ٹک ٹک ٹک۔ الٹی گنتی شروع ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا یہ قومی المیہ ہے کہ ہم ہر مسئلہ کو ایک ہفتہ سے زیادہ یاد نہیں رکھتے آپ پچھلے ستر سال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو کوئی مسئلہ ایسا نہیں ملے گا جسے ایک ہفتہ سے زیادہ یاد رکھا گیا ہو۔ پھر چاہے وہ بینظیر کی شہادت ہویا پاک آرمی سکول کے بچوں کا بہیمانہ قتل۔ دراصل ہم عادی بھلکڑ قوم ہیں۔ یہاں بڑے سے بڑے سانحے کو بس ایک ہفتہ کی ہائپ ملتی ہے اور پھر گھر گھر میں اور ملک کے طول و عرض کے کیفے ٹیریا دفاتر چوک، گلی کے نکڑ۔ نیز ہر جگہ وہی مسئلہ زیربحث سنائی دیتا ہے۔ یعنی وہی گفتاً نشستاً برخاستاً۔

آج پھر سیالکوٹ واقعہ نے پورے ملک کا موضوع گفتگو یکسر تبدیل کر دیا ہے ہر میڈیا، ہر شخص اس موضوع پر کھل کر یاد ہے لفظوں میں اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر تو جیسے ایک کہرام مچا ہے۔ ہر دانشور نما انسان اس واقعہ کی مذمت کرتا نظر آتا ہے اور اس مذموم حرکت کا نزلہ بیرونی طاقتوں پر ڈالتا اور شیطان بیچارے کو مورد الزام ٹھہراتا نظر آتا ہے۔ اب سچ کیا ہے خدا ہی جانے کیونکہ پچھلی ساتھ دہائیوں سے ملک کا تاریخی ریپ کیا گیا ہے اس کا جواب کون دے گاہے۔

ظلم یہ کہ اس میں ہر کسی نے اپنا حصہ ڈالا ہے۔ سیالکوٹ کے شرمناک سانحہ نے پورے پاکستانیوں کا سر شرم سے جھکا دیا ہے لوگ تو پہلے ہی پاکستان میں آنے سے ڈرتے تھے اب مزید کیا ہو گا کیا پتا۔ انتہاپسندی نے دین کو یرغمال بنا رکھا ہے اور معاشی بدحالی اور اخلاقی انحطاط نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے لیکن ہم من حیث القوم یہ تسلیم کرنے کے لیے ہی تیار نہیں کہ یہ ایک سماجی مرض ہے جس کا بروقت درست ہونا ضروری ہے ہم تو مسلسل اپنی تمام تر نا اہلیاں اور کج رویاں اغیار کے کھاتے میں ڈال کر اس کو سازش قرار دے کر فوراً بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔

پچھلے دنوں ہمارے ایک وزیر جناب فواد چوہدری کے منہ سے سچ نکل ہی گیا، جو بہت بھیانک سچ تھا کہ حکومت انتہاپسندی کے آگے سرنگوں ہو چکی ہے اور حالات قابو سے باہر ہو چکے۔ بلکہ انہوں نے تو ایک الارمنگ صورت حال کی طرف نہایت سنجیدگی سے اشارہ بھی کر دیا کہ ملک میں مذہبی انتہاپسندی کا بم اب اپنے آخری مراحل میں آ چکا ہے اور اس کی ٹک ٹک ٹک ہم سب کو سنائی بھی دے رہی ہے یعنی بس اب یہ پھٹنے کو ہی ہے خدا نہ کرے ایسا ہو لیکن سچ تو سچ ہے اس کب تک جھٹلایا جا سکتا ہے۔

واقعی فواد صاحب، ایسے ہی ہے اور اس کی ذمہ دار ہماری سرکاری پالیسیوں اور عمومی سیاسی منافقتوں پر جاتی ہے۔ ہم اپنی ایک بوٹی کی خاطر پورا کٹا حلال کر رہے ہیں۔ پوری دنیا ہم پر تھوک رہی ہے، غیر تو غیر اپنے بھی ہم پر تھوک رہے ہیں اور ہم ہیں کہ بھڑکیں مار رہے ہیں کہ دنیا ہم سے ڈرتی ہے۔ ہاں دنیا ہم سے ڈرتی ہے بلکہ دیکھا جائے تو ہمارے منہ ہی نہیں لگنا چاہتی۔ مطلب کہ ایک غریب اور دوسرا منہ پھٹ کے ساتھ بھلا کیسے کوئی لین دین کرے۔ مقروض قومیں تخلیق کے میدان میں ناکام ہو جاتی ہے۔ آپ سمیت پچھلی حکومتوں نے جس طرح ہماری سیاست، معیشت اور تعلیمی نظام کا جوس نکالا ہے اب اس کے نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

پاکستان کا نام سن کو دنیا کے ماتھے کی تیوریاں اور گہری ہو جاتی ہے۔ افسوس ہم نہ تو ملک کو مذہبی ریاست بنا سکے نہ ہی مناسب سیکولر ریاست۔ ہمارا تو وہ حال ہے آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ صورت حال تو یہ ہے کہ انسانیت کی بھلائی اور دوسرے کی خدمت کی بجائے نئی نسل انتہاپسندی کو اپنا دینی شعار سمجھتے ہوئے مذہبی معراج حاصل کرنا چاہتی ہے اور منافقت کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے لیکن اہل اقتدار اور دینی اشرافیہ مسلسل میں نہ مانوں کی رٹ لگا کھڑی ہے۔ خدارا ملک پر ترس کھایا جائے پیارے وطن میں جیو اور جینے دو کا رواج عام کیا جائے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments