کچے ذہنوں والے



اکثر اوقات بچوں کو یہ کہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے، کہ تم ابھی بچے ہو، تمہارا ذہن ابھی کچا ہے، سمجھ جاؤ گے، پر وقت لگے گا۔

آج تک یہ نہیں سمجھ پایا، کہ ذہن کو پکا کیسے کرنا ہے؟ بلکہ پہلے تو یہ دیکھنا چاہیے کہ پکا ذہن کیا ہوتا ہے؟ یہ توجہ طلب سوال ہے، پکا ذہن معاشرتی لحاظ سے عمر کے مطابق پکا ہوتا جائے گا، جتنی انسان کی عمر ہو گی، اسی حساب سے ذہن کی رکنیت طے ہو گی۔

اب یہ دیکھنا ہے، کہ پکے ذہن کے لئے کوئی عمر رکھی گئی ہے یا ہر بڑے کے لئے چھوٹا کچے ذہن کا ہی ہو گا، یعنی یہ مثال قابل غور ہو سکتی ہے، کہ بیس سال کے نوجوان کے لئے انیس سالہ نوجوان کچے ذہن کا مالک ہو گا، اور ملتی جلتی دوسری صورت حال میں ایک اٹھانوے سال کے مرد کے لئے ستانوے سال کا مرد بھی کچے ذہن کا مالک ہی ہے، حالانکہ یہ دونوں تو باقاعدہ بوڑھے ہو چکے ہیں، اور قبر کی دہلیز پر بیٹھے بحث و مباحثے میں پڑے ہوئے ہیں کہ کون کیا ہے؟ سوال اہم ہے، کہ کون اصل میں کچے ذہن کا مالک ہے اور کس کا ذہن پکا ہو چکا ہے۔

پکے ذہن کے لوگوں کا ذرا ایک جائزہ لیں، ارد گرد موجود ایسے افراد جو آپ کو کچے ذہن کا طعنہ دیتے ہیں، دیکھ بھال کر فیصلہ کریں کہ کیا وہ واقعی پکے ذہن کے لوگوں میں شمار بھی کیے جا سکتے ہیں؟ اگر آپ کا ذہن کام کر رہا ہے تو جواب ”نہ“ ہو گا،

چلیں کسی اور کو نہیں تو اپنے آبا و اجداد کو ہی دیکھ لو کیسے کیسے نظریات رکھنے والے وہم کے مارے ہوئے، یوں لگتا ہے، کہ یہ لوگ تو خود کشی بھی اس لئے نہیں کرتے ہوں گے، کہ ان کے پیچھے ہم کم عقل جاہل اور کچے ذہن والوں کے ساتھ کیا ہو گا، ان لوگوں کے دیو مالائی قصے، داستانیں اور سب سے بڑھ کر توہم پرستانہ عقائد جنہیں آج کی جنریشن مکمل طور پر چھوڑ چکی ہے، لیکن کریں بھی کیا؟ یہ نئی جنریشن پچھلی کے نزدیک سب سے کم تر اور پرلے درجے کی جنریشن ہے، جن کے ذہن ابھی بھی کچے ہیں۔

لیکن حالات اس کے برعکس ہیں

بڑوں کے ذہن جس حد تک پختہ ہو چکے ہیں، وہ آج کوئی بھی حق بات ماننے کو تیار نہیں ہوتے، کیونکہ ان کے ذہن پکے ہو چکے ہوتے ہیں وہ کسی ایسی بات کو تسلیم نہیں کر سکتے، جو ان کے نزدیک نئی ہو، پکے ذہنوں والے اپنے آبا و اجداد کے طرز عمل پر پوری زندگی گزار دیتے ہیں لیکن حق کو حق ماننے کو تیار نہیں ہوتے، کیونکہ بہرحال وہ اپنے آپ کو مکمل سمجھتے ہیں، میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے،

جب میرے والدین کو پتا چلا کہ میرے مذہبی نظریات و عقائد ان سے مختلف ہیں، تو انہوں نے مجھے کہنا شروع کر دیا کہ بیٹا ابھی تمہارا ذہن کچا ہے، تم صرف نماز پڑھ کر اور روزہ رکھ کر خود کا تزکیہ کرو، یہ تمہارا کام نہیں ہے کہ تم دین میں تحقیق کرتے پھرو اور اپنے آبا کے دیے ہوئے دین سے بغاوت کرو۔

اندازہ لگائیں یہ ہمیں ہمارے والدین سکھا رہے ہیں کہ تم صرف نماز روزہ کرو، یہ تمہارا کام نہیں ہے کہ تم دین کو تحقیق کا موضوع بناؤ، تمہارا ذہن ابھی کچا ہے، ذہن میں موجود سوالات کو چھوڑو اور اپنے کام سے کام رکھو، یہ ہر اس بچے اور نوجوان کے ساتھ ہوتا ہے جو دین کو اپنی تحقیق کا موضوع بنا رہا ہو، یا پھر کسی بھی دوسرے علوم میں تحقیق کر رہا ہو، اسے ہر دفعہ بڑوں کی محفل میں یہ کہ کر چپ کرا دیا جاتا ہے کہ تم بچے ہو، حالانکہ شاید اس کی عمر بیس بائیس سال ہو، کیوں ہمارے بڑوں کو ہم بچوں سے خوف ہے؟ ، کیوں؟

وہ نوجوان نسل کو سوال نہیں کرنے دیتے کیونکہ وہ دین میں تحقیق کرنے والے سے حق بات نہیں سننا چاہتے، جو وہ اپنے آبا کے دور سے نہیں مانتے آ رہے، حیرت ہے ہمارے بڑوں نے تو ہمیں توہم پرستی سے دور کرنا تھا، اور تقلید سے ہٹا کر تحقیق کی طرف لگانا تھا،

لیکن وہ تو خود ایسے ایسے عقائد رکھتے ہیں کہ ہم سوچ بھی نہیں سکتے، یعنی ان پکے ذہنوں کو ہمیشہ معاشرے سے ڈر لگا رہتا ہے، کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ہم کچے ذہن والوں کو فضول میں تلقین کرتے رہیں گے کہ یہ نہیں کرنا ورنہ لوگ کہیں گے ہم نے تربیت نہیں کی، یہ نہیں کرنا ورنہ ہماری ناک کٹ جائے گی، حالانکہ یہ جس قسم کے کاموں سے منع کیا جاتا ہے وہ بالکل بھی ناک کو کٹوانے والے نہیں ہوتے۔

بس ایک وہم ہوتا ہے کہ ایسا ہو، اور ایسا کچھ نہیں ہوتا اور ابھی تک یہ ہمارے بڑے جو خود کو پکے ذہنوں والوں میں شمار کرتے ہیں توہم پرستی پر یقین رکھتے ہیں، اور تو اور ہمیں بھی تربیت دیتے ہیں کہ یہ جادو ٹونا، فلاں دن، فلاں رنگ اور یہ فلاں حرکت مہنگی پڑ سکتی ہے، یہ سب دیکھتے ہوئے تو لگتا ہے ہمیں سکھانے کی بجائے، ان بڑوں کو خود ہم سے سیکھنا چاہیے، یا چلو ہم سے نہیں سیکھ سکتے، حالانکہ آرام سے سیکھ سکتے ہیں، تو کسی اہل علم سے رابطہ کر لیں، ویسے وہ اہل علم بھی خود کو پکے ذہن والا کہتا ہو گا، افاقہ نہیں ہو گا، ہم کچے ذہن کے رکھوالے ہی ان کی تربیت کر سکتے ہیں۔

کیونکہ ہمارے ذہن ابھی کچے ہیں غلطی مان لیتے ہیں، یہ سہولت پکے ذہن والوں کو میسر نہیں ہے، کیونکہ وہ ایک کہانی مشہور ہے نا، کہ عقل داڑھ نکلنے کے بعد عقل نہیں بڑھ سکتی، اسی طرح میں نے بھی ایک تھیوری پیش کی ہے کہ پکے ذہنوں والے نیا علم نہیں سیکھ سکتے، وہ اپنی پرانی غلطیاں نہیں مان سکتے، وہ ایک جگہ رک سے جاتے ہیں، کہ شاید یہی انت ہے، کویں کا مینڈک، یا پھر سرکس کا شیر، جو یہ بھول چکا ہوتا ہے کہ وہ تو بادشاہ ہے، اور ایک بادشاہ کا یہ کام نہیں کہ وہ لوگوں کو کرتب دکھانے کا کام کرے، وہ تو بادشاہ ہے، آگے سے آگے بڑھنا، آخر جب تک کہ موت نہیں آ جاتی،

تو انسان بھی علمی، عقلی اور شعوری لحاظ سے پکے ذہن نہیں بنا سکتا، اسے ایک ہی نتیجہ ہمیشہ کے لئے مان لینا زیب نہیں دیتا، وہ علم میں ترقی کرتا ہے، رائے تبدیل کرتا ہے، سوچنے کا زاویہ بدل کر دیکھتا ہے، اپنے آبا و اجداد کے لئے عزت و احترام کا جذبہ رکھتے ہوئے، ان سے اختلاف کرتا ہے، یہی ایک انسان کرتا ہے اور اسے کرنا بھی چاہیے، اور یہی اسے فطرت کے زیادہ قریب رکھتا ہے، اور یہ سب اس وقت ہو گا جب انسان کا ذہن کچا ہو گا، وہ ماننا جانتا ہو گا، وہ قبول کرنا جانتا ہو گا، تو اس لئے اے میرے اندر کے انسان تو کچا ہی رہے، اور اپنے ذہن کو کچا ہی رکھ، ہمیں پکا ذہن رکھنے کی ضرورت ہی نہیں، کیونکہ وہ یہ نہیں مانتے کہ وہ انسان ہیں۔ بلکہ وہ تو خود کو فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ سمجھتے ہیں جو انسانوں میں رہ کر ہم انسانوں کو علم، عقل اور شعور دلا رہا ہے۔

Facebook Comments HS