زندگی آ مد برائے بندگی


زندگی بھی کیا عجیب منظر دکھاتی ہے۔ خود تو صاف رہتی ہے مگر لوگوں کے دامن داغدار ہوتے دیکھ رہی ہوتی ہے۔ اگر غور کیا جائے تو یہ بات حقیقت ہے کہ سب سے بڑا دل اور سب سے زیادہ برداشت ہی اسی زندگی نام کی شہ میں ہے۔ جو ہر وقت ہمارے مختلف رویوں کا سامنا کرتی ہے۔ اور ہر طرح کے معاملات میں ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ ویسے زندگی کو بھی چائے کہ انسانوں کی طرح ان سے شکوہ کرے جیسے ہم مالک حقیقی کی نا شکری کرتے ہیں۔ یہ بھی التجاء کریں مگر نہیں کرتی ویسے تو لفظ زندگی ایک چھوٹا سا لفظ ہے۔

مگر اسی زندگی نامی لفظ نے لاکھوں جانوں کو سہارا دیا ہوا ہے۔ اور یہ خاموشی سے اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔ آ خر کوئی تو ایسی بات ہے جو اس کو مجبور کرتی ہے اور اسے اس کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے حکم دیتی ہے۔ یہ ہی تو بات ہے جو میں کرنا چاہتا ہوں۔ کہ اگر اللہ کریم کی عطاء کردہ زندگی اس کے حکم کے مطابق اچھے برے انسان کی پرواہ کیے بغیر اپنی ڈیوٹی پوری کر رہی ہے۔ تو ہماری کیا اوقات اور ہمارا کیا وجود ہے کہ ہم اس کے بر عکس اپنے آپ کو بڑا معتبر سمجھنے کی کوشش کریں۔

ہمارا تو کوئی مقام ہی نہیں اور نہ کوئی معیار۔ ہم تو ہر طرف سے گناہوں میں گرفتار ہیں۔ لیکن ہم میں ہی اعلی اور پارسا انسان موجود ہیں جو مالک حقیقی اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بتائے ہوئے احکامات کا بول بالا اونچا فرماتے ہیں۔ اور دین کی سربلندی کے لئے اپنے آپ کو سر گرم رکھتے ہیں۔ ہمیں ان پر کتنا یقین کرنا چاہیے یہ ہر بندے کی ضمیر پر منحصر ہے۔ بالکل یہ بات سچ ہے کہ ہر بندہ اپنی رائے رکھتا ہے۔

مگر ایک معتبر سفید پوش جو قرآن کریم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی احادیث اور سنتوں پر عمل پیرا ہوتا ہے۔ اور دوسروں کو بھی تلقین کرتا ہے۔ میرے خیال میں وہ ایک عام آ دمی سے زیادہ معتبر بلکہ خیال نہیں حقیقت کی بات ہے کہ اس کا مقام بلند ترین ہو گا۔ یہ بزرگ طبیعت کے مالک مجھ جیسے گناہ گار سے تو افضل ہیں۔ ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی بھی اصلاحی کام فری میں ہو اور نہ ہم کرنا چاہتے ہیں بلکہ ہم تو ہر کام مہنگے داموں کرنا چاہتے ہیں تاکہ معاشرے کو بتایا جا سکے کہ میاں اس کام پر تو میرے اتنے پیسے لگے ہیں۔

آخر کیوں ہم اپنی نکمی سوچ کا استعمال کرتے ہیں اور خود سے کوئی بھی فیصلہ کرتے ہیں۔ یہ جو لوگ قرآن و حدیث کو اپنے سینے میں محفوظ کرتے ہیں اور عمر بھر اس کی رکھوالی کرتے ہیں۔ اور ہر خاص و عام کے سامنے بلا معاوضہ پیش کرتے ہیں۔ اور حق و سچ کی صدا کو بلند کرتے ہیں۔ نہ ان سردیوں کی پرواہ ہوتی ہے۔ نہ ان کو گرمیوں کی فکر ہوتی ہے۔ بس یہ جہاد فی سبیل اللہ دین محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا درس عام کرتے ہیں۔

حالات جیسے بھی ہو لیکن یہ سب سے پہلے اپنے مالک حقیقی کے رو برو اس کی ذات کو منانے کے لیے اس کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہوتے ہیں۔ شاید اس وقت آ دھا پاکستان سو رہا ہو جب یہ اللہ کے بندے ذکر و اذکار میں مصروف ہوتے ہیں اور اپنے بھائیوں کی خیر کے لیے دعا گو ہوتے ہیں۔ اور خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کے مطابق زندگی کو سنوارنے کی کوشش کر رہیں ہوتے ہیں۔ مگر افسوس ہم پھر بھی ظالم بنے رہتے ہیں اور ان کے لئے اللہ کریم کے مقدس گھر بھی بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان پر جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ان کی عزت نفس مجروح کرتے ہیں۔

آخر وہ کون سی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ہم معاشرے والے ان اللہ کے ولیوں کو دین کا کام کرنے سے روکتے ہیں۔ ہمیں ہماری آخرت کی فکر نہیں ہے ہم تو کیا سب کو فکر نہیں ہے ہم کون ہوتے ہیں کسی کو غلط سمجھنے والے اور ہمارے پاس کیا پاور ہے کہ ہم کسی کے لیے اتنی غلط رائے قائم کرے اور کسی کی ذات کو کمتر سمجھے۔ خدا کے لئے ایک بار خود سے سوچیں کہ ہم کیا ہیں اور یہ بزرگ اور سفید پوش لوگ کیا ہیں جو دین کا کام اور دین کی سربلندی کے لئے دن رات اپنے آپ کو زندگی کی تمام تر خواہشات کو ترک کر کے دین کام کرتے ہیں۔ میری تو ایک ہی عرض ہے کہ جو کام ہم خود نہیں کر سکتے جو نیکی ہم خود نہیں کر سکتے کیا اس کو دوسروں کو کرنے نہیں دینا چاہیے۔ میں عرض کرنا چاہتا ہوں اپنی عارضی زندگی کو چھوڑیں اور مستقل پتہ کی فکر کریں اور اس کی تیاری کی فکر کریں۔

Facebook Comments HS