آپ کے انڈر ویئر کا رنگ کون سا ہے؟: ایک تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مکرم جناب عبدالستار صاحب آف میاں چنوں کا مورخہ 28 نومبر 2021 کا مضمون ”ہم سب“ میں پڑھا ہے۔ یہ باتیں بڑی عمدہ لکھتے ہیں۔ آج کے مضمون میں کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر تبصرہ و تنقید حسب ذیل ہے۔

انہوں نے لکھا ہے :

1۔ ”یہ سوال پوچھیں گے کہ آپ جو انڈر ویئر پہنتے ہیں اس کا رنگ کیا ہے؟ اس بات کا واضح امکان موجود ہے کہ وہ آپ کو فوری طور پر بدتمیز اور بے شرم ڈکلیئر کر دے گا“

نصف صدی سے کچھ اوپر امروز میں ایک کالم نگار نے ایک میل ڈانسر کا واقعہ لکھا تھا کہ وہ ہمراہی فیمیل ڈانسر کے انڈر ویئر کا رنگ بتا سکتا ہے۔ لوگ حیران ہو جاتے۔ اس پر ایک چنچل مزاج سٹیج پر آئی۔ جب ڈانس کے بعد ڈانسر نے بتایا کہ موصوفہ نے تو انڈر وئیر پہنا ہی نہیں یہ سنتے ہی وہ غش کھا گئیں۔ یہ واقعہ تحریر کرنے کے بعد کالم نگار نے لکھا کہ دراصل یہ ایک پالش بنانے والی کمپنی ”چیری بلاسم“ کا اشتہار تھا جس پر اس وقت فحاشی کے تحت مقدمہ بھی درج ہو گیا تھا لیکن آج 1967 میں میں نے اسے ایک کالم میں بھی بیان کر دیا گیا ہے اور پڑھنے والوں کو ذرا اچنبھا نہیں ہو گا اور پھر بعد ازاں وقت کے ساتھ ساتھ مزاج میں ہونے والی تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ تاہم مکرم عبدالستار صاحب نے جو براہ راست انڈر ویئر کے رنگ کے سوال پر نتیجہ اخذ کیا ہے وہ درست بھی ہے۔

2۔ پھر آپ لکھتے ہیں : ”آج کے دور میں ہم کسی سے اس کا مذہب و عقیدہ کے متعلق سوال پوچھیں گے یہ جاننے کے لیے کہ وہ کس مذہب، عقیدہ یا فرقہ سے تعلق رکھتا ہے، یہ حرکت یا رویہ اسی بدتمیزی کے ساتھ جڑ جاتا ہے کہ جیسے آپ نے کسی کے انڈر ویئر کے متعلق پوچھ لیا ہو“ ۔

یہ تقابل ان کا درست نہیں ہے۔ کیونکہ مذہب یا عقیدہ کو پوچھنا اور انڈر ویئر کا رنگ پوچھنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ خاکسار ایک احمدی ہے جسے پاکستان میں اپنے آپ کو مسلمان کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ 1974 کے ہنگاموں کے ایام میں ملتان کی ایک مسجد کے قریب سے گزر رہا تھا کہ ایک خوبصورت داڑھی والے مخلص تبلیغی نوجوان نے مجھے سلام دعا کے بعد اسی مسجد میں ایک لیکچر سننے کے لئے دعوت دی۔ میں نے وکیلانہ جرح شروع کر دی کہ لیکچر میں نئی بات کیا ہو گی؟ وغیرہ۔ وہ مخلص نوجوان مجھے قائل نہ کر سکے تو پوچھنے لگے کہ آپ کا تعلق کس فرقہ سے ہے؟ عرض کیا کہ اگر بتا دیا تو آپ کو گراں گزرے گا۔ انہوں نے ہر طرح سے رواداری کا یقین دلایا تو عرض کر دیا۔ اس پر وہ منہ پھیر کر چل دیے۔ ان کی تبلیغ کا اختتام ہو چکا تھا اب میری باری تھی۔ تو میں نے کہا ”آپ نے وہی کیا ہے جس کا میں نے خدشہ ظاہر کیا تھا اور وعدہ کر کے آپ سلام کیے بغیر منہ پھیر کر چلے جا رہے ہیں“ ۔ اس پر اس نے شرمندگی محسوس کی اور واپس آ کر معافی مانگی۔ پھر کافی دیر ہماری مہذب انداز میں گفتگو جاری رہی۔ میرے دل میں ان کے لئے اب بھی احترام ہے۔ لیکن آج پاکستان کے تہذیبی کنویں میں بھاری مقدار میں زہر گھول دیا گیا ہے۔

