دریائے فرات کے کنارے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل کراچی کے صحافی فہیم کی خود کشی کی خبر آئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ درد دل رکھنے والے اس سے ہمدردی جتا رہے ہیں، اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جن کی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ وہی حالت ہوگی جو فہیم کی مرنے سے پہلے تھی۔ فہیم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایکسپریس ٹی وی سے نوکری سے نکالے جانے کے بعد رکشہ چلاتا رہا مگر مکان کا کرایہ اور دیگر ضروریات پوری نہ ہونے کے باعث قرض لیا جو بروقت نہ چکا سکا۔ محنت مزدوری کے باوجود، جب ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہو گیا اور دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کرلی۔

عام آدمی کی نظر میں میڈیا والے بہت کماتے ہیں اور کماتے بھی ہیں لیکن وہی جو ”نوسرباز“ ہیں (نوسرباز، ”آن لائن“ میں تکیہ کلام کے طور پر استعمال ہوتا تھا)۔ صحافت میں وہی کامیاب ہیں جو اچھی خوشآمد کرتا ہے۔ ویسے تمام میڈیا ہاؤسز کاروباری لوگ چلا رہے ہیں اور صرف ان صحافیوں کی نوکریاں پکی ہیں جو سیٹھوں کی ملوں، یونیورسٹیاں، کالجز، ہاؤسنگ سوسائٹیز، فیکٹریوں کے ٹیکس کے معاملات اور انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہیں، یا پھر سیاسی جماعتوں اور اداروں کے پے رول پر ہیں لہذا وہ ان کے معاملات ”وہ“ دیکھتے ہیں، باقی گئی صحافت گھاس چرنے، کون سا نظریہ، کون سے جذبات۔

ہمارے اردو کے استاد مرحوم حسن عظیم ورک ہمیں چند صحافیوں کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ فلاں دیکھو ہر پریس کانفرنس میں اگلی کرسیوں پر بیٹھا ہوتا ہے، روز شام کی خبروں میں اس کی تصویر نظر آتی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ سو ہم بھی ان کی باتوں میں آ گئے اور بس پھر کیا تھا۔ لگ بھگ کوئی گیارہ، بارہ سال قبل جب باقاعدہ صحافت بطور پیشہ اختیار کی تو پہلی تنخواہ کل پندرہ ہزار (بشمول تمام مراعات) مقرر ہوئی، ٹھیک اسی روز میں نے ایک اور کمپنی میں انٹرویو تھا۔

جہاں کمپنی کے مالک نے چار گنا تنخواہ مقرر کی جبکہ دیگر مراعات بھی دینے کا وعدہ کیا، اور یہ بھی کہا کہ ہم اس میں مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔ میں چند قریبی ساتھیوں سے مشورہ کیا تو صحافت میں آنے کا مفت مشورہ عزیز دوست اظہر جتوئی نے دیا تھا۔ اس کے خیال میں میری انگریزی اچھی تھی لہذا میں صحافت میں چل سکتا تھا۔ چند دن موصوف کے ساتھ گھومنے پھرنے کے بعد ہم نے صحافی بننے کا شوق چرایا۔ انٹرویو کے بعد میں بیگم صاحبہ سے دونوں صورتحال بیان کیں تو کہنے لگی، جب صحافت کرنے کی ٹھان لی ہے تو کریں!

ہمارا کیا ہے۔ سو یوں ہم صحافی بن گئے۔ شروع شروع میں جب اخبار میں نام چھپتا تو پھولے نہ سماتے تھے۔ فیلڈ میں ان لوگوں سے ملاقات رہتی جنہیں صرف ٹی وی سکرین پر دیکھتے تھے۔ سرکاری اداروں میں جاتے تو تھوڑی بہت خاطر مدارت ہوتی تو اچھا لگتا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جب حقیقت حال آشکار ہوئی تو پانی پلو سے گزر چکا تھا۔ آج ایک دہائی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد کچھ ایسے ہی حالات سے گزارا کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک خودکشی کی کوشش نہیں کی۔

ویسے تو یہ چوتھا ستون تصور کیا جاتا ہے لیکن اس کی بنیاد اتنی کمزور ہے بس ریت کی دیوار ہے۔ ویسے تو مسلم لیگ نواز کے دورحکومت میں ہی صحافیوں کے گرد گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گیا تھا لیکن تحریک انصاف کی موجودہ حکومت نے تو سارے ”بل“ نکال دیے ہیں۔ رہی سہی کسر کرونا نے پوری کردی۔ اس دوران نہ صرف پرنٹ میڈیا سے بلکہ الیکٹرانک میڈیا سے بھی بہت سے ورکرز کی چھٹیاں ہوئیں۔ جو بچ گئے تھے وہ مالکان نے موقع غنیمت جانتے ہوئے نکال دیے۔

اب حالات یہ ہیں کہ بہت سے ”فہیم“ کچھ اور کرنے کے قابل تو رہے نہیں اور میڈیا میں کام نہیں ملتا۔ بلکہ جو ورکرز کام کر بھی رہے ہیں انہیں تنخواہیں وقت پر نہیں ملتی۔ میڈیا مالکان تو مالکان، سینئر افسران (ایڈیٹرز) وغیرہ کو ورکرز ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ صحافتی تنظیمیں بس اپنے ایجنڈے پر کام کرتی ہیں جہاں سے آشیرباد ہو گا اس کے حق میں مظاہرے بھی ہوں گے اور مالکان کے ساتھ مک مکا بھی ہو گا، ورنہ عام ورکر کی کوئی شنوائی نہیں۔

اب ریاست مدینہ کے دعویداروں سے پوچھنے کی جرات تو ہم کر نہیں سکتے، کیونکہ ان کے ٹکڑوں پر پلنے والوں کی جانب سے گالیوں کا جو سلسلہ شروع ہوتا ہے کہ خدا پناہ۔ ان کے پاس نہ دلیل ہے کہ جواب، لیکن ظاہر ہے کہ جو جھوٹا ہوتا ہے وہ زیادہ بولتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ لکھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ جب خواتین صحافیوں کو گالیاں دینے اور ڈنڈے برسانے کا دور چل رہا ہے تو یہ سب کچھ کہنا، بھینس کے آگے بین بجانے کے مترادف ہے۔

ویسے بھی صحافت اب مشن نہیں بلکہ صنعت بن چکی ہے اور کاروبار میں تو بھاؤ تاؤ کیا جاتا ہے جہاں زیادہ پیسہ ملے، چلے گا۔ بہرحال ایک بات تو ماننے والی ہے کہ بعض من چلے ابھی تک مشنری جذبے کے ساتھ اسے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اسی وجہ سے سیٹھوں کا کاروبار چل رہا ہے۔ یہ لوگ بارش، دھوپ، چھاؤں کی پرواہ کیے بغیر جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صحافت کا نام زندہ ہے اور زندہ رہے گا۔ فہیم کا نام زندہ رہے گا اور یہ فریضہ وہ لوگ سرانجام دے رہے ہیں جو ان حالات کے ساتھ زندہ ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments