محرومی، نجومی، محکومی اور رومی
کچھ عرصہ پہلے تک ہمارے ہاں علم نجوم کے نام نہاد ماہرین کا ہجوم تھا۔ جگہ جگہ پر محرومیوں کے اشتہار لگے تھے اور نجومیوں کے کاروبار چمک رہے تھے۔ ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی محرومی ایسی ہوتی ہے جو اسے نجومی کے پاس جانے کے لئے مجبور کر سکتی ہے۔ جھنگ کے ایک نجومی کی نظر میں ہر محرومی کا حل مرغیوں کے انڈے دریا برد کرنا تھا۔ میرا ایک دوست بھی کچی عمر کے عشق میں پکا پکا گرفتار ہو گیا۔ نجومی کے کہنے پر والد صاحب کی خون پسینے کی کمائی میں خردبرد کر کے انڈے دریا برد کرتا رہا۔
مرغیوں کے انڈوں سے بچے نکلے یا نہیں، ہمارے دوست ایک عرصہ تک اپنے عشق میں سچے نکلے۔ وہ عشق میں گرفتار ہوئے۔ دنیا کے لئے بے کار ہوئے۔ طویل مدت نجومی پر یقین کر کے خوار ہوئے۔ نجومی صاحب کی اپنی کہانی بھی عجب تھی۔ وہ خود نہیں چلتے تھے، لیکن ان کا کاروبار بہت چلتا تھا۔ ٹانگوں کی ایک بیماری کے باعث ایک عرصہ سے چلنے پھرنے سے معذور تھے۔ ان کی دکان اس صنعتی شہر کی سب سے پرانی دکان تھی۔ وہ ایک مین بازار میں طویل مدت سے براجمان تھے اور کئی لوگوں کو چلتا کر چکے تھے۔
ٹانگوں کی جگہ بھی ان کی زبان چلتی تھی اور اتنا خوب چلتی تھی کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے۔ پریشان حال لوگوں کے مسائل کا ایسا نقشہ کھینچتے تھے کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے۔ لوگوں کے مسائل حل ہوئے یا نہیں مگر کئی سال کے کاروبار کے بعد ان کے اپنے بیشتر مسائل حل ہوچکے تھے۔ نجومی صاحب نے دنیا نہیں گھومی تھی مگر لوگوں کو بیٹھے بیٹھے ہفت اقلیم کی سیر کرا دیتے تھے۔ کافی عرصہ خوار ہونے کے بعد ایک دن ہمارے دوست کے دل میں ایک عجیب خیال آ سمایا۔
وہ سوچنے لگے کہ آخر نجومی بھی تو انسان ہے۔ اگر لوگ اپنی محرومیاں کے حل کے لئے نجومی کے پاس جاتے ہیں تو نجومی اپنی محرومیوں کے حل کے لئے کہاں جاتا ہے؟ اسی فکر میں ہمارے دوست کا مرض عشق بڑھتا گیا۔ دوشیزہ سے بھی اور انڈوں سے بھی۔ ہزاروں انڈوں کے لئے لاکھوں روپے خردبرد کے بعد ایک دن والد گرامی اپنے عاشق بیٹے کے کرتوتوں سے واقف ہو گئے۔ والد صاحب نے بہت ڈنڈے برسائے مگر ہمارا دوست انڈوں کو نہیں بھولا۔ خاتون کو مگر بھول گیا۔ اس نے انڈوں کا کاروبار کرنا شروع کر دیا۔ اپنے پولٹری فارمز بنا لیے ۔ والد صاحب کا گلہ دور کر دیا۔ کاروبار میں بہت کامیابی ہوئی مگر خاتون کی یاد ستانے لگی۔ نجومی کی بجائے ماہر امراض دل کے پاس جانا پڑا۔ قسمت اچھی تھی، نجومی جیسا بھی ملا تھا۔ ڈاکٹر بہت اچھا ملا۔
ڈاکٹر رانا اطہر ماہر امراض دل بھی ہیں اور ماہر امراض بل بھی ہیں۔ وہ مریض پر پہلی نظر ڈالتے ہی فیصلہ کر لیتے ہیں کہ آدمی دل کو لے کر زیادہ پریشان ہے یا بل کو ۔ نجومی انسان کی محرومی دور کر سکتا ہے یا نہیں ایک اچھا انسان دوسرے کی محرومیوں کا مداوا ضرور کر سکتا ہے۔ ڈاکٹر کا اچھا انسان اور مہربان ہونا بہت ضروری ہے۔ ڈاکٹر اطہر کا کہنا تو یہ ہے کہ ڈاکٹر کو دل کا اطہر ہونا چاہیے بھلے اس کا نام کچھ بھی ہو۔ ڈاکٹر کی نظر مریض کی جیب پر نہیں، مریض کے مالی حالات پر ہونی چاہیے۔
دل کا حال تو آلات بتا سکتے ہیں۔ مریض کے مالی حالات آلات کے نہیں ڈاکٹر کی صفات کے محتاج ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر کو پتہ ہونا چاہیے کون سے مریض کو دل کا مسئلہ ہے اور کون سے مریض کو بل کا مسئلہ ہے۔ جو انسان کسی محرومی کا شکار انسان سے بل لیتا ہے، وہ اس کا دل ہمیشہ کے لئے ہار جاتا ہے۔ ڈاکٹر کا مقصد بل نہیں دل ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر اطہر کہتے ہیں کہ اصل محرومی کردار کی محرومی ہے۔ سخت دل انسان سے زیادہ محروم کوئی نہیں ہو سکتا ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دلوں کی نرمی سے آشنا کردے۔ ڈاکٹر اطہر گاہے بگاہے رومی کا فلسفہ سمجھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ”دنیا کے سارے نجومی مل کر بھی ایک رومی کے برابر نہیں ہوسکتے۔ رومی تو ان کے مرشد ہیں جن کا نام اقبال ہے اور جن کا اقبال خالق کائنات نے بلند کیا ہے اور آنے والے دنوں میں بلند تر ہوتا رہے گا۔ ان شاء اللہ“ ۔
اطہر رومی کا سچا عاشق ہے وہ کہتا ہے ”میں نے دنیا گھومی ہے۔ رومی سے واقف نہ ہونا اصل محرومی ہے۔ رومی تو بس رومی ہے“ ۔ علامہ ڈاکٹر اقبال کو بجا طور پر حکیم الامت کہا جاتا ہے۔ ہمارے حکیم کو رومی کا مرید ہونے پر فخر تھا۔ اقبال کی فکر کا دھارا رومی کے افکار کاہی پرتو ہے۔ اصل محکومی اپنے نفس کی محکومی ہے۔ انسان اگر اپنے نفس کا غلام ہے تو جہنم ہی اس کا انجام ہے۔ وہ فقط پابند گردش صبح و شام ہے۔ درحقیقت بے نام ہے۔ الہامی کتاب نفس کے غلاموں کو جانوروں سے بھی بدتر گردانتی ہے۔ فرقان یہ بھی کہتا ہے کہ جو اپنے نفس کو بے جا خواہشوں سے روکتا ہے اور نفس پر قابو پا لیتا ہے۔ اس کے لئے خیر ہی خیر ہے۔ وہی مسجود ملائک ہے۔ رومی کا کلام قرآن مجید کی تفسیر ہے۔ علامہ اقبال نے بالکل بجا فرمایا ہے۔ :
کھول کر کیا بیان کروں سر مقام مرگ و عشق
عشق ہے مرگ باشرف، مرگ حیات بے شرف
صحبت پیر روم سے مجھ پہ ہوا یہ راز فاش
لاکھ حکیم سر بجیب، ایک کلیم سر بکف


