انداز نصیحت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکثر لوگ کھانا کھاتے ہوئے چاول کے دانے پلیٹ میں چھوڑ دیتے ہیں یا بہت لا پرواہی کے ساتھ گرا دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم چھوٹے تھے تو گھر میں ابو جی کی موجودگی میں جب بھی چاول بنتے اور کھاتے ہوئے کوئی دانہ نیچے گر جاتا تو ابو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ چاول کا ایک دانہ پانچ کلو گندم کے برابر ہوتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ ابو جی یہ بات کیوں کہا کرتے تھے۔ لیکن ایک بات واضح ہے کہ ہمارے دل میں چاول کے ایک دانے کی اہمیت واقعی پانچ کلو گندم کے برابر ہو گئی تھی۔ اگر کھانا کھانے کے دوران غلطی سے کوئی دانہ گر جاتا تو ہم یہی سوچ کے اٹھاتے تھے کہ اگر یہ پانچ کلو گندم کے برابر ہے تو ہمیں اتنا رزق ضائع کرنے پر بہت گناہ ملے گا۔

آج شام یونیورسٹی سے فارغ ہونے کے بعد جب ہاسٹل پہنچی تو کھانے میں پلاؤ تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر اپنے کمرے سے پلیٹیں اٹھا کر دھونے کے لئے لے گئی۔ سب پلیٹیں سنک میں سامنے رکھ کر میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی ابو کی بات میں مصلحت ضرور تھی۔ چاول کا ایک دان پانچ کلو گندم کے برابر تو نہیں ہوتا لیکن نصیحت کا اتنا خوبصورت انداز کہ کئی سال گزرنے کے بعد بھی جب ابو جی نہ تو ساتھ ہوتے ہیں اور نہ ہی گرے ہوئے دانے چننے کو کہا جاتا ہے آج بھی ایسے ہی لگتا ہے کہ اگر ایک دانہ بھی گر گیا تو بہت گناہ ہو گا۔

لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ نصیحت کا انداز ایسا اپنائیں کہ آپ کی بات دیر تک بچوں کے ذہن میں رہے۔ ہمارا بچپن آج سے سولہ سترہ سال پہلے کی بات ہے جب بچے والدین کی نصیحت سنتے تھے، والدین کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے اور ان سے بات چیت کرتے تھے۔ والدین انہیں آداب معاشرت سکھاتے تھے، انٹرنیٹ، کارٹون اور وائی فائی کی سہولت موجود نہیں تھی۔ اس دور میں والدین کا انداز نصیحت اس قدر خوبصورت تھا کہ ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کی باتیں یاد رہتی ہیں۔ موجودہ دور میں بچوں کی تربیت ایک چیلنج ہے۔ بچوں کے پاس والدین کو سننے کا وقت نہیں۔ سکول، ٹیوشن، کھیل، اور ٹیکنالوجی نے اولاد اور والدین کے بیچ اتنا وسیع خلا جنم دیا ہے کہ دونوں کے پاس وقت ہی نہیں ایک دوسرے سے بات کرنے کا۔

نیک اولاد انسان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہوتی ہے لہذا والدین کو چاہیے کہ اولاد کے لئے جائیدادیں بنانے کی فکر کی بجائے ان کی تربیت پر غور کریں۔ اپنی اولاد کو وقت دیں گھر میں بھی اور گھر کے باہر بھی ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں تاکہ اس ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ بے راہروی اور برائی سے بچ سکے۔ ایسا انداز نصیحت اپنائیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بھی آپ کی بات اولاد کے دل و دماغ میں رہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments