شاہد آفریدی سا باورچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد علی کا تعلق سکردو سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے نجانے کیا ہے۔ تاہم وجۂ شہرت باورچی ہونا ہے۔ تاہم کپڑے بھی دھو دیتا ہے اور کمرے کی صفائی بھی کر دیتا ہے۔ ہر لمحے چست، ادھر حکم ہوا ادھر علی بجا لایا۔ لہذا ہم ایسے کاہل کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں۔ دبلا پتلا، چھوٹا قد، ہلکی ہلکی داڑھی اور چہرہ ہنستا ہوا ہے۔

قریب قریب ہر طرح کے کھانے تیار کر سکتا ہے۔ اگر نہیں بنا سکتا تو بھی انکار نہیں کرے گا۔ اپنے مخصوص لہجے میں گویا ہو گا ”سر سمجھ لیں۔ برابر کرتا ہوں۔“ پہلی بار اس کے منہ سے یہ جملہ سنا تو ہم گھبرا گئے کہ شاید ہمیں کچھ بنانا سکھا رہا ہے۔ پھر ہمیں تذبذب میں دیکھ کر دفعتاً بولا۔ سر بنایا تو نہیں پہلے۔ مگر ڈبے پہ لکھا ترکیب پڑھ کے برابر کر دے گا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ ہم نے رس ملائی کا ڈبہ علی کے حوالے کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد رس ملائی کے ساتھ حاضر ہوا۔ ہم نے چکھی اور اوقات سے بڑھ کر کھا گئے۔

اسی اعتماد کی بدولت ایک روز ہم نے علی سے درخواست کی کہ سوجی کا حلوہ تیار کر دے۔ خالصتاً پنجابی حلوہ۔ ترکیب سن کر بولا ”ٹھیک ہے سر۔ برابر کرتا ہوں“ ۔ ہم کان لگا کر انتظار کرنے لگے۔ اس دانت بجتی سردی میں گرما گرم حلوے کے تصور سے بار بار منہ میں پانی بھر آتا۔ بالآخر برتن کھنکنے کی آواز آئی تو ہم نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا۔ اس غیر متوقع حرکت کے باعث علی ہڑبڑا گیا اور حلوہ گرتے گرتے بچا۔ ہم نے سکھ کا سانس بھرا اور علی نے خدا کا شکر ادا کیا۔

خیر۔ کرسی پر براجمان ہو کر تھالی میز پر رکھی۔ آنکھیں بند کر کے حلوہ چکھا تو باخدا بچپن یاد آ گیا کہ ایک مرتبہ چھوٹے چچا، بار بار بی اے کرنے کی تگ و دو میں کتابوں کی شکستہ حالت کو مرمت کرنے کے لئے ”گوند“ لے کر آئے تھے۔ اور ہم نے چپکے سے اس گوند سے اپنا معدہ مرمت کر لیا تھا۔ مگر اس بات کا حلوے سے کوئی تعلق نہیں کہ مرمت معدہ کے بعد ہمارا چہرہ شکستہ ہو گیا تھا۔

سانحہ حلوہ کے بعد ہماری ہمت نہ ہوئی کہ علی سے کسی نئی ڈش کی فرمائش کر سکیں۔ مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اگلے دو ہفتوں میں اس نے ہماری خوب تواضع کی۔ فرائی فش۔ بریانی۔ چاوٌمن۔ کوفتے۔ کباب دال اور جانے کیا کیا۔ ظالم نے روسٹڈ بینگن، چنے، مکس سبزی وغیرہ ایسے بنائے کہ ہم بجائے چپاتی کے چمچ سے کھا جاتے۔ قصہ مختصر۔ علی نے اپنا کھویا ہوا اعتماد واپس حاصل کر لیا۔

دسمبر زور دکھانے لگا تھا۔ گلگت میں جس روز موسم کی پہلی برف باری شروع ہوئی، من میں کافی (coffee) نے اشتہا انگیز انگڑائی لی۔ لہذا دفتر سے واپس لوٹتے ہوئے مہنگی سی کافی خرید لائے۔ کمرے میں پہنچتے ہی علی کو آواز دی اور کافی تھماتے ہوئے دریافت کیا! ”بنا لو گے؟“

بلا توقف جواب دیا ”سر۔ برابر کرتا ہوں“ ۔
ہم علی کی راہ تکنے لگے۔

ہیٹر لگا ہوا ہے۔ ہاتھوں میں رومانوی ناول ہے۔ گرم کمبل میں لپٹے ورق گردانی کر رہے ہیں۔ تجسس کے باعث کافی کا گھونٹ بھرنے میں قدرے تاخیر ہو جاتی ہے۔ مگر جب بھی کافی حلق سے نیچے اترتی ہے ایک عجب سی سرشاری پورے بدن میں دوڑ جاتی ہے۔ انہماک کا یہ عالم ہے کہ سگریٹ بیشتر راکھ دان ہی میں جل رہا ہے۔ سرد رات۔ گرم بستر۔ رومانوی ناول۔ سگریٹ کا دھواں۔ اور کافی کا سرور۔ ایسا لگا کہ گویا ہم بخت کے سکندر ہیں۔ ہم یہ سب تصور کر ہی رہے تھے کہ علی کافی لے آیا۔ پس! راقم نے خواب کو حقیقت کا جامہ پہنانے کی خاطر جونہی دو گھونٹ کے برابر۔ ایک گھونٹ بھرا۔ سیاہ رات، ہمارے چودہ طبق سے روشن ہو گئی۔ کتاب کے صفحات اور کمبل کے ریشے بھی ہمارے منہ سے نکلی کافی کی آبشار میں تیرنے لگے۔

اس گستاخی کے بعد ہم علی سے ایک بار پھر معافی کے خواستگار ہوئے۔ تبھی عالم غیب سے ہم پہ آشکار ہوا کہ علی باورچیوں کا شاہد آفریدی ہے۔ جو چلے تو چھکا۔ گر نہ چلے تو بندہ ہکا بکا۔ اور یہ کہ اس کا ”برابر کرتا ہوں“ کا مطلب ہمیں تنبیہ کرنا ہے۔ تاکہ ہم کھانے کی بے جا آرزوؤں کو نہ پالیں اور راہ متوازن پہ قائم رہیں۔ اب ہم نے علی کو اس کے حال پہ چھوڑ دیا ہے۔ وہ اچھا، مندہ جیسا بھی کھلاتا ہے ہم اف کرتے ہیں نہ نئے کھانوں کی فرمائش۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

محمد غفران خلیل کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments