ہم نیلوشی کمارا کو انصاف کیسے دیں؟


ہم نیلوشی کمارا اور اس کے دو کم سن بیٹوں کو انصاف کیسے دیں؟ نیلوشی، جو پریانتھا کمارا کی بیوہ ہے، نے ایک پریس بیان میں سری لنکا اور پاکستان کی حکومتوں سے بروز جمعہ 3 دسمبر اپنے شوہر کے کیے گئے قتل پر انصاف کی اپیل کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ سارے ملزمان قرار واقعی انصاف کا سامنا کریں۔ اس کے بیان میں یقیناً اس کے 14اور 9 سالہ بیٹوں کی آواز بھی شامل ہے۔ حکومت پاکستان ابھی تک 131 لوگوں کو گرفتار کر چکی ہے جن میں 19 مرکزی ملزم بھی شامل ہیں۔ اور کچھ وقت میں ایک مقدمہ چلے گا، ملزمان پر باقاعدہ دفعات لگیں گی سزائیں سنائی جائیں گی اور کچھ کو شاید موت کی بھی۔

جیسے ہی قتل کی خبر پھیلی، میڈیا پر سیاستدانوں، مذہبی لیڈران اور دیگر نمایاں لوگوں کے بیانات آنا شروع ہو گئے۔ پہلے دن پریانتھا صرف ”سری لنکن منیجر“ یا ”غیر ملکی“ وغیرہ سے گنا گیا مگر بعد کے دنوں میں پاکستانی وزیر اعظم کے اکاؤنٹ سے اس کا نام ٹویٹس میں آنا شروع ہوا؛ پریانتھا کمارا۔ ویسے اس کا پورا نام دئیاودانا دون ننداسیری پریانتھا کمارا ہے۔ وہ دس سال سے پاکستان میں رہ رہا تھا اور آج پہلی دفعہ ون وے ٹکٹ پر سری لنکا لوٹ گیا۔

متوقع مقدمہ کا فیصلہ جب بھی آئے گا مجھے لگتا ہے کہ کمارا فیملی کے لئے صرف ایک وقتی خبر ہی ہو گا جو خود اس کی مستقل غیر حاضری سے نبردآزما ہو گی۔ کیا فیصلے کو نیلوشی اور اس کے بیٹے انصاف مانیں گے؟ ہم کون ہوتے ہیں اس بارے کچھ کہنے والے اور اس بارے بھی کہ فیصلہ ان کے لئے کوئی سکھ کا باعث بنے گا۔ تو پھر شاید ہمارے معاشرے کو خود ہی سوچنا چاہیے کے پریانتھا، نیلوشی اور ان کے بیٹوں کے لئے انصاف کیا ہو گا۔

کیا خیال ہے کہ اس معاملے میں اگر پارلیمنٹ میں ایک بل لایا جائے۔ دئیاودانا دون ننداسیری پریانتھا کمارا (ترمیمی) ایکٹ 2021، جس کے تحت توہین رسالت قوانین کو تبدیل کیا جائے۔ اور یہ کیسا رہے گا کہ پاکستان میں ایسا ماحول بنایا جائے جس میں مذہب کے نام پر سیاست نا ہو سکے، اور نا ہی ٹی ایل پی جیسی تنظیمیں کسی  کی آلہ کار بن سکیں۔ یہ بھی پارلیمنٹ کے ایکٹ کے ذریعے ہو سکتا ہے ؛ جیسے دئیاودانا دون ننداسیری پریانتھا کمارا (ترمیمی) بل 2021 برائے کار حکومت سیکیورائلیزیشن؛ جیسے جناح خود چاہتے تھے۔ اور اگر پریانتھا کے قتل کی جگہ کے قریب ہی ایک یادگار بنا دی جائے جہاں پتھر میں یہ نقش ہو کہ اس دن اور تاریخ سے پاکستان کا معاشرہ عزم کرتا ہے کہ اب مذہب اور توہین رسالت جیسے قوانین کی بنیاد پر تفریق اور کسی کا محاسبہ نہی کرے گا، تو کیسا رہے گا۔

ہم اس سب پر یا اس میں سے کچھ ہی پر اگر 2021 کا سورج طلوع ہونے سے پہلے کم از کم کچھ کام ہی شروع کر چکے ہوں تو کیسا رہے گا۔ ویسے وہ حقیقتاً کن کو مورد الزام سمجھتی ہے اور اس سب سے نیلوشی اور اس کے بیٹوں کو کیا کچھ دائمی سکون کا احساس ہو گا؟ ہم کون ہوتے ہیں اس بارے میں کچھ کہنے والے! ۔

Facebook Comments HS