یوسف رند: جذبات و تخیلات کا شاعر

تخلیق مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس پر چلنے والے بہت کم لوگ ہوتے ہیں اور خاص طور پر تو ایسے روگ کو پالنے سے لوگ گریزاں ہوتے ہیں ۔ کیونکہ اس میدان میں مقصدیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے کھیت میں ہل چلانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر دل کی زمین زرخیز ہوتی ہے ۔اگر تخلیق کے میدان اور انتخاب میں یوسف رند کا نام بھی لیا جائے تو فیصل آباد کی زمین علم و ادب سے زرخیز نظر آتی ہے اور اس بات میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ اس زمین سے کئی ایسے ناموں کا جنم ہوا ہے جن کے فن اور نام کو عزت و مقام ملا ۔ انہی ایک ناموں میں یوسف رند کا نام بھی معتبر ہے جو اپنے نام کی طرح پھل دار اور فن میں باکمال ہے ۔وہ کئی دہائیوں سے علم و ادب کا چراغ جلانے میں مصروف ہیں ۔انہوں نے کئی ادبی اصناف پر طبع آزمائی کی ہے تاہم ان کی سچی اور کھری پہچان شاعری ہی ہےاور خاص طور پر وہ نظم اور غزل لکھنے کی پوری پوری مشق اور دسترس رکھتے ہیں ۔وہ پنجابی اور اردو زبان میں با کمال لکھتے ہیں بلاشبہ تخلیق رشک و تحسین کی قوت سے لبریز اور عرش بریں کا ایک عظیم تحفہ ہے جس کا اندازہ زبان و ادب پر دسترس رکھنے والے ایک تخلیق کار کو ہی ہو سکتا ہے ۔
اگر شاعر کی آنکھ میں مشاہدہ اور دل میں فن پالنے کا شوق ہو تو قلم کی روشنائی ادب کے نت نئے موتی بکھیرتی ہے جس کی کشش و ثقل سے مداحوں کا ہجوم لگ جاتا ہے ۔
جب تخلیق فن کے لمحوں میں خون بن کر رگ رگ میں گردش کرتی ہے تو شعر و سخن کے پرچار میں وہ لطافت پیدا ہوجاتی ہے جو ہر شاعر کی انفرادی اور کرداری خصوصیت ہوتی ہے ۔ایسی فنی خوبیاں ان کے کلام کو اثرات و ثمرات کے ولولے سے زندہ رکھتی ہے ۔
ادب کا کوئی بھی فن پارہ ہو وہ ذہن و قلب پر اپنا تاثر ضرور چھوڑتا ہے اور خاص طور پر اگر وہ لطافت سے بھرپور اور تاثراتی اہمیت کا حامل ہو تو وہ اپنی گرفت مضبوط کر لیتا ہے ۔اگر چہ ادب کا میدان وسیع و عریض رقبے پر محیط ہوتا ہے ۔اگر اس کے حدود اربعہ میں غزل کی بات کی جائے تو دل میں آہ و پکار کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو حواس خمسہ پر اثر انداز ہو کر کئی سوالوں کو جنم دے جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک الگ اور منفرد حقیقت ہے کہ ایک سچا شاعر اپنے عہد کا بے لاگ جائزہ لے کر اسے شعر و ادب میں بیان کرنے کی جسارت کرتا ہے وہ اپنے قرب و جوار کی تلخیوں ، محرومیوں اور مایوسیوں کو قلم فرسائی کے ذریعے بیان کرنے کی پوری پوری کوشش کرتا ہے تاکہ اس کی شاعری تاریخ و زبان کا حصہ بن کر اپنی آنے والی نسلوں کو یادوں کا من بانٹے ۔
یہی ایک سچے اور منزہ جذبوں سے لبریز شاعر کی خوبی ہوتی ہے ، فاضل دوست کے اس شعر میں یاد کی آبرو دیکھیں ۔
یادوں کا ایک سایہ تھا
یاد کیا دل رویا تھا
یادوں کی منظر کشی گھومتی آنکھوں میں اور چمک سونے چاندی کے اورق جیسی دکھائی دیتی ہے جو نہ آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے اور نا دل سے جدا ۔ یہ ایک فطری امنگ ہے ان خوبصورت یادوں کا حسن و جمال اور شگفتگی کبھی ختم نہیں ہوتی اور نہ وہ ماند پڑتی ہے ۔ یوسف رند نے اپنی شاعری میں ایک یادوں کا نیا جہان آباد کیا ہے نا جانے کیا ہوا کہ ان کے مقدر کا ستارہ پاکستان سے اٹلی جا کر ٹھہر گیا لیکن حیرت ہے وہ ستارہ آج بھی روشن ہے اور وہ مسلسل محوِ گردش ہے یہ میرا ذاتی خیال ہے اگر ایک شاعر کو تخلیق کی پیوند کاری کرنے کا فن آجائے تو وہ اپنی شاعری میں کئی طرح کے رنگوں و ذائقوں کو متعارف کروا سکتا ہے ۔
یوسف رند فنی اور تکنیکی اعتبار سے اپنی غزلیات کو جذبات کا ایسا تڑکا لگاتے ہیں کہ کھانے والا انگلیاں چاٹنے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔ اگر جذبات سرد مہری کا شکار ہوجائیں تو وہاں حسن و عشق کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔اگرچہ فاضل دوست کی غزلیات میں نئے رنگ ، خوشبو و حسن اور اور تروتازگی کا احساس ملتا ہے ۔اس کے ساتھ ان کی ایک اور منفرد خوبی یہ بھی ہے کہ ان کے پاس تخیلات کا جو خزانہ موجود ہے نا تو وہ زنگ آلودہ ہوتا ہے اور نا ہی وہ ختم ہوتا ہے۔ فنی اعتبار سے وہ غزل کو جو حیا دار لباس پہناتے ہیں جو مشرقی اقدارو روایات کا بھرم بھی رکھتا اور اپنی قدر و قیمت بھی برقرار رکھتا ہے ۔
یہاں شعور بے زبان ہو جائے وہاں اسے زبان دینے کے لئے غزل ایک حدت اور نظارہ بن جاتا ہے جو قابل دید بھی ہوتا ہے اور قابل رشک بھی ۔انسان ایک مسافر ہے جسے سفر طے کرنے کے لئے بہت سے مصائب و آلام برداشت کرنا پڑتے ہیں موصوف کے اس شعر کو دلجمی سے پڑھیں ۔
رخت سفر اذیتوں نے آسان کردیا
یہ خوف زدہ زندگی پتھر نہیں رہی
غزل کی تابندہ روایت نے یوسف رند کو فکری توانائی کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔وہ اپنے کلام میں فلسفہ زندگی کو نئے روپ میں داخل کرتے ہیں جس کے داخلی اور خارجی دروازے ہیں جو اندر باہر کھلتے ہیں ۔یقینا جب آنکھیں ان اشعار کا نظارہ کرتیں ہیں تو آمادگی، پرچار اور سلجھاؤ کا قرینہ خود بخود آنکھوں میں اتر جاتا ہے ۔اگر یوسف رند کے کلام پر غور و خوض کیا جائے تو ان کے کلام میں ندرت، سادگی اور سلاست ،تاریخی، جغرافیائی اور حساسیت کے وہ مقام نظر آتے ہیں جہاں قاری رک رک کر اشعار کی آبرو کا جائزہ لیتا ہے ۔اگرچہ زندگی دھوپ چھاؤں ہے تو وہ حقیقت کا پیراہن پکڑ کر سچ کی تلاش کرتی ہے۔ ان کےاسی طرز کے ایک خیال کا ایک شعر ملاحظہ کریں ۔
اک دھوپ ہے کہ میرا سایہ نگل گئی
میں کھڑا ہوں جس شہر میں شجر لیے ہوئے
میرے نزدیک رند کی غزلیات جذبوں اور تخیلات کا ایک حسن مر قح ہے۔ جس میں عشق کی تڑپ ،روحانی آسودگی ،فصاحت و بلاغت ،رمز و ایمائیت ،شب کے تاروں سے باتیں ،قلبی واردات ،لطافت و شرینی ،تنہائی کی تلخیاں ،محفل کی رونقیں ،منبر کا دیا ، دست دعا ،کہکشاؤں کے جھرمٹ جیسے موضوعات اپنی آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں ان کے اس شعر میں رات کے سفر کا حسن نزاکت پڑھیں ۔
رات کا سفر تھا جھیل میں
چاند میری گود میں اترا تھا
میں یوسف رند کی غزلیات پڑھنے کے بعد انھیں غزل گوئی میں جذبات کی فروانی اور خیال کی رعنائی کا استاد مانتا ہوں ۔میں کافی عرصہ سے ان کی کلام کو پڑھتا اور سنتا ہوں جو اپنے اندر آفاقی صداقتوں کے جھرمٹ رکھتا ہے۔ میرا ان کے ساتھ زمینی اور روحانی رشتہ گہرائی سے پیوست ہے ۔میں انہیں شاعری کے میدان میں ادب کی خدمات پر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ خدا انہیں علمی و ادبی حلقوں میں عزت و توقیر بخشے۔
میں ان کے اس خوبصورت شعر سے اجازت چاہوں گا ۔
صبح جانے سے پہلے آنا
رات کو بیٹھے سوچ رہا تھا
Facebook Comments HS

