صحرا میں بہار : پہلی قسط۔
صائمہ نفیس چاک ادبی فورم اور ایونٹ مینجمنٹ کے تحت کچھ نہ کچھ سرگرمیاں کرتی رہتی ہیں جنھیں لہو گرم رکھنے کا بہانہ کہا جاسکتا ہے۔ گزشتہ دنوں چاک ادبی فورم اور ایونٹ مینیجمنٹ کے زیر اہتمام کراچی کے کچھ شعرا6 نے تھر کا دورہ کیا۔ جن میں شاعروں کے علاوہ چند ایک مجھ جیسے غیر شاعر بھی شامل تھے۔ شعرا6 میں یاسمین یاس، لبنیٰ عکس، علی کوثر، سحر علی، ہدایت سائر، آئرین فرحت، سلمان ثروت اور نعیم ثمیر شامل تھے۔ صدارت کی ذمہ داریاں مشہور شاعرہ محترمہ پروین حیدر کو سونپی گئی تھیں۔
غیر شعرا6 حضرات میں صائمہ نفیس، میں یعنی کرن صدیقی، نجم زہرا، زیفرین صابر اور سعید جدون تھے۔ اس دورے کی دعوت تھر کلچرل ونگ نے دی تھی۔ جس کا مقصد پاکستان کے مختلف حصوں کے باشندوں کے درمیان ہم آہنگی اور مذہبی و ثقافتی رواداری کو فروغ دینا تھا۔ یہ پروگرام کراچی کے شعرا6 کا مشاعرہ اور تھر کے مقامی فن کاروں کے فن کے حوالے سے تھا ایک صبح مدعوئین نیپا پہ اکٹھا ہوئے۔ صبح ساڑھے سات بجے سب کو وہاں آنے کا وقت دیا گیا تھا۔
آٹھ بجے تک سب لوگ اکٹھا ہوئے اور کوسٹر روانہ ہو گئی۔ یہ بھی بڑی بات ہے کہ یہ لوگ اتنے سویرے وقت پر پہنچ گئے اس لیے کہ اکثر لوگ دور کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ ہمارے میزبان وادھو مل بھی ہمارے ساتھ ہی شریک سفر تھے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ انجینئر ہیں اور سرکاری ملازم ہیں۔ گروپ لیڈر شہر سے باہر روانگی کے لیے یہ جگہ منتخب کرتی ہیں تو مجھے بہت آسانی ہوجاتی ہے وہ اس لیے کہ یہ جگہ میرے گھر سے پیدل فاصلے پر ہے۔
میں آرام سے آٹھ دس منٹ میں پیدل یہاں تک آجاتی ہوں۔ خیر تو ہم لوگ تھر کی طرف چل دیے اور جیسا کہ ہمارا وتیرہ ہے کہ جہاں بھی اکٹھا ہوں خوش گپیوں کے ساتھ ساتھ خوش آہنگ نغمہ سرائی بھی شروع کر دیتے ہیں۔ سو گاڑی نے کچھ ہی فاصلہ طے کیا کہ سفر کے جوش سے سرشار گروپ کے شرکا6 بھی ترنگ میں آ گئے اسپیکر پر تیز موسیقی کے ساتھ سب لوگ گیت کے بولوں کے ساتھ آواز ملانے لگے اور کچھ پرجوش لوگوں نے چٹکیاں اور تالیاں بجا کر موسیقی کی پسندیدگی کا اظہار کیا۔
ہمارے گروپ کے مستقل گلوکار زیفرین ہیں جو ایسے ہر پروگرام اور ہر محفل میں اپنی آواز کا جادو جگاتے ہیں اور ہمیں محظوظ کرتے ہیں لیکن اس کا کیا کیجیئے کہ ہم لوگوں نے تو گویا قسم کھا رکھی ہے کہ زیفرین کو اکیلے گانا نہیں گانے دیں گے جہاں زیفرین نے گانے کے بول اٹھائے سب نے آواز سے آواز ملائی یوں سولو گیت بھی کورس بن جاتا ہے۔ ایک گانا تو گویا اب گروپ کا ٹریڈ مارک بن گیا اور وہ ہر مرتبہ لازمی گایا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ اس گانے سے میں لطف اندوز ہوتی ہوں وہ گانا ہے ”تو ہے میری کرن“ ۔ اس مرتبہ میرے ساتھیوں نے اس میں ترمیم کر کر کے اسے اور مزے کا گیت بنایا۔ اصل میں اس مرتبہ ہدایت سائر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جہاں وہ اچھے شاعر اور اچھے براڈکاسٹر ہیں وہاں ان کی حس مزاح بھی بہت زبردست ہے نہ صرف مذاق سے لطف اندوز ہوتے ہیں بلکہ برجستہ جواب بھی دیتے ہیں۔ اس مرتبہ مرد حضرات کے پورے گروپ نے ”تو ہے میری کرن“ کو ”تو ہے میری بہن“ کہہ کے گایا۔
اس گانے پہ ان لوگوں کا جوش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ گانے کے اختتام پہ میں نے کہا آپ لوگوں نے بہت اچھا گایا اب میں آپ سب کو راکھی باندھوں گی۔ اس پہ تو وہ زوردار قہقہہ پڑا کہ نہ پوچھیے۔ یہ سفر ایک مختلف علاقے کا تھا۔ ایسے علاقے کا جہاں کے لباس اور ثقافت سے لے کر رہن سہن تک ایک مختلف انداز کا حامل تھا سو سب ہی لوگ اس علاقے کی سیر کے خیال سے جوش محسوس کر رہے تھے۔ شہر کی حدود ختم ہوئیں اور سب لوگ دل بھر کے گانے سن بھی چکے اور گا بھی چکے تو انھیں ناشتہ یاد آیا کیوں کہ ان میں سے کئی افراد تو بہت ہی سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے یا تو ناشتہ کیا ہی نہیں یا اتنا ہلکا پھلکا کچھ کھایا کہ گیارہ بجے تک وہ ہلکا سا ناشتہ بھی ہضم ہو گیا اور ان کو بھوک ستانے لگی چناں چہ ایک چائے کے ہوٹل پہ رک کے کہ جہاں پراٹھا بھی دست یاب تھا، ہم نے چائے پی، پراٹھا آملیٹ کھایا اور یاسمین یاس کے آلو کے کبابوں اور پروین حیدر کے گھر کے کباب پوریوں سے انصاف کیا۔
مجھے یہ بہت افسوس ہے کہ خاص طور پہ زاد سفر کے لیے میں نے اپنی پسندیدہ مولی کی بھجیا پکوائی تھی لیکن اپنے بیگ میں وہ ہی رکھنا بھول گئی تھی۔ جلدی کی دہشت اتنا حواس پہ سوار تھی کہ نہ پوچھیے۔ میں نے جب اس بات کا ذکر کیا تو یاسمین یاس نے مصنوعی غصے سے مجھے گھورا اور کہا تم مولی کی بھجیا لانا کیسے بھولیں؟ ابھی واپس گھر واپس جاوٴ اور لے کر آوٴ۔ اس مزے کے جملے پہ آس پاس بیٹھے سب دوستوں نے قہقہہ لگایا۔ اس جگہ کچھ اور لوگ بھی تھے جو ناشتہ کر رہے تھے۔
یہ مزدور پیشہ لوگ معلوم ہو رہے تھے۔ یہ لوگ دیکھنے میں تو اتنے خوش حال نظر نہیں آرہے تھے لیکن کشادہ دلی کا تعلق خوش حالی سے نہیں ہوا کرتا۔ وہ لوگ اپنے کھانے میں سے ارد گرد پھرنے والے جانوروں کو بھی روٹی کے ٹکڑے ڈال رہے تھے۔ ہوٹل کھلی جگہ پہ بنا ہوا تھا کھلے ماحول کا اپنا ہی تاثر ہوتا ہے لیکن جو ایک خراب ہم نے دیکھی اور اس سفر میں کئی جگہ ہمیں اس سے پالا پڑا وہ یہ کہ واش رومز میں صفائی کا بے حد فقدان ہے اور یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ہمارا دین کہتا ہے صفائی نصف ایمان ہے لیکن ہم اس سے اتنے ہی لاپروا ہیں۔
ناشتے سے فارغ ہوکے چائے پی اور پھر سے چل پڑے۔ دوران سفر زیادہ تر ویران اور بنجر زمین ہی نظر آئی۔ اب تو کراچی بھی صحرا کا سا منظر پیش کرنے لگا ہے یا تو درخت ہیں ہی نہیں اور اگر ہیں بھی تو انھیں گرد، دھواں اور آلودگی تباہ کر رہی ہے۔ خدا جانے ارباب اقتدار کو کراچی سے کیا دشمنی ہے کہ اسے مسلسل تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ کراچی کی حدود سے باہر نکلتے ہی ایسا لگا جیسے ابھی سے صحرا شروع ہو گیا۔ اتنی زمین خالی پڑی ہے وہاں کاشت کاری کیوں نہیں ہو سکتی؟
متعدد جگہ بڑے بڑے رقبے سیم و تھور کا شکار ہیں۔ محکہ6 زراعت کا اس بارے میں کوئی کام نظر نہیں آتا۔ ایسی زمین کو دیکھ کے نہ جانے کیوں مجھے یہ احساس ہوا کہ جیسے یہ زمین موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا ہو اور دھیرے دھیرے موت کی طرف جا رہی ہو۔ اے کاش اس سلسلے میں کچھ کر لیا جائے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زمین کے بنجر پن کے ذمہ داروں کو بھی زمین کی بد دعا لگے اور وہ بھی اس ویران زمین کی طرح ہی تباہی کا شکار ہوجائیں۔ پورے سفر کے دوران یہ ہی احساس میرے ذہن پہ چھایا گیا اور مجھے تکلیف دیتا رہا۔
اے خدا تو میری زمین کو سرسبز کردے
کہ اس کی ہریالی کرے شاداب مجھے بھی
(جاری)



