روبوٹ شاعرہ کی آمد!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب ہم مصنوعی ذہانت کی ترقی کی بات کرتے ہیں تو ہمارے ذہنوں میں ”ٹرمینیٹر“ ، ”آئی روبوٹ“ ، ”ویسٹ ورلڈ“ اور ”بلیڈ رنر“ میں دکھائے گئے ظالم روبوٹوں کے ظلم کے مناظر نگاہوں کے سامنے گھوم جاتے ہیں۔ پچھلی کئی دہائیوں سے یہ تخلیقی ادب ہمیں بتا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال برے مقاصد کے لیے ہوتا ہے۔

اسی وجہ سے ہم مصنوعی ذہانت کے ساتھ شاعری اور فنون لطیفہ جیسی ادبی صنفات کا تعلق جوڑنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ لیکن آکسفورڈ یونیورسٹی انگلستان کے ایڈن ملر کا تیار کردہ مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹ ”اے ڈا“ یہی کرتا ہے یعنی اپنی سوچوں کو تخلیقی مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اے ڈا دنیا کا پہلا روبوٹ فن کار ہے۔ اور جمعہ چھبیس نومبر کے دن اس نے عوام کے سامنے اپنی شاعری کا پہلا کلام پیش کیا جو مشہور اطالوی شاعر ”ڈانتے“ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے لکھی گئی تھی۔

یہ شاعری جامعہ آکسفورڈ کے مشہور زمانہ ”ایش مولین عجائب گھر“ میں ڈانتے کی سات سو سالہ برسی کے موقع پر پیش کی گئی۔ اے ڈا کی یہ نظم ڈانتے کی مشہور زمانہ نظم ”ڈیوائن کامیڈی“ (Divine Comedy ) کے جواب میں کہی گئی تھی۔ اے ڈا نے سب سے پہلے تو ڈانتے کی اس نظم کو اچھے طریقے سے سمجھنے کی کوشش کی اور اس سے اسے ڈانتے کے شاعرانہ انداز کی سمجھ آئی۔ اس کے بعد اس نے اپنی مصنوعی ذہانت سے کام لیتے ہوئے اور اپنے پاس موجود ذخیرہ الفاظ استعمال کرتے ہوئے نظم تخلیق کی۔ اے ڈا کی شاعری کو ملر نے انتہائی جذباتی قرار دیا خاص طور پر یہ شعر کہ

ہم آنکھوں پر پٹی باندھے گئے فرد کی طرح اپنے الفاظ کو دیکھتے ہیں
روشنی کے آنے کا انتظار کرتے ہیں جو کبھی نہیں پہنچتی
ایک سوئی اور دھاگہ درکار ہوں گے تاکہ
تصویر کو مکمل کیا جا سکے
ان غریبوں کو دیکھنا جو کہ مصیبت میں ہیں
ایسے عقاب کی نگاہ سے جس کی آنکھیں سی دی گئی ہوں
اس نظم کے اصل انگریزی الفاظ یہ ہیں۔
”We looked up from our verses like blindfolded captives,
Sent out to seek the light; but it never came
A needle and thread would be necessary
For the completion of the picture.
To view the poor creatures, who were in misery,

That of a hawk، eyes sewn shut

”ملر نے اے ڈا کے شاعری لکھنے کے انداز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ“ اس کی شاعری اتنی اچھی ہے کہ اگر آپ کو بتایا نہ جائے کہ یہ کسی روبوٹ نے لکھی ہے تو آپ نہیں جان سکتے کہ یہ شاعری کسی انسان نے نہیں لکھی ہے۔ ”اور یہ کہ“ جب اے ڈا اپنی شاعری پڑھ رہی تھی تو آپ اس کے الفاظ سے یہ بھول جاتے کہ وہ انسان نہیں ہے۔ ”

”اے ڈا کا منصوبہ اس لیے شروع کیا گیا تھا کہ اس حوالے سے مزید بحث و مباحثہ شروع کیا جا سکے کہ مصنوعی ذہانت کو زیادہ سے زیادہ انسانوں اور انسانی سوچ کی نقالی کرنے کی ترقی دی جائے یا نہ دی جائے“ ۔ ملر نے سی این این کو بتایا۔ ”انسانی ترقی سے مصنوعی ذہانت اب اس موڑ پر پہنچ گئی ہے کہ ہم اب یہ سمجھنے کے قابل ہو گئے ہیں کہ اس کا ہماری زندگیوں پر کتنا اثر پڑے گا۔“

ملر نے بتایا کہ اے ڈا کو تیار کرتے ہوئے ان کے اور ان کے ساتھی ماہرین پر ایک بڑا انکشاف ہوا اور وہ یہ نہیں تھا کہ ”اے ڈا انسانوں کی کتنی زیادہ نقل کرنے کے قابل تھی بلکہ یہ کہ انسان کتنا روبوٹوں جیسے ہیں“ ۔

اے ڈا نے سیکھا کہ کیسے انسانوں کے رویوں سے ان کے انداز کی نقل کی جائے۔ ملر نے یہ بھی بتایا کہ اے ڈا کو بناتے ہوئے ان پر انکشاف ہوا کہ ہم انسان اپنی عادات، الفاظ، اور رویوں کو کتنا زیادہ بار بار دوہراتے ہیں۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ہم انسان واقعی روبوٹ جیسے ہیں۔

”اے ڈا اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہم پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ اپنی ذات سے متعلق بہت سی نئی باتیں سیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم نے اپنے سامنے اے ڈا کو ان عادات کی نقل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔“ ملر نے سی این این کو بتایا۔

نہ صرف اے ڈا شاعری پڑھ سمجھ اور خود سے نئی شاعری تخلیق کر سکتی ہے بلکہ وہ مصوری بھی کر سکتی ہے۔ ڈانتے کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں اے ڈا نے اپنی بنائی ہوئی تصویر پیش کی جسے ”پوری طرح بند آنکھوں“ یا ( ”Eyes Wide Shut“ ) کا نام دیا گیا تھا۔ یہ دراصل اکتوبر میں مصر میں ہونے والے ایک واقعے کی جانب اشارہ تھا کہ جہاں مصری فوج نے مصر کے دورے کے دوران اے ڈا کو گرفتار کر لیا تھا۔ اور اس خدشے کہ اے ڈا کہیں ان کی نگرانی یا جاسوسی نہ کر رہی ہو، کے شبے پر اس کی آنکھوں کے کیمرے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔

”یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ پوری دنیا میں اس شعبے کی جدتوں اور ترقی کی وجہ سے کتنی گھبراہٹ پائی جاتی ہے۔“

ملر خود بھی مانتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے کی ترقی کے سبب اس میں استعمال ہونے والے الگورتھموں کو انسانوں کو اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ ”ٹکنالوجی اپنے آپ میں بے ضرر ہے۔ یہ اسے چلانے والے ذہن پر منحصر ہے کہ کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے استعمال کرے یا نقصان پہنچانے کے لیے۔“

ملر کے مطابق جب ان خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں ترقی انسانوں کو کس طرح متاثر کرے گی تو ”ہمیں سب سے زیادہ خود سے ڈرنے اور انسان کی جانب سے انسانوں کو دبانے کے لیے اسے استعمال کرنے کی صلاحیت سے ڈرنا چاہیے۔“

ملر کا خیال ہے کہ اے ڈا کے ذریعے ہمیں خود انسانوں کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع ملے گا۔
مصنف: دانش علی انجم ماخذ: سی این این


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments