کٹاس راج، تاریخ کے آئینہ میں تہذیب


کٹاس راج لاہور سے شمال مغرب کی جانب اڑھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر چند قدیم عمارتوں کا مجموعہ ہے جن کو عرف عام میں مندر کہا جاتا ہے۔ اس مندر کو زمان و مکان کا صید ہوتے ہوئے، مادی آنکھ سے دیکھنے سے قبل میں اسے اینٹوں پر مشتمل ایک کھنڈر تصور کرتا تھا، بس ایک کھنڈر۔

جب راقم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی ادبی مجلس، مجلس اقبال کے ہمراہ کلر کہار کی پراسرار سرزمین سے گزرتا ہوا کٹاس راج پہنچا، نظر مندر کی قدیم عمارتوں پر یوں گری جیسے سورج کی روشنی سے دیوار کا سایہ زمین پر، میں دنگ رہ گیا۔ وہ ایک کھنڈر نہ تھی بلکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ عہد رفتہ کی تہذیب تاریخ کے لباس، وہ لباس جس نے اس کی شکل و صورت پر اپنی بربریت کی مہر ثبت کر دی تھی، میں ملبوس کھڑی ہو۔

اس تہذیب کا چند لمحات کے لیے حصہ بننے اور کچھ سیکھنے کی غرض سے اس عمارت کی طرف بڑھا جو پانچ ہزار سال کی دانائی سمیٹی ہوئی، سب عمارتوں سے بلند ملکہ کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ ملکہ کی جانب بڑھتی ہوئی سیڑھیوں کو میں نے اپنا منتظر پایا اور ملکہ جیسی عمارت پر نظر جمائے سیڑھیاں عبور کرنے لگا۔ راستے میں میرے ساتھ آئے ہوئے ساتھی تصاویر اتارنے میں محو تھے۔ اس سلسلے میں کوئی بال سنوار رہا تھا تو کوئی چشمہ پہننے کا انداز۔ جوں جوں منزل مقصود قریب آتی گئی تجسس بڑھتا گیا۔ قریب پہنچا تو لطیف طرز تعمیر دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں مگر جب اس عمارت کو مقفل پایا تو غصہ چہرے پر لال پیلا ہوتا گیا۔

آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ مجلس اقبال کے جنرل سیکرٹری ثمر کو وہاں کھڑا پایا۔ ثمر نے مجھے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے کہا حسن مندر کتنا پراسرار ہے۔ اس کے چہرے سے عیاں تھا کہ وہ بھی چند لمحات زمان و مکاں سے بے نیاز ہو کر پانچ ہزار سالہ قدیم تاریخ میں ضم ہو جانے کا منتظر ہے۔ ثمر کو یوں دیکھ کر خوشی کی ہلکی سی لہر میرے چہرے پر رقص کرنے لگی۔ اس کا ارادہ بھانپتے ہوئے میں نے کہا ثمر چلو اس مقدس تالاب کی جانب چلتے ہیں جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ تالاب شیو کے ان آنسوؤں سے وجود میں آیا جو انہوں نے اپنی بیوی ستی، جو ان کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے اجل کی وادی میں اتر گئی تھی، سے جدائی کے غم میں بہائے۔

ہم دونوں تالاب کی جانب، جو سب سے بلندی پر واقع عمارت سے نچلی جانب مشرق کی طرف موجود تھا، چل نکلے۔ راستے میں چندا عمارتیں اپنی قدیمیت میں چھپی ہوئی تہذیب کو عیاں کرنے کی خاطر یوں سلیقے سے خاموش کھڑی تھیں جیسے غریب کو مالی امداد دینے کی غرض سے نمود و نمائش سے بے نیاز امیر آدمی۔ ہم یوں ان عمارتوں کی جانب بڑھے جیسے امیر آدمی سے مالی تحفہ وصول کرنے کی خاطر غریب۔ اندر داخل ہو کر طرز تعمیر کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس تہذیب کے بود و باش اور رہن سہن کو سمجھنے کی کوشش کرتے رہے جو آج سے پانچ ہزار سال قبل صفحہ قرطاس پر موجود تھی۔

ہنومان کے مندر، جس کی دیواریں موتیوں کی تصاویر اور بالائی گنبد کا اندرونی حصہ مینا کاری سے آراستہ تھا، نے ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ آج سے پانچ ہزار سال قبل لوگ کن عقائد کو بنیاد بنائے، کن خواہشات کو سینے سے لگائے، اس میں آ کر ہنومان کی عبادت کس انداز سے کرتے تھے اور ہنومان کس طرح کھڑا ان کی بے بسی پر قہقہے لگاتا تھا۔

تالاب کی جانب بڑھے تو کیا دیکھتے ہیں کہ قدرتی خشکی تالاب کا مقدر بن چکی ہے مگر مصنوعی طریقے سے اس میں پانی ڈالا جا رہا ہے تاکہ قدیم عقائد کو جلا ملتی رہے۔ ہم نے اس کے درمیان میں پڑے ہوئے ایک پتھر پر جا کر اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے عہد قدیم کی تہذیب و ثقافت کے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہی مگر وہ آنکھیں سپاٹ کیے بے حس پڑھا رہا۔

تالاب کے مشرق، شمال اور شمال مغرب میں کھڑی ہوئی چند عمارتیں جن کے اندر جھانکنا ہمارے لئے باعث اضطراب بنتا جا رہا تھا، ان کی جانب چلنے لگے۔ وشنو کی مورتی دیکھنے کے ساتھ ساتھ ترشول پر بھی نگاہ پڑی، دونوں تاریخ کی چاشنی کے ساتھ قدیم تہذیب کے عقائد پر گواہ کھڑے تھے۔

ایک عمارت دیکھی اس کی طرز تعمیر نے ہمیں حیرت میں ڈال دیا۔ دربار کا سا نقشہ، دیواریں مورتیوں کی تصاویر سے مزین، روشن دان سلیقے سے بنائے ہوئے اور سیڑھیاں ایسی کے جدید طرز تعمیر کو بھی خاطر میں نہ لائیں۔ ہم اس میں کھڑے حیرت میں گم ہو کر تاریخ کے آئینہ کو دیکھتے ہوئے پانچ ہزار سالہ تہذیب میں کھو گئے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments