جنوبی ایشیا میں کووڈ سے بھی خطرناک طبی مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ اپنی صحت کی حفاظت کے لیے سگریٹ نوشی نہیں کرتے ہیں تو آپ بہت سمجھدار ہیں۔ لیکن اگر آپ سگریٹ نہیں پیتے اور آپ لاہور یا دہلی میں رہتے ہیں تو آپ روزانہ 10 سے 15 سگریٹ کے برابر دھواں اپنے پھیپھڑوں میں لے جا رہے ہیں۔  اس صورت میں، آپ عقلمند ہیں لیکن بدقسمت ہیں۔ ان شہروں میں سانس لینے سے پھیپھڑوں کے کینسر سے لے کر دل کی بیماری تک صحت پر سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے کئی بڑے شہروں کے شہری طویل عرصے سے اس دشمن کے حملوں کی زد میں ہیں جو کہ کورونا وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔ (ایک اندازے کے مطابق گزشتہ سال نئی دہلی میں آلودہ ہوا کی وجہ سے 54,000 افراد قبل از وقت موت کے منہ میں چلے گئے، جو کہ دنیا کے کسی بھی بڑے شہر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔)

میں نے حال ہی میں پاکستان کے شہر لاہور میں اس دشمن کا مقابلہ کیا۔ پاکستان کا ثقافتی دارالحکومت اور دل کہلانے والا یہ شہر ان دنوں سانس لینے کی جدوجہد کر رہا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں میں لاہور نے نئی دہلی کو ہرا کر دنیا کے آلودہ ترین شہر کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

میں گزشتہ ہفتے ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے لاہور گیا تھا۔ پارٹی میں ہر دوسرا شخص کھانس رہا تھا۔ ایک صحافی دوست نے مجھے مشورہ دیا کہ اس "گیس چیمبر” کو جلد از جلد چھوڑ دوں تاکہ بیمار ہونے سے بچا جا سکے۔ اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا اور کہا، "آپ رات کو ستارے نہیں دیکھ سکتے اور دن میں چڑیاں نہیں دیکھ سکتے، لیکن آپ کو ہر طرف سیاہ دھند نظر آتی ہے جو دن رات ہمیں مار رہی ہے۔” میرا خیال تھا کہ لاہور کا ’’گیس چیمبر‘‘ سے موازنہ کرنا مبالغہ آرائی ہے۔ (آخر دنیا بھر میں 10 میں سے 9 لوگ غیر صحت بخش ہوا میں سانس لیتے ہیں۔) میں نے اس کے مشورے کو نظر انداز کیا۔ لیکن چند گھنٹوں میں ہی میرے لیے سانس لینا مشکل ہو گیا۔ مجھے کھانسی آنے لگی۔ اس رات میں سونے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اگلی صبح، میں اس شہر سے بھاگ گیا جہاں میری پیدائش اور پرورش ہوئی تھی۔

میں اپنی صحافت کی وجہ سے کئی سال پہلے یہ شہر چھوڑنے پر مجبور ہوا تھا۔ لیکن اس بار میں سموگ کی وجہ سے لاہور سے بھاگا۔ میں نے لاہور میں چڑیوں اور دوسرے چھوٹے پرندوں کی کمی دیکھی۔ یہ شہر پہلے ہی اپنے پرندوں کی نصف سے زیادہ نسلیں کھو چکا ہے۔ ڈاکٹر بہت سے مریضوں کو سانس کے انفیکشن سے بچنے کے لیے شہر چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن ہر کوئی ایسا کرنے کے معاشی وسائل نہیں رکھتا۔

