ٹھوکریں زندگی میں اچھی ہوتی ہے
ٹھوکریں اچھی ہوتی ہے۔ اگر ہم ہر بار جیتے اور ہر طرف ہمیں پیار ملتا سو شاید ہم کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ زندگی ہر وقت ہمیں کچھ نہ کچھ سیکھا دیتی ہے لیکن ہماری آنکھوں پر فریب کا پردہ ہمیشہ رہتا ہے۔ اور حقیقت کو تسلیم کے بجائے ہم اس فریب میں کھوئے رہتے ہیں۔
ہمیں جب تک کامیابیاں ملتی ہے ہم بڑے اتارتے ہیں کہ ہم سب سے اعلیٰ ہیں، ہم سب سے خاص ہیں۔ لیکن جیسے ہی ہم کوئی شکست کھا لیں تو اندازہ ہو ہی جاتا ہے ہم کیا ہے اور کیا نہیں۔ ہم ہار کی ٹھوکر سے بہت کچھ سیکھ جاتے ہے۔ جو شاید جیت سے نہیں سیکھ پاتے۔ شاید تبھی اللہ تعالیٰ ہمیں ٹھوکر دیتا ہے کہ اے میرے بندے تو سنبھل جائے۔
میں بھی جب مقابلہ ہاری تو کبھی خود کو کبھی دوسروں کو اپنی شکست کا ذمہ دار سمجھتی رہی۔ لیکن امی نے کہا نہیں شکست بھی اچھی ہوتی ہے تم وہ سب سیکھ جاؤ گی جو شاید تم جیت سے نہ سیکھ پاتی۔ امیر تیمور بھی پہلے جنگوں میں ہارتا رہا لیکن جب جیتا تو آج تک اسے لوگ یاد کر رہے ہیں۔ اپنی غلطیوں سے سیکھوں۔
واقعی میں شاید میں اللہ تعالیٰ کو بھول گئی اور لوگوں سے امید لگا کہ رکھ دے کہ یہ ساتھ دے گہ اور میں کامیاب ہو جاؤ گی۔ اللہ تعالیٰ نے میرے لوگوں کے ساتھ پر غرور کو خاک میں ملا دیا اور یہی بات بتائی کہ میرے سوا کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ شاید ایک بات اور بھی مجھے سمجھانا چاہ رہا تھا۔ کہ عزت دینے اور لینے والی ذات میں ہی ہو۔ انسانوں پہ خود کو اتنا نہ انحصار بناؤ کہ اپنا آپ اور مجھے ہی بھول جاؤ۔
جب تک ہمیں ہر طرف پیار، کامیابی ملتی ہے۔ ہماری آنکھوں پہ جیسے فریب کا پردہ چھایا ہوتا ہے۔ لیکن جیسے ہی ہمیں لوگوں اور اپنی حیثیت کا اندازہ ہوتا تو جیسے کوئی شیشہ ٹوٹ جائے اور ہم حقیقت کی دنیا میں آ جاتے ہیں۔ وہ سب کچھ جان جاتے ہیں جو ہم لوگوں کے فریبی پیار و عزت اور کامیابی کے وقت سب کو نظر انداز کر بیٹھے ہوتے ہے۔
جب سب حقیقتوں کا سامنا ہم کرتے ہے وہ کچھ ٹھوکروں کی وجہ سے تب ایک الگ ہی ہمارے اندر کا انسان جاگ جاتا ہے۔
امی سے میں جب یہ سب باتیں شیئر کر رہی تھی تو انہوں نے کہا کہ جب ہمارے اندر عاجزی ختم ہو جاتی ہے، ہم فریبی دنیا کے پیار و کامیابی میں کھو جاتے ہے تو اللہ تعالیٰ ٹھوکر ہمیں دیتا ہے کہ اے میرے بندے حقیقت کو جان۔ اپنے اندر عاجزی کو جاگا۔ تو نہیں جانتا قصہ یوسف۔ کہ نہ کر غرور ان چیزوں پر جو وقتی و فریبی ہے۔ اپنے اندر عاجزی پیدا کر۔ کیوں کہ مجھے عاجزی پسند ہے۔
ٹھوکریں اچھی ہوتی ہے زندگی میں
جان جاتے ہیں ہم زندگی کی حقیقتوں کو
کھو جائے جب بھی فریبی زندگی میں
تو کھو دیتے ہے ہم اپنی عاجزی کو



بہت خوب👏