سانحات سیالکوٹ، غور و فکر کے پہلو


2010 میں دو حافظ قرآن بھائیوں، منیب اور مغیث کو بھرے بازار میں ہجوم نے تشدد کر کے قتل کیا اور لاشیں چوک میں لٹکا دی گئی جبکہ آج 2021 میں بھی اسی سیالکوٹ شہر میں ایک سری لنکن شہری کو ہجوم نے تشدد کر کے نہ صرف اسے بہیمانہ تشدد کر کے قتل کیا بلکہ لاش بھی جلا دی گئی۔

یہ دونوں واقعات دلخراش اور افسوس ناک ہیں۔

محض الزام لگا کر خود مدعی، وکیل اور جج بن کے کسی کو قتل کرنا سنگین جرم ہے اور اس بھی بڑھ کر اسے جلا کر خاکستر کرنا تو درندگی کی انتہا ہے۔ کسی مہذب معاشرے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح کے وحشیانہ افعال کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔

کیا خوب عکاسی کی گئی ہے کہ
”یہ آگ اسلام کی نظریاتی اساس کو جلا رہی ہے
یہ آگ اسلام کے امن پسند نظریے کو جلا رہی ہے
یہ آگ پاک نبیﷺ کی تعلیمات کو جلا رہی ہے
یہ آگ اسلام کے امن پسند چہرے کو جلا رہی ہے
یہ آگ ہر صاحب فہم و فراست کے سینے کو جلا رہی ہے ”
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تمام مکاتب فکر نے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

جناب سراج الحق نے واشگاف انداز میں نہ صرف اس کی مذمت کی ہے بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

”‏سیالکوٹ میں پیش آنے والا سانحہ شرمناک، انتہائی قابل مذمت اور اسلام و شرف انسانیت کی توہین ہے، پاکستان کی بدنامی کا باعث ہے۔ اس کا اسلام اور دینی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ غیرجانبدارانہ تحقیقات کر کے مجرموں کو گرفتار کیا جائے اور قرار واقعی سزا دی جائے۔“ جس پر تجزیہ نگار احمد منصور نے ان الفاظ میں ان کی تحسین کی ہے کہ

”‏شکریہ سر۔

اسلامی تعلیمات کی صحیح معنوں میں تشریح و فروغ کے لیے آپ جیسی قیادت کا فرنٹ فٹ پر آنا پاکستانی قوم اور عالم اسلام پر احسان ہے۔ ”

جبکہ معروف صحافی جناب حامد میر نے بھی معنی خیز انداز میں اس کو سراہا ہے کہ
”‏جناب سراج الحق صاحب اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو اور آپ کو کفر کے فتووں سے بچائے۔ آمین۔“
ہم واضح کرنا چاہیں گے کہ
مثالی معاشرے کی تعمیر کے لئے دو بنیادی چیزیں اہم ترین ہیں۔
اللہ تعالی کی فرمانبرداری یعنی خوف خدا
قانون کی عملداری اور عدل و انصاف کا قیام

ہمارا معاشرہ ان دونوں چیزوں سے عاری ہوتا جا رہا ہے۔ ریاست ہی کیا خود مذہبی طبقہ بھی دین کی درست، جامع اور معتدل تصور اور فکر کی بجائے مسلک پرستی، فرقہ پرستی اور جتھہ پرستی کی ترویج میں مشغول اور باہم دست و گریبان ہیں اور ممبر و محراب سے محبت، احترام رواداری، صبر برداشت، تہذیب اور شائستگی کی تعلیم کی بجائے فتوی بازی، سخت گیری اور انتہا پسندی کی اشاعت کی جاتی ہے اور بیان باز خود اس کا عملی شاہکار ہوا کرتا ہے ( الا ماشاءاللہ)

عین اسی طرح عوام ہی کیا خود ریاستی ادارے، اہلکار اور حکومتیں تک قانون شکنی کو اپنی بڑائی اور حاکمیت کا موثر ترین ذریعہ گردانتی چلی آ رہی ہیں۔ آئین اور قانون ان کی گھر کی لونڈی ہے۔

