اور کتنے فہیم مغل؟


روزنامہ ایکسپریس اور کئی اداروں میں خدمات انجام دینے والے باصلاحیت کمپوزر فہیم مغل نے معاشی تنگدستی، غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر پنکھے سے لٹک کر خودکشی کرلی۔

ایک خبر جو جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور کراچی سمیت پورے ملک کو غم کی کیفیت میں لپیٹ لیا۔ خبر ہی ایسی تھی جس پر ہر آنکھ اشک بار ہو گئی۔ مگر کوئی خاموش تھا تو وہ تھی ریاستی مشینری اور وہ ادارے جنہیں مقدس صحافت کا علمبردار کہا جاتا ہے۔

2018 ء سے 2020 ء تک کا زمانہ صحافت کے شعبے سے منسلک کئی ہزار لوگوں کے لیے شدید تکلیف کا تھا۔ آئے روز ڈاؤن سائزنگ کے نام پر بغیر کسی واجبات ادا کیے کارکنوں کو بے روزگار کیا جا رہا تھا۔ اشتہارات نہ ہونے کا بہانہ بنا کر کئی کئی ماہ کی تنخواہیں روکی ہوئی تھیں مگر بیرون ممالک جائیدادیں تعمیر کی جا رہی تھیں۔ آفس آؤ تو ٹیبل پر برخاست کا لیٹر رکھا ہوا ملتا۔ یکمشت سینکڑوں کارکنوں کو بے روزگار کر دیا گیا۔ بے روزگاری سے تنگ آ کر، بیوی بچوں کی کفالت کے لیے کسی نے آلو چھولے کا ٹھیلہ لگایا تو کسی نے چپس کا، کسی نے پنکچر کی دکان پر کام کیا تو کوئی بدنصیبی کے ہاتھوں اپنی زندگی کو ختم کر گیا۔

لیکن کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ جو نیوز ڈیسک سے وابستہ لوگ تھے ان کے لیے تو پریس کلب اور یونین تنظیموں نے بھرپور احتجاج کیا اور ریلیاں بھی نکالیں۔ مگر جو کمپیوٹر ڈیسک کے کارکنان تھے ان کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔ کیونکہ صحافتی تنظیمیں کمپیوٹر ڈیسک والوں کو صحافی مانتی ہی نہیں تو ان کا ساتھ دے کون؟

فہیم مغل بھی کمپیوٹر ڈیسک کا ہی کارکن تھا۔ شاید اسی لئے اس کی آواز کسی کو سنائی نہیں دی۔ اس کے درد کو کسی نے محسوس ہی نہیں کیا۔ آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہو گیا تو ہر کوئی اس کے گھر جا رہا ہے، اس کے لواحقین سے تعزیت کر رہا ہے۔ اس کے بچوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ رکھا جا رہا ہے۔

کاش یہی کام پہلے کر لیا جاتا تو فہیم مغل کے بچے یتیم نہ ہوتے۔ اب یقیناً سماجی تنظیمیں ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی خاطر اس کے بیوی بچوں کے لیے اقدامات کریں گی۔ لیکن اس کے لئے فہیم کو اپنی جان دینی پڑی۔

وہ صحافت کے پیشے سے وابستہ تھا۔ روزانہ ایسی خبریں اس کے سامنے آتی ہوں گی جنہوں نے اپنی زندگی دے کر اپنے گھر والوں کے لیے خوشیاں خریدی۔ باپ تھا، اس پر بیوی بچوں کی ذمہ داریاں تھی، یہی سوچ کر اس نے اس حرام کام کو انجام دینے کا سوچا ہو گا۔ اپنی زندگی کو قربان کردوں تو شاید کسی کو میری بیوی بچوں پر رحم آ جائے۔ ان کی زندگی میں بہاریں آجائیں۔

کیا کیفیت ہو گی جب اس کے بچے بھوکے سوتے ہوں گے۔ کیا منظر ہو گا، جب اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا ہو گا۔
اب اس کے بچوں کا کون کفیل ہو گا؟
کیا ریاست اس کی ذمہ دار نہیں؟
کیا صحافتی ادارے اور ان کے مالکان اس کے ذمہ دار نہیں؟
کیا صحافتی تنظیمیں اس گناہ سے اپنا دامن بچا پائیں گی؟
کروڑوں کے فنڈ حاصل کرنے والے پریس کلبز اس کا مداوا کرسکیں گے؟

ہر گز کوئی اپنے سر ذمہ داری نہیں لے گا۔ رہی بات ریاست کی تو وہ ہے کہاں؟ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، اگر اس کا وجود ہوتا تو ملک میں کئی فہیم مغل ہیں جو اس کرب سے گزر رہے ہیں۔ لنگر خانے تو بنائے جا رہے ہیں مگر کارخانے بند ہو رہے ہیں۔

کوئی ریاست کو اور اس کے کرتا دھرتاؤں کو بتائے جو عزت دار لوگ ہوتے ہیں وہ لنگر خانے نہیں جاتے۔ وہ سسک سسک کر مرنا تو پسند کرتے ہیں، مگر اپنی عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتے۔ بکرے کے قورمے کھانے والے لوگ ہی کچھ اور ہوتے ہیں۔

میں جب نوائے وقت میں تھا تو تمام ہی کارکنان ایسی ہی کیفیت سے دوچار تھے۔ گھر کا کرایہ، بچوں کی فیسیں، راشن اور دوسرے اخراجات۔ ہر ایک کا یہی مسئلہ تھا۔ اندرون خانہ اسٹاف نے احتجاج بھی کیا مگر انتظامیہ پر جوں تک نہ رینگی۔ لاہور والوں نے تو جیسے تیسے کر کے اپنے لیے کچھ راہیں ہموار کرلی تھیں۔ مگر کراچی، راولپنڈی اور ملتان اسٹیشن کا حال بہت برا تھا۔ اور پھر ابتر ہو گیا۔ آج کراچی اسٹیشن کو صرف بیورو آفس بنا دیا گیا۔ ایسے کوئی روزنامے تھے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔

ریاست کو اپنی ذمہ داری کا بالکل احساس نہیں، اگر ہوتا تو وہ ضرور ایسے اقدامات کرتی جن سے غریب ورکروں کو جینے میں دشواری پیش نہ آتی۔ غریبوں کے دکھوں کا مداوا کیا جاتا۔ باتوں اور دعوؤں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔

صحافتی تنظیمیں اس معاملے کو بنیاد بنا کر آئندہ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔ نیوز ڈیسک ہو یا کمپیوٹر ڈیسک، وہ صحافتی شعبے سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ جس طرح نیوز ڈیسک والوں کو صحافی تسلیم کیا جاتا ہے کمپیوٹر ڈیسک والوں کو بھی صحافی سمجھتے ہوئے ان کے بھی درد کا درماں بنا جائے۔ ایک فہیم مغل نے تو اپنی جان دے دی، اب اس جیسے دیگر لوگوں کے لئے اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ کوئی بچہ یتیم نہ ہو، کوئی عورت بیوہ نہ ہو۔

Facebook Comments HS