3۔ مضمون نگار نے لکھا ہے : ”آج کی دنیا میں مذہب و عقیدہ کو آپ کا نجی معاملہ تصور کیا جاتا ہے جسے سڑکوں پر لا کر دکھاوا کرنا یا تبلیغ کرنا غیر مہذب رویوں میں شمار ہوتا ہے اور مہذب و سیکولر ممالک میں اس کی قطعاً اجازت نہیں دی جاتی“ ۔

یہ بات بھی درستی کے لائق ہے۔ مذہب بے شک نجی معاملہ تصور کیا جاتا ہے لیکن جرمنی میں انکم ٹیکس کے فارم میں باقاعدہ مذہب کا خانہ موجود ہے اور انکم ٹیکس کی رقم کی نسبت سے ہی سرکاری طور پر ”کلیسا ٹیکس“ بھی وصول کیا جاتا ہے اور پھر رقم کو کلیسا کے اکاؤنٹ میں بھجوا دیا جاتا ہے مگر ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس معاملہ میں محکمہ مال کو اجازت دیتا ہے یا نہیں۔ لیکن اس مذہب کے خانے میں اندراج شہری کے بیان کے مطابق ہوتا ہے نہ کہ پادری کے بیان پر۔

تاہم مذہب کا اس سے زیادہ دخل ہرگز نہیں۔ جہاں تک تبلیغ کرنے کا تعلق ہے امریکہ اور مغربی ممالک میں بے شمار تبلیغی گروپس اور تحریکات ہیں اور بنیادی اصول ”پہلے اپنا تعارف“ کروانے کے بعد آپ کی اجازت سے بات کرتے ہیں اور گھروں میں بھی اس قسم کی محفلیں ہوتی رہتی ہیں۔ البتہ ان کے نتیجہ میں قتل و غارت یا دنگا فساد برپا نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کے تبلیغی گروپس آتے رہتے ہیں۔ کینیڈا کے معروف دانشور ڈاکٹر خالد سہیل صاحب بھی ان سے ”خوب“ مستفید ہو چکے ہیں۔

4۔ مکرم عبدالستار صاحب کی یہ بات درست ہے کہ: ”مذہبی نفرت کا خمیازہ یورپ نے صدیوں جنگ و جدل کی صورت میں بھگتا ہے جب تک پوپ اور کلیسائی کلاس کی حکمرانی رہی یورپ تاریکی میں ڈوبا رہا جیسے ہی انہوں نے اس استحصالی طبقے کو اپنے راستہ سے ہٹا کر شعوری راہ اختیار کی تو یورپ احیاء العلوم کے عمل سے گزر کر آج دنیا کے تمام علوم کا بادشاہ بن چکا ہے“ ۔

اس میں ایک اضافہ کرنا مناسب ہو گا کہ خاکسار نے 1979 میں ایک بزرگ جرمن سے پوچھا کہ جرمنی ایسا ملک ہے جس میں بڑے بڑے معقول لوگ پیدا ہوئے اور تعلیم کا دور دورہ ہونے کے باوجود یہودیوں کے خلاف نفرت کی آگ کیونکر اتنی شدت اختیار کر گئی جبکہ جنگ عظیم اول میں کئی یہودیوں کو حب الوطنی کے تمغے بھی دیے گئے تھے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ تھا کہ گرجا گھروں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پھانسی لگائے جانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے اس جرم میں یہودیوں کا شامل ہونا بچوں کو بتایا جاتا تھا جس سے نفرت کا زہر ذہنوں میں جمع ہو جاتا تھا۔

5۔ مضمون نگار کی یہ بات کہ: ”ماں کی کوکھ سے تو کوئی بھی کسی مذہب کی مہر اپنی پیٹھ پر لگوا کر پیدا نہیں ہوتا بلکہ بچہ تو لامذہب ہوتا ہے مگر پیدا ہوتے ہی ہم بچے کا بلوغت تک پہنچنے کا انتظار کیے بغیر اسے اپنے آبائی مذہب میں داخل کرنے کی رسم ادا کر لیتے ہیں“ ۔

اس کو مسلمان بھی ایک حدیث نبوی کے مطابق یہ سمجھتے ہیں کہ۔ ”ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں“ تاہم مفہوم میں یہ ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ بچے کی پرداخت سے شناخت بدل جاتی ہے۔ اور والدین کا حق تربیت بالاستثناء حکومتی حق پر فائق ہوتا ہے۔

6۔ ان کا یہ کہنا بجا ہے کہ : ”ہمیں یہ موٹی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم آج کسی کو زور زبردستی اپنے خیالات منوا نہیں سکتے اور اس حقیقت کو جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر ہمیں کسی کے خیالات سے اتفاق نہیں ہے تو ہم اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس بندے کی تذلیل کرنے کا ہمیں کوئی حق نہیں ہے“ ۔

المیہ یہ ہے کہ اس بات کو جنہیں سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے وہ ایسے عارضہ کا شکار ہیں کہ دوسروں کو اپنی مزعومہ صداقت کو بزور شمشیر تسلیم کروانا اپنا فرض سمجھتے ہیں اور ان کے عقیدہ کے مطابق دوسرے ان کی بیان کردہ صداقت کو تسلیم نہیں کرتے تو وہ برابر کے شہری حقوق کے اہل نہیں رہتے لہذا چھوٹے بن کر رہیں تو ٹھیک ورنہ۔ دوسری طرف جو اس خطرناک ”عارضے“ کو بھانپ کر اس کے مضرات سے آشنا ہیں وہ اس بات پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ جہلا کے طرز عمل سے بچ کر رہیں اور اس گریز کو نادان ان کی شکست سمجھ کر اپنے جہل پر پختہ تر ہوتے جاتے ہیں۔ اسی قسم کا پس منظر کا ذکر کرنے کے بعد خورشید ندیم صاحب کے بقول، بے شک۔ ”یہاں اصلاح کے امکانات کم و بیش ختم ہو چکے ہیں۔“

لیکن فیض ؔصاحب کے مطابق:
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

7۔ مضمون نگار نے یہ بات لکھی ہے کہ ”جن تصورات کو علمی سیلاب کے اس دور میں کلاشنکوف، ڈراؤ دھمکاؤ اور تشدد و بربریت کی ضرورت پڑی اور جس فلسفہ کے پرچارکوں کو اپنے تحفظ کے لئے اسلحہ بردار محافظ رکھنا پڑیں تو سمجھ لیجیے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے“ ۔

محترم! دال پوری کی پوری ہی کالی ہے۔ جاننا چاہیے کہ۔ ”ذہنی ہم آہنگی“ ایک ایسا فیکٹر ہے جو۔ صحت، عدم صحت۔ سچ، جھوٹ۔ عقلمندی، نادانی۔ میں سے کسی کیفیت کو میسر آ جائے وہی صحت، صداقت اور عقلمندی کی دلیل بن جاتی ہے۔ بلکہ باؤلے پن کو بھی صحت مندی ثابت کر سکتی ہے۔

8۔ مضمون نگار کی یہ بات کہ ”آج کے دور کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ انسان کو اپنے ذاتی سچ یا بلیف سسٹم کے ساتھ جینے کا پورا حق ہے اور ہمیں اس حق کو تسلیم کر کے دوسروں کو بھی اپنے طور پر جینے کا حق دینا چاہیے، جو جس سوچ کے ساتھ کمفرٹ ہو اسے اپنی حد تک رکھنا چاہیے دوسروں پر ڈنڈے کے زور پر تھوپنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے“ ۔

جناب عبدالستار کی اس رائے سے مکمل اتفاق ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments