چوٹ لگی ہے تو مرہم لگائیں، دوسروں سے شکایتیں نہیں
آپ کا بچہ ہی سکول سے واپس گھر آ جائے، اور بتانے لگے کہ فلاں دوست نے اسے مارا یا اسے تنگ کیا، وہ اداس ہو جائے اور رونے لگے۔ آپ ایسا تو نہیں کریں گے کہ اسے کہیں ہاں ہاں روتے رہو، اچھا ہوا اس نے تمہیں ایسے کہا۔ لیکن اپنے آپ کے ساتھ ہم یہی کرتے ہیں کہ سمجھتے ہیں، مجھے رونے کا پورا حق ہے کہ فلاں نے مجھے ہرٹ کیا۔ بچے کو سکھائیں گے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن اپنی دفعہ؟ دوسروں کا موڈ ہم فٹافٹ ٹھیک کر سکتے ہیں!
آپ میں سے بہت سارے لوگ دوسروں کا موڈ ٹھیک کرنے میں ماہر ہوں گے، کوئی دوست، بہن بھائی، روتا ہوا آیا، آپ نے پانچ منٹ اس کی ہمت بندھائی اس کا موڈ ٹھیک کر دیا۔ اللہ نے کیسی کیسی صلاحیتیں ہمیں دی ہیں تو جب ہم کسی دوسرے کا موڈ ٹھیک کر سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے پاس اپنا موڈ ٹھیک کرنے کی بھی صلاحیت موجود ہے۔ لیکن ہمیں یہ لگتا ہے کہ اگر ہم دوسروں کا موڈ ٹھیک کریں گے تو جب ہمارا موڈ خراب ہو گا تو دوسرے ہمارا کریں گے۔
اس لئے جب موڈ خراب ہوتا ہے ہم کسی سے بات کرنا شروع کر دیتے ہیں، کسی کو فون کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میرا دل بہت گھبرا رہا تھا، مجھے تم سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی۔ اب ذرا اپنے دماغ میں ان تمام لوگوں کی لسٹ بنائیں، جنہیں آپ تب کال کرتے ہیں جب آپ لو محسوس ہو کر رہے ہوں۔ اب ذرا فرض کریں جسے آپ کال کر رہے ہوں، اس دن وہ آپ سے بھی زیادہ کسی پریشانی میں ہو۔ پھر ہوتا کیا ہے پہلے آپ کم پریشان تھے، ایسے کسی دوست سے بات کر کے پریشانی میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔ کیوں، ہمیں ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ ہمیں پریشانی میں کسی دوسرے سے بات کرنی ہی کرنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پہلے وہ میرا مسئلہ سنے گا اور پھر اس کی توثیق بھی کرے گا۔
جیسے اپنی کسی سہیلی کو بتایا جائے کہ فلاں نے میرے ساتھ غلط کیا، وہ جواب میں کہے ہاں بالکل ٹھیک کہہ رہی ہو، اس نے واقعی تمہارے ساتھ بڑی زیادتی کردی ہے، پھر اس سے ہمیں تسلی ہو جاتی ہے کہ ہم صحیح محسوس کر رہے تھے ناں، واقعی ہمارے ساتھ غلط ہو رہا ہے۔ ہمیں ایسا انسان ضرور اپنی زندگی میں چاہیے جو ہماری شکایتوں کی توثیق کرے، اور اگر اس دوست نے کہہ دیا ارے نہیں آپ نے بھی غلط کیا تو مطلب رانگ نمبر ڈائل ہو گیا۔
یہ کیسی دوستی ہے بھئی، یہ تو مجھے غلط کہہ رہی ہے، کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا! ارے یہ تو میں نہیں سننا چاہ رہی تھی۔ مجھے تو یہ سننا تھا کہ وہ غلط ہے اور میں صحیح ہوں۔ اس لئے ہم صرف ایسے دوستوں کو ہی کال ملاتے ہیں جو ہماری ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ لیکن یقین کیجئے وہ لوگ اس وقت ٹھیک نہیں کر رہے ہوتے۔ ایک بیٹی اپنی ماں کو کال کرتی ہے، ”آج میری ساس نے ایسا کہا، ایسا کیا، پھر شوہر نے بھی یہ کہا، وہ کہا۔
جواب میں ماں کہے، ارے ان کی مجال ایسا کہیں تمہیں، اف میری بے چاری بیٹی، اس گھر کے اندر کتنی دکھی ہے۔ ایسا کرنے سے کیا ہو گا؟ بیٹی کو اتنا کمزور محسوس کروا کے آخر میں مشورہ یہی دیا جا تا ہے لیکن رہنا تمہیں اسی گھر میں ہے۔ دیکھا ہم کیا کرتے ہیں۔ یہ تو گھر والوں اور دوستوں کا کام نہیں ہو نا چاہیے۔ انہیں تو چاہیے کہ وہ اس بات پر توجہ دیں کہ آپ نے کسی مشکل صورتحال کا سامنا کیسے کرنا ہے، ناکہ دوسروں نے آپ کے ساتھ کتنا برا کیا۔
ایسی باتیں کرنے سے مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔ جتنا زیادہ ہم مسئلے کو دہراتے جائیں گے، جتنی ہم دوسروں کی برائیاں کرتے رہیں گے، ان کے منفی تاثر کو خود پر حاوی رکھیں گے، اتنی ہی نیگیٹوٹی کو اپنے اردگرد بڑھاتے جائیں گے۔ اور وہ جو پہلے ہی سے درد میں ہے اگر وہ نیگیٹو بات کرتا ہی جائے گا تو اس کے درد میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اضافہ ہو گا۔ اس سب سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ دراصل ہمیں لگتا ہے کہ جب ہم اپنے دل کی بات کسی اور کو سنا دیں گے تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ذہن میں رکھئے کہ کسی کو با ر بار بتانے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
فرض کیجئے، میں دفتر میں گر گئی، چوٹ لگ گئی اور اب مجھے درد ہو رہا ہے۔ میں نے کسی دوست کو کال کی، اسے بتانا شروع کیا کہ میرے دفتر کی سیڑھیاں اتنی تنگ ہیں، اوپر سے صفائی کرنے والے فرش گیلا چھوڑ دیتے ہیں۔ دوست نے کہنا شروع کر دیا، ارے دفتر کی سیڑھیاں، پھر گیلی اور تنگ بھی۔ گرنا تو پھر بنتا ہی تھا۔ آپ خود سوچیں، ایسے باتیں کرتے کرتے کیا درد ٹھیک ہو رہا ہے؟ ہمیں لگتا ہے کہ مسائل کے بارے میں بات کر کے وہ حل ہو جاتے ہیں۔
چوٹ کسی بھی وجہ سے لگی ہو، سامنے والے نے چاہے کچھ بھی کیا ہو، کتنی بھی بڑی بات ہو، اس کے بارے میں بار بار بات کرنے سے چوٹ کبھی بھی ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اتنی دیر میں زخم مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ کیونکہ وقت گزرتا جا رہا ہے، اگر میں ابھی گری ہوں تو مجھے دوا ابھی چاہیے دس منٹ میں اگر کسی سے محض باتیں کرتی جاؤں گی تو اس دوران صرف تکلیف بڑھے گی۔ اسی طرح جذباتی تکلیف کو بھی دہرا دہرا کر ہم اپنی روح کو زخمی کرتے رہتے ہیں، اس کے لئے بھی حل تلاش کرنا چاہیے، مرہم ڈھونڈنا چاہیے اور وہ مرہم دوسروں کے بارے میں شکایتیں کرنے سے نہیں ملے گا۔
دوسروں کی شکایتیں کرنے سے ہم محض اپنی توانائی ضائع کرتے ہیں۔ اگر اس توانائی کا دس فیصد بھی اپنے اوپر لگا لیں۔ یہ سوچیں کہ، مجھے کیسے رسپانس دینا ہے، مجھے کیسے سوچنا ہے، مجھے کیسے بات کرنی ہے، مجھے رشتے ٹھیک کرنے کے لئے اپنے رویے کو بدلنا ہے۔ فلاں نے میرے ساتھ یہ کر دیا، اس نے پچھلے سال بھی یہی کیا تھا، تو وہ با ر بار ایسے کریں گے، وہ تو ہیں ہی ایسے، زندگی میں مثبت تبدیلی کیسے آ سکتی ہے اب تک آپ پرانی باتوں کو بھلا نہیں دیتے۔ ہم پرانی باتوں کو نئے دن میں بھی جب شامل کر دیتے ہیں تو نئے دن کا آغاز بھی پرانی سوچ ہی سے ہو گا۔