ماورائے عدالت قتل، مسنگ پرسنز، ”کالے ویگو“ شمالی ”علاقہ جات کی سیر“ اور ”نامعلوم“ جیسے اصطلاحات کی معنی ہی کیا ہے؟ ”مچھلی سر کی طرف سے سڑنا شروع ہوتی ہے“ کے مصداق جب اوپر کے لوگ لاقانونیت کے ”دلیر اور شیر ہیرو“ نظر آنا اعزاز سمجھ لیتے ہیں تو یہ ایک پورا کلچر بن جاتا ہے اور قومی نفسیات ٹھہرتی ہے۔

جناب ابصار عالم کی وزیر اعظم کے ٹویٹ پر یہ تبصرہ اپنے اندر ایک بڑا مفہوم رکھتا ہے۔

”ساہیوال ٹریجڈی کیس کی نگرانی بھی آپ خود ہی کر رہے تھے یہ والے جنونی تو آپ کو لانے والوں نے آپ کو تخت پر بٹھانے کے لئے“ سالوں کی محنت ”سے بنائے، پالے اور قوم پر چھوڑے اس پر آپ نے کیا کرنا۔ جبکہ پروفیسر مشتاق نے تو ڈنکے کی چوٹ پر بہت کچھ ہی کیا سب کچھ آشکار کیا ہوا ہے۔

”سیالکوٹ بربریت کا ایک سبب فیضان فیض در فیض آباد، بشکل ایک ہزار روپیہ سکہ رائج الوقت فی کس فی لفافہ۔“

ایک اہم ترین پہلو معاشرتی تقسیم اور انتہا پسندی بھی ہے اور بقول صوفی محمد انور کے

”وہ لوگ جو مذہب کو نہیں مانتے، آج ان کے یہاں ایک انتہا پسندی نظر آتی ہے۔ وہ دنیا جہان کی ساری خرابیاں، عیب اور مسائل کی جڑ ان لوگوں کو بتاتے ہیں جو مذہبی رجحانات رکھتے ہیں۔ انہیں اللہ رسول ﷺ کا نام لینے والا ہر شخص آج طالبان یا داعش کا نمائندہ اور دہشت گرد نظر آتا ہے۔ معاشرے کے بگاڑ کی ساری ذمہ داری وہ آج دین دار لوگوں پر عائد کرتے ہیں۔ دنیا میں امن و سکون کے لئے وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ایسے سب لوگوں کو ختم کر دیا جائے یا کم از کم ساری زندگی کے لئے جیلوں میں بھیج دیا جائے۔

دوسری طرف دین داروں کے اپنے مسائل ہیں، وہ خود کو حق کا داعی گردانتے ہیں اور جو ان جیسا نہیں ہے، وہ ان کے نزدیک کفر و الحاد کا نمائندہ اور قابل گردن زنی ہے۔ ان دین داروں کے سامنے اپنے فرقہ وارانہ مسائل بھی ہیں۔

غرض یہ کہ آج ہم ایک نہایت پیچیدہ انتشار کا شکار اور انتہا پسند رویوں سے مغلوب دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ اس دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کا ہے۔ آج تقسیم در تقسیم کا عمل اس حد تک گہرا ہو چکا ہے کہ مرکزیت یا وحدت کا تصور ہی باقی نہیں رہا۔ اس تقسیم نے اتنے اور ایسے مسائل پیدا کر دیے ہیں جن کا حل ممکن نظر نہیں آتا۔ بائیں بازو والے بے شک مذہب کو نہیں مانتے تھے، لیکن ان کے ہاں ایک اخلاقی نظام تھا، اس کی قدروں کو تسلیم کیا جاتا تھا، آج مادر پدر آزادی کا یہ حال ہے کہ نہ قدروں کا خیال ہے، نہ اخلاق سے کوئی واسطہ ہے۔

عدم برداشت کا یہ عالم ہے کہ اختلاف کو ذاتی مخالفت، بلکہ دشمنی سمجھا جاتا ہے، دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانا اپنی بقا سمجھا جاتا ہے، اس لئے معاشرے میں گھن لگ چکی ہے۔ ”

ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اس طرح کے واقعات کو ایک خاص اینگل سے موضوع بحث بنائے جانے کی پوری تیاری ہوتی ہے۔ جس طرح اس بات سے اتفاق کرنا مشکل ہے کہ کسی بھی فرد کو قانون کو ہاتھ میں لینا نہیں چاہیے اور کوئی سزا دینا صرف ریاست کا حق ہے عین اسی طرح یہ تسلیم کرنا بھی ناممکن ہے کہ توہین مذہب اور خاص کر توہین رسالت کے قانون کو متنازعہ، مشکوک، ختم یا بے اثر رکھا جائے۔ اس فساد کا سبب توہین مذہب/ توہین رسالت کی سزا کا قانون نہیں، بلکہ قانون کا عدم نفاذ ہے۔

پروفیسر محمد مشتاق کی وضاحت ہے کہ

”قانون کا کہنا یہ ہے کہ کسی پر توہین مذہب کا الزام ہو، تو اس کی تفتیش باقاعدہ طور پر ہوگی، ثبوت اور شواہد اکٹھے کیے جائیں گے، صفائی کا موقع دیا جائے گا، پھر بھی اگر کسی شک و شبے کی گنجائش نہ ہو، تو عدالت سزا دے گی اور پھر اس سزا کے خلاف بھی کم از کم دو دفعہ اعلی عدالتوں کے ذریعے اپیل کی گنجائش ہوگی۔ جس نے کسی کو بغیر قانونی تقاضے پورے کیے قتل کیا، تو اسے قتل کی سزا (تک) دی جائے گی۔ جس نے کسی کے خلاف توہین مذہب کا جھوٹا مقدمہ قائم کیا، اسے سات سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ جس نے عدالت میں جھوٹا بیان حلفی جمع کرایا اسے تین سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔ جھوٹی گواہی پر سزا الگ۔

ان اسباب کا کھوج لگائیں جن کی بنا پر قانون پر عمل نہیں ہو رہا اور ایسے وحشی درندے بچ نکلتے ہیں۔ ”
”ان کو یہ خوف بھی نہیں ہوتا کہ وحشت و بربریت کے اس بدترین مظاہرے پر ان کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یقین نہ ہو تو کل کے واقعے کے مرتکبین کا رویہ (اور حافظ منیب اور مغیث کے دہشت گرد قاتلین کی سزائے موت کی صرف دس سالہ سزا میں تبدیلی کی کہانی کو دیکھ لیں )

پھر بھی کوئی دلیل چاہیے تو سنگین غداری کے مرتکب عدالت سے سزا یافتہ شخص کے بارے میں معلوم کیجیے کہ وہ پھانسی چڑھ گیا ہے، جیل میں سڑ رہا ہے، یا دبئی میں مزے کر رہا ہے۔ ”

وقت کا تقاضا اور اولین ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ

حکومت، ملکی اداروں، مدارس اور مذہبی قیادت کو سنجیدگی کے ساتھ اس پہ سوچنا ہے کہ معاشرے میں انتہاپسندی، جنونیت اور تشدد پسندی کی اہم محرکات اور سدباب کے لئے موثر حکمت عملی کیا ہو سکتی ہے۔

ہر کسی کا بوقت ضرورت مفادات کی حصول کے لئے مذہبی کارڈ استعمال کرنا، جنونیت کی سرپرستی کرنا، اس کی تعلیم دینا اور مسلک پرستی، فرقہ پرستی، قانون پر عمل درآمد کا نہ ہونا اور سب سے بڑھ دین کی درست، صحیح، معتدل اور جامع تصور پیش کرنے والوں کی راستے مسدود کرنا اس کی بڑی وجوہات ہیں۔

اسلام اپنی سرشت اور مزاج میں معتدل، امن پسند، اصول پسند اور قانون پسند ہے۔ اجتماعی نظام کے قیام کا بنیادی مقصود بھی یہی ہے کہ ”امر بالمعروف اور نہی عن المنکر“ کی اصل ذمہ داری ریاست اور حکومت ہی کی ہے۔

جسٹس شوکت صدیقی, جسٹس فائز عیسی کے فیصلوں، اہم نکات، توجیہات اور تنبیہات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ اور اس پر غور و فکر کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS