دنیا کے نقشے پر ایک ملک پاکستان کو بنے سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی کروڑوں شہریوں کو اپنے اندر موجود ایک نادیدہ دشمن کا ہیولا دکھائی دیتا ہے، یہ ان دیکھا مصنوعی دشمن کوئی اور نہیں بلکہ ایک جبری تخیل پر انسانی ذہن کے پردے پر تشکیل کیے جانے والا غیر محب وطن، یا غدار کی صورت طویل عرصہ سے بٹھایا جا رہا ہے۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی، اس غیر حب الوطنی کی شدت کو اور اپنی حب الوطنی کی دلیل کو مزید مضبوط کرنے کی خاطر اور خود کی وفاداری اور محبت میں وزن ڈالنے کے لئے کچھ افراد، شخصیات، افسر، وکیل، صحافی، اخبارات، چینلز، سیاسی ورکرز، سیاستدان، محکموں کے کرتا دھرتا وغیرہ یہ سب اپنے آپ کو پاکستان کا وفادار نہیں بلکہ پورا پاکستان ہی قرار دے دیتے ہیں۔

یعنی اگر آپ کسی کرپٹ افسر کی نشاندہی کریں اور وہ ایک ذمہ دار محکمہ کا کوئی بڑا افسر ہے تو وہ الٹا آپ پر یہ الزام لگائے گا کہ میں پاکستان ہوں آپ میرے خلاف بات کر رہے ہیں مطلب الزام لگانے والے اب ریاست پاکستان کے مخالف ہیں اور مستند غدار اور بس وہ ہی محب وطن ہیں جس کی وجہ سے اب کرپٹ ملزم بھائی جان کو مکمل اختیار ہے کہ وہ من مانی کرتے پھریں اور اس پر طربیہ کہ ان سے کوئی سوال بھی نہ کرے۔

سوال کرنے کی صورت میں آپ کا سر پھٹ سکتا ہے، سیاہ رنگ کی ڈبل کیبن آپ کو مفت لفٹ فراہم کر سکتی ہے، چند ایک ماہ کے لئے آپ شمالی علاقہ جات کی مفت سیاحت کے مزے لوٹ سکتے ہیں، یا زیادہ سے زیادہ پراسرار حالات میں وفات پا سکتے ہیں۔ یہاں نہ جانے کیوں بہن عاصمہ جہانگیر کی اچانک یاد آ گئی۔

پاکستان کے تمام بڑے محکمے جو کہ ریاست کے اہم ستون قرار دیے جا سکتے ہیں ان کی عظمت و وقار سے کسی کو انکار نہیں، لیکن جس طرح آپ کسی ادارے کے وقار کے پیچھے چھپ کر اپنی بدکرداری اور بددیانتی کو نہیں چھپا سکتے اسی طرح ملک، وطن، ریاست جو آپ کے اور ہمارے قد سے کہیں بلند اور عظیم ہے اس کو استعمال کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ”یہ لائن اب نہیں چلے گی“

کسی بھی جج، جرنیل یا جرنلسٹ کو یہ اختیار نہیں کہ یوں وہ یہ ریاستی عظمت اور وقار اپنے نام کرے اور اس کی آڑ میں چھپ کر دوسروں کو غیر محب وطن قرار دینا شروع کر دے۔ یہ سلسلہ نہ صرف اب ہمیں سمجھنا ہو گا بلکہ روکنا ہو گا۔

وطن ہم سب کی ماں ہے، تمام شہری اس کی اولاد ہیں، اب چاہے وہ ملک میں رہائش پذیر ہوں یا سماجی و معاشی ضروریات کے باعث دیار غیر میں مقیم ہوں، فاصلوں کے باعث ان کی شناخت کو مسخ اور بات کرنے کے حق کو رد نہیں کیا جا سکتا، واضح رہے کہ ملکی خزانہ پچاس فیصد سے زائد انہی کے زر مبادلہ کی وجہ سے مستحکم ہو رہا ہے۔

یہ ملک پاکستان جتنا کسی جج، جرنیل، ایجنسی، ”ادارے“ اور کپتان کا ہے، اتنا ہی یہ ریحام خان کا ہے، وجاہت مسعود کا، گل بخاری کا ہے، رضا رومی کا ہے، عنبرین فاطمہ اور احمد نورانی کا ہے، اتنا ہی علی وزیر، محسن داوڑ، حسین حقانی اور ناچیز راقم انیس فاروقی کا ہے، مریم نواز کا بلاول کا، سعد رضوی کا یا پھر قرض تلے دبے عام غریب شہری کا، نسلہ ٹاور کے بے گھر لوگوں کا، بھوک سے مرنے والے چڑیا گھر کے شیر کا، ملازمتوں سے نکالے گئے ورکنگ صحافیوں کا، مہنگائی تلے پسے مزدور اور کسان کا ہے۔

اور ریاست جو کہ ماں ہے اس سے اولاد کا رشتہ نہ تو کوئی چھڑوا سکتا ہے نہ ہی کوئی چھوڑ سکتا ہے۔ ہاں البتہ جنہوں نے ماں کو ترک کرنے کا سوچ لیا ہے، ریڈ لائن کراس کر لی ہے، غیر کے ہاتھوں کھلونا بن کر استعمال ہونے کا تہیہ کر لیا ہے اور ماں کے جسم پر کچوکے لگانے کی نیت کر لی ہے، ان مادر فروشوں میں اور بہتری کی امید کرنے والے مثبت ناقدین میں فرق سمجھنا ہو گا اور انہیں الگ الگ صفوں میں رکھنا ہو گا، صحت مند ناقدین ہی صحت مند سوسائٹی تشکیل دیتے ہیں۔

خامیوں کی نشاندہی، افراد کے عیوب، افسران کی کرپشن، آئین شکنوں پر تنقید، ملکی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کا گھیراؤ، قانون کی بالادستی کا مذاق بنانے والوں پر لکھنا، بولنا، کسی بھی طرح سے کسی کی حب الوطنی پر سوال اٹھانے کا جواز نہیں۔ اصل غدار اور ان کی آڑ میں سب کو بلا امتیاز غدار قرار دینے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ اور کچھ ایسے لوگ جو اپنی ان کاوشوں سے تھک ہار کر مایوس ہو چکے ہیں انہیں بھی معاف کر کے گلے لگا کر مرکزی دھارے میں فراخ دلی سے جگہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے آپ کو مضبوط کرنا ہے کمزور نہیں۔ آج دشمن کی کاوشوں کو کمزور کرنے کے لئے ایسے اقدامات کرنا وقت کی پکار ہیں۔

راقم کا اپنی پیدا کرنے والی دھرتی ماں کو سلام عقیدت اور اس کی سلامتی کے لئے جان قربان کرنے کا عزم کبھی مدھم نہیں ہو گا، اس کی ترقی و بقا کے لئے لفظوں کا جہاد کبھی نہیں رکے گا، اس حسینی قافلے کے اور بہت سے احباب کو بھی جو کہ ریڈ لائن کے دوسری جانب نہیں ان کا یہ پورا حق ہے کہ وہ بہتر مستقبل، آئین اور قانون کی بالادستی اور شہری آزادی کے لئے جد و جہد کرتے رہیں اس خوف سے بالاتر ہو کر کہ کوئی انہیں بھی ریاست مخالف صفوں میں قرار دے گا اور خود ایک عظیم ریاست پاکستان کی آڑ میں کھڑا ہو کر اپنے چھوٹے قد کو بلند کرنے کی پرفریب کوشش کرے گا۔

پاکستان، پاکستان ہے اور پاکستانیوں کا ہے، نہ کوئی جرنیل، نہ کوئی جج، نہ کوئی سلطان نہ کوئی ایوب، بھٹو، یحیی، ضیا الحق، مشرف، نہ کوئی پاشا، نہ عمران، شہباز، نہ کوئی زرداری، نہ کوئی فیض، نہ کوئی باجوہ، نہ کوئی چوہدری افتخار نہ کوئی ثاقب نثار یا گلزار۔ یہ سب پاکستان نہیں یہ بات سمجھ لیں، یہ سب اس کے ویسے ہی تابع قانون عام شہری ہیں جیسے میں یا آپ۔ اس لئے اب اگر کوئی یہ بات کرے کہ ان میں سے کسی پر بھی تنقید ریاست مخالفت یا غداری کے زمرے میں آتی ہے تو یہ کالم اس کا منہ توڑ جواب ہے۔ ہم اگر سوال کرتے ہیں تو اس لئے کہ جواب ملے اور احتساب سب کا ہو سکتا ہے، ہر کوئی جواب دہ ہو سکتا ہے۔

آخر میں ایک اور سچے مگر دل دکھے وطن پرست بھائی عاشر عظیم کے قلم سے نکلے ہوئے ان شاندار الفاظ پر آج کی تحریر ختم کرتا ہوں کہ ”میں پاکستان کا شہری، پاکستان کا مالک ہوں، یہ زمین، یہ لوگ میرے ہیں، اس کے حکمران میرے مقرر کردہ اور مجھے جوابدہ ہیں“ ۔ اس لئے حضور والا براہ مہربانی پاکستان کی آڑ میں خود پورا پاکستان نہ بنیں۔