لاہور کے کچھ تعلیمی اداروں نے سموگ سے لڑنے کے لیے آگاہی مہم شروع کر دی ہے۔ وہ اپنی ویب سائٹس پر دعویٰ کرتے ہیں کہ سموگ کی سب سے بڑی وجہ ہندوستانی کسانوں کی فصلوں کو جلانا ہے۔ لیکن یہ پوری حقیقت نہیں ہے۔ لاہور پنجاب کا صوبائی دارالحکومت ہے اور صوبے کے کئی شہروں کو اسی مسئلے کا سامنا ہے۔ لاہور پچھلی دو دہائیوں سے درختوں کے قطعات سے محروم ہو رہا ہے۔ لاہور کے ارد گرد سینکڑوں باغات اور ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کی جگہ نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز نے لے لی ہے۔ صنعتی آلودگی، گاڑیوں کا اخراج اور فوسل فیول سے چلنے والے پاور پلانٹس سموگ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے حال ہی میں اشارہ دیا تھا کہ وہ ہوا کے خراب معیار کی وجہ سے شہر میں ایک ہفتے تک لاک ڈاؤن کا حکم دے سکتی ہے۔ پچھلے مہینے، ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حکام کو حکم دیا تھا کہ وہ نئی دہلی میں دفاتر بند کر دیں اور ملازمیں کو گھر سے کام کرنے کا حکم دیں۔ یہ پہلا موقع نہیں جب عدالت نے اس شہر کو موت سے بچانے کی کوشش کی ہو۔

دو سال قبل ایک بھارتی جج نے قرار دیا تھا کہ فضائی آلودگی نے دہلی کو "جہنم سے بھی بدتر” بنا دیا ہے۔ تاہم، فضائی آلودگی سے لڑنا ججوں کی ذمہ داری نہیں ہے – یہ شہری، صوبائی اور قومی سطح کے منتظمین کی ذمہ داری ہے۔ عالمی اتحاد برائے صحت اور آلودگی نے 2019 میں دعویٰ کیا کہ چین، بھارت اور پاکستان سالانہ قبل از وقت فضائی آلودگی سے ہونے والی اموات میں سرفہرست ہیں۔ چین نے فضائی آلودگی کے خلاف اپنی جنگ میں درحقیقت کچھ بہتری کی ہے۔ لیکن بھارت اور پاکستان اب بھی ناکام ہیں۔

سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ آلودگی ہندوستانیوں کی متوقع عمر نو سال اور پاکستانیوں کی عمر میں چار سے سات سال تک کم کر سکتی ہے۔ ان ممالک کے حکمران آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر صرف بھاشن دے رہے ہیں۔ اس سال، ہندوستانی حکام نے موسمیاتی تبدیلی کے ایک نوجوان کارکن کو صرف سویڈش کارکن گریٹا تھنبرگ کی حمایت کرنے پر بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا۔ پاکستانی حکومت بھی مختلف نہیں ہے۔ اس نے لاہور کے ان کسانوں کے خلاف الزامات دائر کیے ہیں جنہوں نے اپنی زمین ایک بہت بڑے ریئل اسٹیٹ منصوبے کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ کسان حکومت پر زمینوں پر قبضے کا الزام لگا رہے ہیں – حالانکہ یہ منصوبہ بظاہر ماحولیاتی تحفظ کے نام پر شروع کیا گیا تھا۔

عمران خان اور نریندر مودی کو اس معاملے کو زیادہ سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ فضائی آلودگی پہلے سے موجود ایسی طبی صورت حال ہے جو کووڈ سے ہونے والی اموات میں معاون ہے۔ اس کا تعلق گلوبل وارمنگ سے ہے۔ انہتر سال پہلے، لندن نے سموگ کے زبردست حملے کا سامنا کیا تھا ، جو لاہور اور دہلی کے موجودہ بحران سے مختلف نہیں تھا۔ برطانوی حکومت نے ضابطے کے ذریعے اس خاموش قاتل کو شکست دی۔ ہندوستان اور پاکستان کو برطانیہ کے تجربات سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

زرعی زمین پر رہائشی کالونیاں بنانے پر پابندی لگائیں۔ جنگلات کو محفوظ کریں۔ شہروں کے اندر آلودگی پھیلانے والی صنعتوں کی اجازت نہ دیں۔ ایندھن سے چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک گاڑیوں میں تبدیل کریں۔ فضائی آلودگی کے خلاف مربوط جنگ شروع کریں۔ اگر لندن اپنی سموگ سے بچنے میں کامیاب ہو گیا تو لاہور اور دہلی بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔ انہیں اس کے لئے صرف سیاسی عزم کی ضرورت ہے۔

بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments