے صحرا باسی شاعر ماحولیاتی کارکن صحافی اور شاگرد ٹھہرے. اپنائیت اور پیار کی رنگین تتلیاں قہقہوں کے گلوں پہ بے حجاب ٹھہرتی تھیں. باوجود اس کے قحط سالی اور بھوک نے تھر کی ریت کو بڑا ہی متاثر کیا ہوا تھا. باوجود اس کے روایتوں کی ریت میں رنگینی موجود تھی
اس صورت میں تمہارے ساتھ کی اس یکجہتی نے ہمیں بھی محبت کے ریشمی رومال پہنا دیے تھے.

پیارے سائیں
تم موسیقی اور مصوری سے بے پناہ پیار کرتے ہوئے ایک طاقت ور تخلیق سموئے ہوئے ہو. حال ہی میں آپ نے سندھ کے صوفی ازم پہ (کی جانا میں کون) ڈاکومنٹری بنا کر عالمی انعام کے حاصل کیا ہے. تمہارے اعزاز میں میں منائے ہوئے اس جشن کی ساعتوں میں شامل راگی کریم فقیر عارب فقیر لطیف سرکار، شیخ ایاز، استاد بخاری، سائیں داد ساند، حسن درس، کے لازوال کلام کے ساتھ لوک گیتوں کی امر دھن نے سرگم گھول کہ تھر کی ترستی ہوئی ریت میں ایک علم محبت اور روحانیت کے فلسفے کا پرچار اور راگوں کی دھن کا ردھم مچا کر نرم دلوں کی سرزمین پر ایک برسات سی برسائی ہے.

اس منفرد محفل کی شروعات ایک کویتا سے ہوئی ہے جس کے ذریعے راقم الحروف آپ کے پیدائشی دن پر آپ کو بطور اعزاز کچھ اس انداز میں پیش کرتا ہے اپنی تمام خوشیاں تمہیں دان کرتا ہوں
اور تمہارے جنم دن پر
سوچتا ہوں لمحے قید کرلئے جائیں
سورج روک دیا جائے
یا پھر تارے برسائے جائیں
تمہارے جنم دن پر
تمہارے سب ساتھی مہکے ہیں

تمہیں خوش آمدید شاعر کی اس مدھر سطروں کے بعد ہم نے تمہاری سالگرہ کا کیک کاٹا ہے ساتھ میں نوجوان شاعر شہاب نہڑی تمہارے ہاتھوں میں مور کے پروں سے بنا گلدستہ تمہیں پیش کیا ہے

اور تم نے ان پروں پر اپنی لب رکھ دیے ہیں اور کہا ہے یہ تھر کے بچے ہوئے موروں کے پر ہیں۔ اور مجھے اس وقت ننگر پارکر کے نرالے شاعر ناشاد سموں کی راٹی کھیت میں مرتے ہوئے موروں کے اوپر اک نظم "آپڑوں موریوں مری گیو” یاد آئی ہے اور ساتھ آنکھیں بھر آئی ہیں۔ مگر خود کو سنبھالے کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے تمہاری خدمتوں کو خراج دیتے ہوئے اس موقع پر تمام احباب نے گفتگو کی ہے۔ مگر سندھ کے نوجوانوں میں سرکشی سے صحافت کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے پیارے ریاض سہیل (جس کے طفیل ہم سب یہاں اکٹھے ہوئے) اور دھرتی دیول کی پروہت اور ماحولیاتی صحافی مہراج امر گرڑی گفتگو میں حسین لفظوں کا انتخاب اس طرح کیا ہے

مور کے پروں جیسے خوبصورت دوست
تمہارے پاس شاعرانہ دل اور صحافت کی آنکھ ہے
تم۔ نے بطور آرٹسٹ بھی فن کے اصولوں پر بڑا اعلی ’کام کیا ہے
اسی لئے تم اپنے دور کی آرٹسٹک دیوتاؤں کی تمام شکتیوں سے واقفیت رکھتے ہو
یہ بھی تو جانتے ہو کہ ہر بڑا آرٹسٹ تضاد اور تکرار سے کیونکر پر ہے
کیوں آخر کبھی ادبی نا انصافیوں کا ازالہ نہ ہوسکا ہے

مگر ہمارے ہاں ادبی بحث مباحثے ذات پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے ہیں میرے پیارے دوست ہم تھر کے لوگ اپنے مزاج میں بڑے ہی حساس ہوتے ہیں زندگی کے سینکڑوں درد دکھوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے زندہ رہتے ہیں

مگر تھوڑا سا دکھ ملنے پر رو دیتے ہیں محبت کی چند بوندوں کی خاطر ایک عمر تیاگ دینے والے۔ تھر کہ باسی معاشی اعتبار سے چاہے جس قدر کمزور مگر کبھی خودداری کا سر نیچا نہیں ہونے دیا۔ ہماری یہ تھری زندگی جس سے شاعروں نے محبت کی ہے

قحط کے دور میں کیکٹس کے پودے کی طرح بنجر بن جاتی ہے یہ حیات مگر برسات کی چند بوندوں کے بعد ولیوں کے آستانوں کی طرح آب حیات بن کر مہکنے لگتی ہے اور تم قحط کے دنوں میں تھر آئے تھے۔ تمہارے جنم دن کی محفل کے اندر میں نے سوچا اپنی بات کی شروعات غالب کے اس شعر سے کیوں نہ کروں۔
لرزتا ہی میرا دل زحمت مھر درخشان پر
مین ہوں وہ قطرہ شبنم جو خار بیابان پر
پر تم نے امیر خسرو کی ان سطروں سے آغاز کیا تھا
اگر فردوس بر رؤ زمین است
ھمین است، ہمین است، ہمین است
( اگرچہ اس دھرتی پر کوئی جنت ہے
تو یہی ہے یہی ہے یہی ہے )
مجھے آج بھی تمہارے وہ الفاظ حفظ ہیں
تم جو خصوصی طور پہ تھر کی ریت میں اپنا پیدائشی دن منانے آئے تھے
تم نے کہا تھا
میں نے جنم تو کوئٹہ میں لیا ہے
مگر اپنے وجود کو تھر کی ریت کے ذروں سے جوڑ رکھا ہے
ایک تھر باہر ہے
اور ایک، تھر میرے اندر رہتا ہے تھر کے قحط کا درد موسیقی کے ذریعے بھی پہنچایا جا سکتا ہے۔ تھر کے راگیوں کی آواز میں صدیوں کا سوز سمایا ہوا ہے۔ تھر کے لوگ دکھ درد قحط زدہ حیات کے باوجود بڑے مہذب بے پناہ وسعت اور محبت رکھتے ہیں۔ اس مٹی پر ابھی محبتوں کا قحط نہیں پڑا ہوا۔

اس یادگار لمحات میں ریاض سہیل امر گرڑی، کھاٹاؤ جانی، سنجھہ سادھوانی، شھاب نھڙی، ڈاکثر ہوتچند، ڈاکثر جیوت اور دوسرے بازوق نوجوان ساتھی تمہارے بانسری کے سروں میں خود اپنا آپ جیسے کھو بیٹھے۔ مگر مجھے اس دن غروب تلک مندروں میں دیا جلاتے ہوئے تمہاری بانسری یاد آئی تھی۔ کیا ہی تم نے بانسری بجائی تھی۔ اور تب ہی کوئی ایسا لمحہ بھی تو آیا تھا جب تمہاری آنکھوں میں نمی کے قطرے جھلکنے لگے تھے۔ میں نے کبھی بھی بانسری کے سروں کے ساتھ اشکوں کا یہ سریلا سرگم نہ دیکھا تھا

فارسی کے کسی شاعر نے کہا ہے ؛ صبا بہ لطف بگو آن غزال رعنا را، کہ سر بہ کوہ و بیابان دادا مارا ( اے شمال کی ہوا اس من موہنی ہرن کو کہنا کہ مجھے ریگستانوں میں مار جلایا ہے) لیکن تمہارے من کے اندر کیا طوفان تھا۔ کوئی یاد دبے پیروں چلی آئی تھی
اور مجھے تو وہ سر میٹھی میراں کی طرح کے لگے تھے
پگ پگ گھنگھرو باندھ کے آئی

میران ناچی ری۔ میراں بائی ریگستان کی بڑی نامور شاعرہ ہے آزادی کی تحریک کی متوالی میراں میراتا کے والی رتن سنگھ راٹھوڑ کی بیٹی تھی 1504 ع میں جنم لینے والی میراں کے بارے میں کہا جاتا ہے

ایک دفعہ کا ذکر ہے
جب راجپوتوں کے محل کے آگے ایک بارات گزر رہی تھی۔ جسے دیکھ کر شہزادی میراں نے ماہ رانی سے دریافت کیا۔ یہ کیا ہے؟ مہارانی بتانے لگیں یہ بارات ہے۔ جس میں ایک دولہا ہوتا ہے جو اپنے ساتھ دلہن کو بیاہ کر لے جاتا ہے۔ معصوم میراں کا دوسرا سوال تھا ماں سے کہ امان میرا دولہا کہاں ہے۔ مہارانی نے چھیڑتے ہوئے بے ساختہ محل مندر کے اندر رکھی کرشن کی مورتی کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس کے بعد میراں اپنے من مندر میں کرشن کی مورت سجا بیٹھی۔ اور زندگی کرشن کے پیار کی پوجا کرتے ہوئے وار دی۔
میراں کے ماں باپ نے باوجود اس کی ناراضی اس کی شادی میواڑ کے کنور سے کرا دی۔ مگر کرشن کی محبت کا بت سجائے میراں کا دل اسی کی اور تڑپتا ہی رہا۔ جس دل میں اک سانولا سجا بیٹھا تھا
اور تب ہی میراں نے کہا
جو میں ایسا جانتی ری، پریت کرئی دکھ ہووے نگر ڈھنڈورا پیٹتی ری پریت نہ کریو کوئی
کہتے ہیں رامائن میں سندھ کا تعارف کراتے ہوئے
یہ ایک سو پہاڑی چوٹیوں والی دھرتی ہے
جبکہ میرے علم میں تو بس تھر کے پہاڑ کی ایک ہی چوٹی کارونجھر ہی ہے
کبھی تم نے ننگر پارکر میں رات گزار کر کارونجھر کی چوٹی سے چاند کو دیکھا ہے؟

چودھویں کی رات نکلنے کے بعد سنسکرت کے شاعر دھرم کرتی کا گیت تصور پر ابھر آیا ہے ؛ راستہ خطروں سے بھرا ہوا ہے پر آج چاند کی رات ہے

اگر جو میرے گھر والوں کو پتہ لگا
لوگ تو بات بتنگڑ ہی بنا دیں
مگر آج رات میں اپنے پریتم کو کیسے مایوس کروں گی۔

دو چار قدم چل کر لوٹ آتی ہے اور کارونجھر کی چوٹی کے پاس تھر میں پیار کا پہلا شہر آباد ہوا تھا جہاں سڈونت اور سارنگا کے پریم کا قصۂ پروان چڑھا

قحط ہیں
اب بھی جب ساون کی بوندیں ننگر پارکر کی روشوں پر برستی ہیں
تب کارونجھر کے مور آہ و بکا کر کے سڈونت اور سارنگا کو پکارتے ہیں

میں نے اب کی بارشوں میں پارکت کے میدانوں میں گھومتے جب کارونجھر کے جھرنوں سے اپنی پریت کے پیر دھوئے تھے

تب تمہیں کیا بتاؤں
میرے من کی کیا کیفیت تھی
یہاں تک کہ نہ وہ سارنگا تھی نہ میں سڈونت
مگر تڑپ بہت گہری تھی کارونجھر پہاڑ ہے یا کردار؟
تمہارے ذہن میں اس سوال کے ابھرنے سے پہلے ہی میں تمہیں بتانا چاہوں گا
کارونجھر تھر باسیوں کے جینی کا اک سہارا ہے
معتبر ساتھی پہاڑ کا سینہ چھیت کی چھوت پر کس طرح چھلکتا ہے
یہ کہانی تو آندری بیلی کے ناول سینٹ پیٹرس برگ کی کتھا سے زیادہ درد انگیز ہے
عبیداللہ علیم ایک شعر کی صورت کہتا ہے ؛

کچھ عشق تھا، کچھ مجبوری تھی
سو میں نے جیون وار دیا

تم ثقافتی مجبوری سے کہیں زیادہ اپنے عشق کے بل بوتے پر تھر کے ریگستان کی کہانی کو اک نیا رخ دینے آئے ہو

تمہاری دلی تمنا ہے کہ تھر کا کیس میڈیا کے وسیلے اس طرح پیش کیا جائے
جو تھر کے آئندہ کی فکر ہر ذہن کے اندر ابھر آئے
اس وقت جب تھر میں قحط ہے
قحط کے بعد بکھرے ہوئے تھر باسی دوبارہ اپنے مکانوں میں آ بستے ہیں
مگر پیروں تلے کھسکتی ہوئی زمین دوبارہ نہیں مل سکتی

حب الوطنی کے عظیم کردار ماروی کے آبا و اجداد کو سنہرے سپنوں کی بجائے دھرتی کا تحفظ کی تسلی چاہی اقتداری سیاست کرتی ہوئی پارٹیوں کے بیچ کے طبقے کے اکثر سرپرستوں کے اندر لاطبقاتی رجہان آج تک نہیں دیکھا ہے

کیا اب ان کے وجود عوام کے سدھار کے لئے کچھ کارگر ثابت ہوسکتے ہیں؟

ان کے دلوں میں ابھی تک اپنے طبقے کی نفرت نے جنم نہیں لیا تو وہ مزدور اور ہاری کسان سے کس طرح محبت کر پائیں گے

کاش ان سیاسی پارٹیوں کے اندر بھونچال مچانے کو کبھی کوئی ایسا جوگی آ نکلے، جو بھٹائی سرکار کی ان سطروں کا مان رکھنے والا ہو۔

جوگی جگائے، مارے ودھو مامرے

اردو ترجمہ سدرۃ المنتہیٰ

Facebook Comments HS