گورنمنٹ کالج لاہور کا نام بدل کر تفہیم المذاہب رکھ دیا جائے


ایک مضبوط ریاست اسی وقت معرض وجود میں آتی ہے جب اس کے تمام ادارے مکمل آزادی کے ساتھ اپنی اپنی ڈومین میں رہ کر دلجمعی سے کام کر رہے ہوں بدقسمتی سے اگر ایسا نہ ہو تو (کیلا ریاست) یعنی (بنانا اسٹیٹ) بننے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ممکن ہے آپ میرے اس موازنہ سے اتفاق نہ کریں لیکن اس سے مراد یہاں افراتفری یا کنفیوژن کا ماحول ہے اور ایسا منظر اس وقت بنتا ہے جب ادارے ایک دوسرے کے دائرہ کار میں مداخلت کرنے لگتے ہیں۔

دنیا کے تمام مذاہب انسانی ورثہ ہیں اور تقریباً ہر انسان کسی نہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور ان کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ اسی وجہ سے وہ ممالک جنہوں نے بلندیوں کو چھوا ہے وہ مذہب کی بنیاد پر طویل جنگ و جدل کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ریاست کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہونا چاہیے اور اسے اپنی ساخت میں سیکولر ہونا چاہیے اور کسی بھی ریاست کا کام اپنے شہریوں کو اچھا مسلمان، یہودی، عیسائی یا ہندو بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ فلاحی ریاست بنا کر لوگوں کو بہترین طرز زندگی دینا ہونا چاہیے۔

اسی بنیاد پر انہوں نے مذہب کو انسان کا ذاتی فعل بنا دیا تاکہ انسانوں کے درمیان عقیدہ و مذہب کے نام پر تقسیم یا نفرت کا پرچار نہ ہو، لیکن ہمیں آج تک یہ بنیادی بات سمجھ نہیں آئی اور اسی وجہ سے مختلف حکومتیں انہی مذہبی جماعتوں کے ہاتھوں یرغمال بنتی رہتی ہیں۔ لیکن معاملہ اس وقت زیادہ خطرناک صورتحال اختیار کر جاتا ہے جب گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں میں اس قسم کے مائنڈ سیٹ کی ترویج ہونے لگے۔ مذہبی تعلیمی ادارے اور گورنمنٹ کے تعلیمی ادارے ان دونوں میں بنیادی فرق ”عقیدہ بالمقابل دنیاوی تعلیم“ کا ہے جس میں لٹریچر، فزکس، کیمسٹری، بائیو یا کمپیوٹر وغیرہ آتے ہیں مگر مذہبی تعلیم کا مکمل فوکس ایمان بالغیب پر ٹکا ہوتا ہے۔

دونوں کی ڈومین یکسر ہی مختلف ہیں دونوں کو مکس کر کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہو سکتے سوائے کنفیوژن کے، جو کہ ہم ستر سال سے اسی انتشار ذہن کا شکار ہیں۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی میں فزیکل معاملات زیر بحث لائے جاتے ہیں جو کہ ایسے علوم ہوتے ہیں جنہیں حواس خمسہ سے جانا اور پہچانا جا سکتا ہے اور عملی طور پر زیر بحث لایا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس مذہبی علوم کا تعلق آپ کے عقیدہ سے ہوتا ہے اور روایتی فکر کے مطابق اس کو ہر صورت میں ماننا ہی پڑتا ہے یعنی عقل کو خاطر میں لانا اور سوال کرنا بالکل ممنوع ہوتا ہے۔

اب ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی آبیاری کرنے کے لئے ملکی اور غیر ملکی سطح کے ماہرین تعلیم کو بلوا کر ان کے لیکچر کا اہتمام کیا جائے تاکہ مختلف تعلیمی بیک گراؤنڈ کے طلباء اپنے اپنے مضمون میں ٹاپ لیول کو چھو سکیں۔ دنیا بھر میں تعلیمی اداروں میں بڑے بڑے علوم میں مہارت رکھنے والے لوگوں کو اعزازی لیکچرر کے طور پر بلایا جاتا ہے تاکہ طلباء کا دائرہ علم وسیع ہو اور کوئی گوشہ رہ نہ جائے۔

لیکن ہمارے ملک کی یونیورسٹیز کی ترجیحات آج کے جدید دور میں کچھ اور ہی بنتی جا رہی ہیں، کچھ عرصہ پہلے کراچی یونیورسٹی میں ایک دعوت اسلامی کے مولوی کا لیکچر کروایا گیا۔ یاد رہے یہ وہی مولوی صاحب ہیں جنہوں نے اپنے چینل پر یہ کہا تھا کہ ”سورج دھرتی کے گرد چکر لگاتا ہے اور زمین ساکن ہے“ اب ایسے بندے کو لیکچر کے لیے بلایا جائے گا جو سائنس کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتا اور اسے غلط اور گمراہ علم میں شمار کرتا ہے تو غور کیجئے جو سائنس کے طالب علم ہیں وہ اس لیکچر سے کیا اخذ کریں گے؟

کیونکہ اس سوال کا جواب انہیں اس لیکچر کے دوران مولوی صاحب سے یہ سننے کو ملے گا کہ ”سائنس مکمل طور پر غلط ہے“ تو اس کا مطلب صاف ہے کہ ان کا یونیورسٹی تک پہنچنے کا سفر بالکل بیکار گیا؟ اگر ستر سال کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں تو پھر ہمیں یونیورسٹی اور سائنس کی بالکل ضرورت نہیں ہے اور ہمیں رجوع کرنا چاہیے اور تمام تعلیمی اداروں کو مذہبی اداروں میں تبدیل کر دینا چاہیے، کم ازکم ذہنی انتشار تو ختم ہو جائے گا۔

اب حال ہی میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے وائس چانسلر پروفیسر اصغر زیدی نے مولانا طارق جمیل کو لیکچر کے لیے مدعو کر لیا ہے اور تشہیر میں ان کے ”اولڈ راوینز“ ہونے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ اگر راوینز ہونا ایک اعزاز ہے تو اس اعزاز سے مستفید ہونے والے ایسے لوگ بھی ضرور ہوں گے جو دنیا کی یونیورسٹیز میں پڑھا رہے ہوں گے اور ان کا نام سائنس کی دنیا میں بھی معتبر جانا جاتا ہو گا کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ان مولاناؤں کی بجائے یہ جو متعلقہ لوگ ہیں انہیں ترجیح دی جاتی؟

کیونکہ ہر علم کی ایک ڈومین ہوتی ہے اور اسی ڈومین کے متعلقہ ماہرین ہی اس فیلڈ میں بہتر پرفارم کر سکتے ہیں۔ اس فیلڈ کے علاوہ کسی اور بندے کو اناڑی یا عطائی سمجھا جائے گا اور اس کے نتائج بھی کوئی زیادہ شاندار نہیں نکلیں گے۔ اب گورنمنٹ کالج سے ایسے بندے بھی نکلے ہوں گے جو چور، ڈاکو یا ڈکیت بن گئے ہوں گے اب اس کا مطلب یہ تھوڑا ہے کہ انہیں بھی اعزازی لیکچر کے طور پر مدعو کیا جائے؟ کچھ عرصہ قبل اسی وائس چانسلر صاحب نے احمد رفیق اختر کو بھی مدعو کیا تھا جنہوں نے سب سے اہم بات اپنے لیکچر کے دوران طلباء کو یہ بتائی تھی کہ ”دنیا اور اس کے وسائل“ کب ختم ہو جائیں گے۔

وائس چانسلر صاحب علماء مساجد کے ممبر کی زینت ہیں اور ہم جمعہ و عیدین پر ان کی باتیں سن کر اپنے ایمان کو تقویت دیتے رہتے ہیں اور آپ کو ہمارے ایمان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن یہ بات آپ کو سمجھنا ہو گی کہ یونیورسٹی سوال، چیلنج اور کراس ٹاک کی آماجگاہ ہوتی ہے اور اسی چیلنجنگ وے سے ہی علم کے نئے سے نئے در کھلتے رہتے ہیں اور یہاں کی تعلیمی مچان اور ممبر پر سائنس دان اور ماہر تعلیم ہی جچتے ہیں۔ اس لئے عقیدہ اور بدلتے علم کی ہیئت کو مکس اپ کر کے طلبہ کو کنفیوز کرنے کی کوشش مت کیجئے اس کا نتیجہ دولے شاہ کے چوہے پیدا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں نکلے گا۔

اس یونیورسٹی سے بڑے بڑے نامور لوگ نکلے ہیں شاید فزکس کا ایک بڑا نام جسے نوبل پرائز بھی ملا تھا ”پروفیسر عبدالسلام“ وہ بھی اسی ادارے سے نکلے تھے اور ہماری مذہبی تنگ نظری کا شکار ہو کر زیادہ عرصہ باہر ہی رہے۔ اگر ہم ان لوگوں کو توجہ کا مرکز بنائیں گے جنہوں نے سائنس کی دنیا میں ایک منفرد مقام پایا ہے تو اس یونیورسٹی سے مزید ایسے ہیرے نکل سکتے ہیں مگر اس کے لیے ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہو گا۔

Facebook Comments HS