ناصر کاظمی کی ”پہلی بارش“


(2)

صدیوں پرانی روایت ہے کہ شعراء (مغربی و مشرقی) طویل نظم کی ابتدا خدا یا دیوی دیوتاؤں (اپنے اپنے ایمان یا اعتقاد کے مطابق) سے خطاب کر کے کرتے ہیں۔ ’پہلی بارش‘ اور روایتی طویل نظم کا ایک اور مشترک وصف، آغاز ہے :

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا
پہلے تیرا نام لکھا تھا
اس شعر کے بارے میں پاپا خود کہا کرتے تھے کہ اس کا شمار چند بہترین حمدیہ اشعار میں ہو گا۔

اس کے علاوہ پہلی غزل ’کہانی‘ کے ’مرکزی کردار‘ کا تعارف بھی ہے۔ شروع ہی میں پڑھنے والا جان لیتا ہے کہ یہ ایک ایسے تخلیقی شخص کی کہانی ہے جو اللہ کو ماننے والا اور اس کی کتاب کا بغور مطالعہ کرنے والا ہے۔ اللہ ہی کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے وہ قرآنی آیات پڑھ کر اوندھے منہ گر نہیں جاتا (اندھا دھند ایمان نہیں لے آتا) بلکہ تدبر کرتا ہے اور غور و فکر کے ذریعے ان آیات کو اپنے رگ و پے کا حصہ بناتا ہے۔ وہ آدم کے مقام اور کائنات میں اس کے کردار سے بخوبی واقف ہے :

میں وہ صبر صمیم ہوں جس نے
بار امانت سر پہ لیا تھا
میں وہ اسم عظیم ہوں جس کو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا
یہ شخص نہ صرف اللہ سے سوال کرنے بلکہ شکوہ کرنے کی بھی جرات رکھتا ہے :
تو نے کیوں مرا ہاتھ نہ پکڑا
میں جب رستے سے بھٹکا تھا
پہلی بارش بھیجنے والے
میں ترے درشن کا پیاسا تھا
یہ اشعار غزلوں کے اس سلسلے میں بیان کی جانے والے کہانی کے موضوع کی طرف بھی ایک واضح اشارہ ہیں۔

یہاں اگر میں یہ کہوں کہ پاپا کی اپنی شخصیت بھی کچھ ایسی ہی تھی تو بے جا نہ ہو گا۔ اپنے دعوے کی حمایت میں انہی کے دو بیانات درج کرتا ہوں۔ ’سویرا‘ کے ایک مذاکرے میں ’میرا ہمعصر‘ (مطبوعہ، ’خشک چشمے کے کنارے‘ ) کے تحت لکھتے ہیں، ”میں عصر کے قرآنی معانی پر توجہ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ اب اگر سلیم احمد صاحب یہ اعتراض کریں کہ میں ادب کے معاملے میں قرآن مجید کو بیچ میں کیوں لاتا ہوں تو میری گزارش ہے کہ میں قرآن کو ادب سمجھ کر پڑھتا ہوں اور اپنی زبان کے بعض لفظوں کے اصل معانی پر اس لیے بھی زور دیتا ہوں کہ دور غلامی نے ہماری قومی علامتوں کا اس قدر مذاق اڑایا ہے کہ اب ہم ہر معاملے میں اہل مغرب کے دست نگر ہو کر رہ گئے ہیں۔ مثال کے طور پر مولوی، مولانا، حضرت، یہ الفاظ مغرب زدہ لوگوں کے لیے محض گالی یا پھبتی کی حیثیت رکھتے ہیں۔“

اپنی زندگی کے آخری ایام میں ٹیلیویژن کے لیے انتظار حسین کو انٹرویو دیتے ہوئے، غزل سنانے کی فرمائش کیے جانے پر انھوں نے کہا: ”لائیے تمھیں کچھ شعر سنا دیتا ہوں۔ یہ غزل، اس میں تھوڑی سی خطابت ہے ؛ مگر یہ ہے کہ بعض وجوہ سے مجھے پسند ہے ؛ کہ طلوع و غروب کے مناظر ہیں ؛ حیرت و عبرت، کہ دنیا میں کیا ہوتا ہے ؛ کس طرح چیزیں ڈوبتی ہیں، ابھرتی ہیں ؛ کس طرح صبح شامیں ہوتی ہیں ؛ اور کچھ قرآن کریم کے پڑھنے والوں کے لیے بھی۔ یہ کچھ دو چار شعر میں عرض کر دیتا ہوں :

ساز ہستی کی صدا غور سے سن
کیوں ہے یہ شور بپا غور سے سن
دن کے ہنگاموں کو بیکار نہ جان
شب کے پردوں میں ہے کیا غور سے سن
کیوں ٹھہر جاتے ہیں دریا سرشام
روح کے تار ہلا غور سے سن
یاس کی چھاؤں میں سونے والے
جاگ اور شور درا غور سے سن
کبھی فرصت ہو تو اے صبح جمال
شب گزیدوں کی دعا غور سے سن
کچھ تو کہتی ہیں چٹک کر کلیاں
کیا سناتی ہے صبا غور سے سن
برگ آوارہ بھی اک مطرب ہے
طائر نغمہ سرا غور سے سن
دل سے ہر وقت کوئی کہتا ہے
میں نہیں تجھ سے جدا غور سے سن
(برگ نے )

یہاں اگر کوئی یہ کہے کہ شاعر کی شخصیت اور اس کے نظریات اور عقائد کی روشنی میں اس کے کلام کو دیکھنا، بے لاگ (objective) مطالعے کے تقاضوں کے خلاف ہے تو میں جواب میں پاپا ہی کے الفاظ پیش کروں گا۔ مذکورہ بالا انٹرویو ہی میں انھوں نے کہا تھا، ”بات یہ ہے کہ جس طرح عطر کی شیشی آپ کھولتے ہیں تو خوشبو آپ کو آتی ہے ؛ تو پھول اور باغ تو کہیں نظر نہیں آتے ؛ تو شاعری میں میری، یہ تمام واقعات براہ راست تو آپ کو نظر نہیں آئیں گے، البتہ یہ ہے کہ وہ جو یادیں ہیں، جو زمانہ تھا ہماری غلامی کا، اور جس میں ہم جینے کے لیے کوشش کر رہے تھے، ان کی تگ و دو کو میری شاعری کے آہنگ میں، رنگوں میں، لفظوں میں آپ دیکھ سکتے ہیں۔“ آگے چل کر اس سوال کے جواب میں کہ تمھارا کمٹمنٹ (commitment) کیا ہے، انھوں نے کہا، ”۔ کمٹمنٹ، میں نے اس طرح بعض بیانات کی صورت میں تو شاید بہت کم کیا ہو، لیکن میرے کلام میں آپ کو۔ میرا تو خیال ہے کہ میں نے جو لفظ لکھا ہے وہ کمٹمنٹ سمجھ کر لکھا ہے۔ پاکستان کی پچیس سالہ تاریخ کو آپ دیکھیں اور میرے کلام کو دیکھیں تو ضرور اس میں وہ چیزیں دھڑکتی ہوئی نظر آئیں گی۔“

سجاد باقر رضوی کی کتاب کے دیباچے، ’شہری فرہاد‘ میں وہ لکھتے ہیں، ”شاعر کی شاعری اور اس کے نظریات کی ملاقات کسی مقام پر تو ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں باقاعدہ مثالیں تو مغرب کے ادب ہی میں ملیں گی لیکن اردو ادب بھی ایسی مثالوں سے خالی نہیں۔ میر نے اپنے تذکرے میں، غالب نے اپنے خطوط میں، حالی نے مقدمہ شعر و شاعری میں، پھر ہمارے زمانے میں فراق صاحب نے اپنے مضامین میں شاعری کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے، ان کا عکس ان کی شاعری میں بھی موجود ہے۔ شاعر اپنے نظریات کو مسلسل تجربات، مشاہدات اور مطالعے کے بعد مرتب کرتا ہے اور شاعری میں انھیں ذائقہ بنا دیتا ہے۔ شاعر کا مطالعہ اور اس کے نظریات خام لوہے کی طرح ہوتے ہیں جو شعر میں دم شمشیر بن کر اپنا جوہر دکھاتا ہے۔“

یہاں یہ باتیں، ممکن ہے کچھ لوگوں کو غیرمتعلقہ لگیں لیکن میرے خیال میں ان کا ذہن نشین ہونا نہ صرف ’پہلی بارش‘ بلکہ ناصر کاظمی کی پوری شاعری کو سمجھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4