مجھے بھی مار ڈالیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات تو سیدھی سی ہے کہ پریانتھا کمارا دین اسلام کی توہین کا مرتکب ہوا تھا لہذا وہ مسلمانوں کے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں مارا گیا۔ مگر میں حیران ہوں کہ میں آج تک مشتعل ہجوم سے کیونکر بچی ہوئی ہوں جبکہ سٹکر اتار کر اسلام کی جتنی توہین پریانتھا کمارا نے کی تھی اس سے کہیں زیادہ دوسرے بہت سے بچوں کی طرح میرے بچپن کے دنوں میں میرے ہاتھوں سرزد ہو چکی ہے۔ میرے خیال میں پریانتھا کمارا غیر مسلم ہونے کے باعث کسی قدر رعایت کا مستحق تھا کیونکہ اسے عذاب الہی سے ڈرانے والا کوئی نا تھا جب کہ میرے پاس تو کشوری بیگم جیسی راسخ العقیدہ خوف خدا رکھنے والی اور عشق رسول میں پور پور ڈوبی ہوئی استاد موجود تھیں مگر اس کے باوجود مجھ سے دین اسلام کی شان میں گستاخی جیسا سنگین گناہ ایک بار نہیں بلکہ کئی بار سرزد ہوا!

آج سے کافی عرصہ قبل جب میری عمر بمشکل پانچ سال تھی، میں محلے کے ایک گھر میں ایک عمر رسیدہ خاتون سے سیپارہ پڑھنے جایا کرتی تھی۔ یہ خاتون حافظ قرآن اور صوم و صلوۃ کی پابند تھیں۔ ہمیشہ سفید چوڑی دار پاجامے، پھول دار قمیص اور سفید چادر میں ملبوس رہا کرتیں تھیں اور محلے کے بچوں کو مفت قرآن کی تعلیم دیتی تھیں۔ انھیں مدینے سے عشق تھا اور ان کی شدید خواہش تھی کہ انھیں گنبد خضرا کی زیارت نصیب ہو۔ محلے میں جب بھی خواتین کی محفل میلاد منعقد ہوتی کشوری بیگم بڑے اہتمام کے ساتھ اس میں شرکت کیا کرتیں اور اکثر و بیشتر دوران میلاد فرط جذبات سے نڈھال ہو کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتیں اور پھر بے ہوش ہو جاتیں۔ مالی حالات چونکہ اچھے نا تھے، خود بیوہ تھیں اور اکلوتا بیٹا سبزیوں کا ٹھیلا لگایا کرتا تھا لہذا گنبد خضرا کی زیارت کی آرزو دل میں لئے جہان فانی سے کوچ کر گئیں مگر بلاوا نا آ سکا۔

کشوری بیگم عشق رسول میں تو پور پور ڈوبی ہوئی تھیں ہی مگر ساتھ ہی ساتھ ان کے دل میں خوف خدا نے بھی کچھ اس طرح ڈیرے ڈال رکھے تھے کہ اٹھتے بیٹھتے زبان پر توبہ استغفار کا ورد جاری رہتا اور انگلیاں تسبیح کے دانوں پر تھرتھراتی رہتیں۔ کشوری بیگم ہمیں ناظرہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ مشہور و معروف مذہبی شخصیات سے منسوب معجزات کے قصے اور مذہب اسلام کی توہین کا ارتکاب کرنے والے کافروں، مرتدوں، نافرمانوں اور گستاخوں کے عبرت ناک انجام پر مبنی قصے بھی کچھ اس انداز میں سنایا کرتیں کہ ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔

مثال کے طور پر ان کے مطابق ایک شخص نے خانہ کعبہ کے نزدیک جھوٹی قسم کھائی اور پھر وہ دیکھتے ہی دیکھتے سانپ میں تبدیل ہو گیا۔ ایک ڈاکو جو قربانی کا جانور خریدنے کے ارادے سے آنے والے شخص کو لوٹ کر فرار ہوا تھا دیکھتے ہی دیکھتے کالے کتے میں تبدیل ہو گیا اور ایک ٹرک تلے کچل کر مارا گیا اور ایک لڑکی جس نے قرآن کی بے حرمتی کی تھی بندریا میں تبدیل ہو گئی۔ یہ تمام قصے اس قدر دل دہلا دینے والے تھے کہ اگر بھولے بھٹکے بھی کبھی کوئی ایسا فعل سرزد ہوجاتا جس میں خدا کی ناراضگی کا رتی بھر بھی امکان ہوتا تو کئی کئی دن دل سے عذاب الہی کا خوف نا جاتا۔

کشوری بیگم کا اصول تھا کہ وہ بچوں کو ابتدائی پارے قرآن سے نہیں پڑھاتی تھیں بلکہ پہلے پارے یعنی ”الم“ سے لے کر پانچویں پارے یعنی ”والمحصنت“ تک علیحدہ علیحدہ سیپاروں میں پڑھایا کرتیں اور جب کوئی بچہ پانچ سپارے مکمل کر لیتا تو چھٹا سیپارہ یعنی ”لا یحب اللہ“ باقاعدہ قرآن مجید سے پڑھاتیں۔ جب میں نے پہلا سیپارہ مکمل کر لیا تو امی نے نزدیکی بک اسٹال سے مجھے دوسرا سیپارہ منگوا کر دیا جس کے صفحات کو جوڑنے والی پن اتفاق سے بہت ڈھیلی تھی اسی وجہ سے چند دن بعد ہی سپارے کے تمام صفحات کچھ اس طرح علیحدہ ہو گئے کہ انھیں سنبھالنا مشکل ہو گیا۔

ایک سہ پہر جب میں کشوری بیگم کے صحن میں بیٹھی سبق یاد کر رہی تھی تو ہوا کا ایک تیز جھونکا کچھ اس طرح آیا کہ سپارے کے پھٹے ہوئے اوراق اپنے ساتھ اڑا کر لے گیا۔ میں نے انھیں سنبھالنے کی کافی کوشش کی مگر وہ تیز ہوا کے دوش پر اڑتے ہوئے آسمان میں نجانے کہاں لاپتہ ہو گئے۔ معاملہ چونکہ قرآن اور حرمت قرآن کا تھا لہذا میرے نزدیک یہ واقعہ ایک سانحے سے کم نا تھا سزا کے خوف کے باعث یہ واقعہ میں نے کشوری بیگم سے تو چھپا لیا لیکن گھر پہنچتے ہی ضبط جواب دے گیا اور میں نا صرف خوف خدا کے باعث رو رو کر ہلکان ہو گئی بلکہ بیمار ہو کر بستر پر بھی پڑ گئی۔

امی کو جب اس واقعے کے بارے میں معلوم ہوا تو انھوں نے مجھے تسلیاں دینے کے بعد یا تو کفارے کے طور پر ، یا شاید میرے دل میں موجود عذاب الہی کا خوف کم کرنے کی غرض سے آٹے کے کنستر سے تقریباً دو کلو آٹا نکال کر پچاس کے نوٹ کے ساتھ گلی سے گزرنے والے بھکاری کو تھمایا اور اس سے جانے انجانے میں سرزد ہونے والے تمام گناہوں کی بخشش کی دعا کی درخواست بھی کر ڈالی۔ جب بھکاری دعائیں دیتا ہوا رخصت ہو گیا تو تب میرے دل سے عذاب الہی کا خوف کچھ کم ہوا اور طبیعت سنبھلی۔ یہ دین اسلام کی شان میں سب سے پہلی گستاخی تھی جو میرے ہاتھوں سرزد ہوئی۔

میں دوسری بار دین اسلام کی شان میں گستاخی کی مرتکب اس وقت ہوئی جب ہم کرائے کے نئے گھر میں شفٹ ہوئے۔ ہم سے پہلے جو فیملی اس گھر میں مقیم تھی وہ غالباً کافی مذہبی تھی اسی وجہ سے گھر میں جگہ جگہ قرآنی آیات پر مبنی اسٹیکرز چسپاں تھے۔ حتی کہ ٹوائلٹ کے دروازے پر بھی ٹوائلٹ جانے کی دعا پر مبنی اسٹیکر چسپاں تھا۔ دروازہ چونکہ ٹوائلٹ کے اندر کھلتا تھا لہذا میری نانی کو گمان ہوا کہ کہیں ٹوائلٹ کا دروازہ کھولے جانے پر دروازے پر چسپاں دعا کی بے حرمتی نا ہو لہذا انھوں نے مجھ سے اسٹیکر ہٹانے کے لئے کہا۔ اسٹیکر چونکہ کافی پرانا تھا لہذا جب میں نے اسے ہٹانے کی کوشش کی تو وہ پوری طرح ہٹ تو نا سکا مگر پھٹ ضرور گیا۔ اب چونکہ پھٹے ہوئے اس اسٹیکر کو سنبھال کر رکھنا اتنا آسان نا تھا لہذا میں نے اسے جلا کر اس کی راکھ پودے کے گملے میں ڈال دی تاکہ لوگوں کے پیروں کے تلے نا آئے۔

پھٹے ہوئے قرآنی اوراق اپنے ہاتھوں سے ہوا میں اڑاتے ہوئے اور قرآنی آیت پر مبنی اسٹیکرز پھاڑ کر جلاتے وقت میری نیت جو بھی تھی آپ اس سے یقیناً اسی حد تک ناواقف ہیں جس حد تک ناواقف آپ پر یانتھا کمارا کی نیت سے تھے جس وقت اس نے دیوار سے مذہبی پوسٹر اتارا تھا۔

میرے ہاتھوں دین اسلام کی جو توہین سرزد ہوئی ہے وہ اگر کسی غیر مسلم کے ہاتھوں سرزد ہوئی ہوتی تو اسے نا صرف برہنہ سڑکوں پر گھسیٹا جاتا بلکہ انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنا کر قتل بھی کر دیا جاتا ؛ اور بس صرف اس پر ہی نہیں ہوتا بلکہ لاش کی بے حرمتی بھی کچھ اس طرح کی جاتی کہ اشرف المخلوق ہونے کے زعم میں مبتلا انسان کی رذالت پر دھرتی کے کیڑے مکوڑے بھی کھلکھلا کر ہنس پڑتے اور اپنے غیرانسانی وجود پر نازاں ہوتے۔

اگر پاکستانی قانون پر یانتھا کمارا کے قاتلوں کو سزا نہیں دیتا بلکہ ان کے جرم کو جسٹیفائی کرتا ہے تو پھر اس کا فرض ہے کہ قرآن اور اسلام کی توہین کرنے والے تمام افراد کو بھی بدترین سزائے موت سے ہمکنار کرے یعنی کچھ اس قسم کی موت سے جیسی پر یانتھا کمارا کو ملی کیونکہ ہمارا جرم بھی اتنا ہی سنگین ہے جتنا کہ پر یانتھا کمارا کا تھا۔ اگر پاکستانی قانون نا تو مظلوم پر یانتھا کمارا کے ظالم قاتلوں کو سزا دیتا ہے اور نا ہی پر یانتھا کمارا کے جرم کے مساوی جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو دوشی ٹھہراتا ہے تو بہتر ہے کہ مجلس قانون ساز پر پابندی عائد کردی جائے، عدالتوں پر تالے ڈال دیے جائیں، وکیلوں اور ججوں کو تاحیات رخصت پر بھیج دیا جائے، پولیس اور قانون کے نفاذ سے متعلق تمام ادارے ختم کر دیے جائیں اور ہر شخص کو فری ہینڈ دے دیا جائے کہ اس کا جس معاملے میں جو دل چاہے وہی کرتا پھرے، قانون اور نظام انصاف کی ایسی کی تیسی!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments