سانحے کا انتظار کرنے والی قوم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بار پھر حیوانیت کی فتح ہوئی اور انسانیت ہار گئی۔ سیالکوٹ میں مذہب کے نام پر جو کچھ ہوا اس میں یہ کہتے ہوئے انسانیت بھی شرما جاتی ہے، کہ مسلمانوں نے مذہب کے نام پر کسی انسان کو جان سے مار دیا اور پھر اسی پر بس نہیں کیا اس کی لاش کو جلا کر راکھ کر دیا۔ بھلا مذہب نے کہاں حکم دیا ہے ایسے کسی کی جان لینے کا؟ مذہب کو بنیاد بنا کر انسانوں کو مار ڈالنا کہاں کی انسانیت ہے؟ مذہب کے ایسے ٹھیکیدار جو اسلام کا نام لے کر جنت اپنے نام الاٹ کروانا چاہتے ہیں۔

ایسے مسلمانوں کی عملی زندگی اگر دیکھی جائے تو یہ لوگ جنت میں جانے والا ایک کام بھی نہیں کرتے۔ ان کی اکثریت اسلامی عبادات سے قطعی دور ہوتی ہے۔ روزہ نماز کی ادائیگی انھوں نے کبھی زندگی میں نہیں کی ہوتی۔ یہ وہ مسلمان ہیں جو نماز جنازہ میں بھی بنا وضو کھڑے ہوتے ہیں اور مولوی کے پیچھے کھڑے ہو کر آ جاتے ہیں۔ ان کو یہ تک نہیں پتہ ہوتا کہ نماز جنازہ میں پڑھا کیا جاتا ہے۔ اور نام لیتے ہیں یہ مذہب کا۔ مذہب کے نام پر قتل کرنے والوں کو سورہ فاتحہ تک تو آتی نہیں ہوتی۔ اگر یہ صرف سورہ فاتحہ کا ترجمہ ہی جانتے ہوں تو کبھی ایسے شرمناک کام نہ کریں۔ ایسے لوگ اسلامی احکامات سے مکمل ناواقف ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ایک معمولی واقعے کو بنیاد کر غیر مسلم کو جان سے مار ڈالنے کو مذہب سے عقیدت کا نام دیتے ہیں۔

یہ پہلا دلخراش واقعہ نہیں ہے جب ایسا ہوا ہے۔ اس سے پہلے اس طرح کے درجنوں واقعات ہوچکے ہیں۔ جس کا بعد میں کی گئی تحقیقات سے پتہ چلا کہ سب مقتول بے گناہ تھے۔ فرض کیجیئے اگر وہ سب گنہگار تھے تو کیا مجھے آپ کو یا کسی بھی عام انسان کو یہ حق ہے کہ وہ مذہب کی توہین کے نام پر کسی کو سزا دے۔

یہاں میرا ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ ایسے لوگوں کا اسلام غیر مسلموں ہی کے لیے کیوں جاگتا ہے۔ اگر یہ مذہب کے اتنے ہی پیروکار ہیں تو پھر مسجد میں بیٹھ کر مسجد کی بے حرمتی کرنے والے مولوی، مفتی کو سزا دینے کے لیے کیوں نہیں اٹھتے۔ مسجد سے چوری کرنے سے چوکتے نہیں۔ رشوت، چور بازاری ڈاکا زنی، دھوکہ دہی، جھوٹ، منافقت کون سی برائی ایسی ہے جو ہم میں موجود نہیں ہے۔ سچ پوچھیے تو توہین مذہب غیر مسلم نہیں ہم مسلمان کرتے ہیں۔

اگر مذہب کی توہین کا معاملہ اٹھایا جائے تو پھر پوری بائیس کروڑ عوام میں سے ایک بھی مسلمان نہ بچے سب ایک دوسرے کو جلا کر راکھ کر دیں، کہ ہم سب کسی نہ کسی صورت اپنے مذہب کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ کوئی اس کا اقرار کرے نا کرے میں ببانگ دہل کہتی ہوں کہ ہم مسلمانوں سے انجانے میں اکثر مقدس آیات کی بے حرمتی ہوجاتی ہے۔ کیا ہم نے اپنے گھر کی دیواروں سے مذہبی آیات کبھی نہیں اتاریں؟ اکثر مسلمان گھروں میں خدا کا نام یہ کہہ کر جلایا جاتا ہے کہ اسے جلا دو تاکہ بے حرمتی نہ ہو، اور جتنی بے حرمتی قرآن پاک کی میں نے خانہ خدا میں دیکھی ہے کہیں نہیں دیکھی۔

یہ میری آنکھوں دیکھی حقیقت ہے، وہاں مختلف ملکوں سے آئے ہوئے لوگ قرآن پاک کو زمین پر رکھ دیتے ہیں، اپنے قدموں کے پاس، اور ایسا کرنے والے غیر مسلم نہیں ہوتے۔ اسلام کی سب سے بڑی عبادت کرنے آئے ہوئے مسلمان ہوتے ہیں۔ جو مسلمانوں کی سب سے مقدس جگہ پہ موجود ہوتے ہیں۔ لیکن وہاں ایسا کرنے پر کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا، کسی پاکستانی کو جرات نہیں ہوتی، کہ وہ ایسا کرنے والے مسلمان کو پکڑ کر مار ڈالے۔ وہاں کسی کا اسلام نہیں جاگتا۔ ہم جن کا مذہب ہے اسلام، وہ اس کی عزت کرتے نہیں اور غیر مسلموں سے مذہب کو احترام دلوانا چاہتے ہیں۔ کیا مذہب کسی بھی انسان کو زندہ جلانے کا حکم دیتا ہے۔ کسی کو مذہب کے نام پر قتل کرنا مذہب سے لگاؤ کا نہیں مذہب سے دوری اور حیوانیت کا مظاہرہ ہے۔

بات یہ ہے کہ ایسے دلخراش واقعات معمول بن چکے ہیں۔ چار دن اس پہ خوب گرما گرم مذمتی بیانات آتے ہیں۔ شرمندگی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ پھر میڈیا اپنا پیٹ بھرنے کو نیا مواد ڈھونڈتا ہے، سیاستدانوں کے اپنے بکھیڑے ختم نہیں ہوتے۔ ملاؤں کو اپنے مسلک کی فکر، اور رہ گئی عوام تو اس کو اپنی دو وقت کی روٹی پوری کرنے کے چکر سے فرصت نہیں۔ لہذا تھوڑے دنوں بعد سب معمول پہ آ جاتا ہے۔ سب اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں۔

اور ہم دوبارہ سے متحرک ہونے کے لیے پھر سے ایسے کسی واقعے کا انتظار کرتے ہیں، تاکہ بیان بازی کر کے اپنی اپنی دکانداری چمکا سکیں۔ اصل میں ہم سانحے کا انتظار کرنے والی قوم ہیں۔ اس آس میں رہتے ہیں کہ کوئی سانحہ ہو اور ہم اس پر نام نہاد واویلا منائیں، جھوٹ موٹ کی دانشوری جھاڑیں۔ ’ہم شرمندہ ہیں‘ ، ’فلاں کو انصاف دیں‘ کا نعرہ لگائیں۔ اور پھر انصاف دلانا تو دور یہ بھی بھول جائیں کہ معاملہ ہوا بھی کیا تھا۔

یہ ہمارا مزاج بن چکا ہے۔ یوں یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، اور یہ اس وقت تک یونہی چلتا رہے گا جب تک مذہبی رہنما عوام میں شعور پیدا نہیں کریں گے۔ جزا سزا دینا حاکم کا کام ہے یا خدا کا، لیکن بدقسمتی سے لوگوں نے یہ سب اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے۔ خدارا مذہبی رہنما لوگوں میں شعور بیدار کریں۔ توہین مذہب، توہین رسالت کی سزا دینا عوام کا کام نہیں ہے۔ بہت معذرت کے ساتھ مذہبی رہنما جو کفر کے فتوے تو آسانی سے لگا دیتے ہیں، اکثر و بیشتر جنتی اور جہنمیوں کی نشانیاں بھی بتاتے رہتے ہیں، لیکن انھوں نے اس طرح کسی جان کو قتل کرنے والے کے جہنمی ہونے کا کبھی اعلان نہیں کیا۔ خدا کے لیے مذہب کا احترام کریں، مذہب کو بدنام نہ کریں۔ میرا مذہب بہت پیارا امن والا ہے اس کو دنیا کی نظر میں دہشت نہ بنائیں۔ یہ امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اپنے متشدد رویوں سے اس کی دہشت نہ پھیلائیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments