کھڑکی سے: للی پوٹ پارا


(سلووینین زبان میں لکھی گئی اس کہانی کی مصنفہ للی پوٹ پارا ہیں۔ وہ سلوینین ادب کی ایک معروف اور انعام یافتہ ادیبہ ہیں اور مترجم ہیں۔ ان کی کہانیوں کا مجموعہ ”باٹمز اپ اسٹوریز“ کو 2002 میں پروفیشنل ایسوسی ایشن آف پبلشرز اینڈ بک سیلرز آف سلووینیا کی طرف سے پرائز فار بیسٹ لٹریری ڈیبیو ”کے اعزاز سے نوازا گیا۔ موجودہ ترجمہ کر سٹینہ ریئرڈن کے انگریزی ترجمے کا ترجمہ ہے، جو “ ایلکیمی جرنل آف ٹرانسلیشن ”میں شائع ہوا تھا۔ مترجم)

***

آنکا کھڑکی کے پاس بیٹھی آنگن میں دیکھ رہی تھی۔ وہاں بنچ پر نیزا اور کارمن بیٹھی کھلکھلا رہی تھیں۔ وہ ہنس ہنس کر دوہری ہوئی جا رہی تھیں۔ آنکا کو لگا کہ وہ ہنستے ہنستے کبھی کبھی اس کی کھڑکی کی طرف بھی دیکھ لیتی تھیں۔ آنکا نے اپنے ہونٹ بھینچ لئے اور اس کی ہلکی نیلی آنکھوں کا رنگ بدل کر کچھ کالا ہو گیا۔ ”مجھے نیزا اور کا رمن سے نفرت ہے،“ وہ بڑبڑائی۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ اتنے زور سے بڑبڑائی تھی کہ اوما نے سن لیا جو اسی وقت دھلے کپڑے لے کر کمرے میں داخل ہوئی تھی۔

” کیا بات ہے آنکا، تم باہر آنگن میں کیوں نہیں جا رہیں؟ اور ابھی تم نے کیاکہا؟“

”میں باہر نہیں جاؤں گی! میں وہاں کبھی نہیں جاؤں گی!“ اس نے ہونٹ بھینچ کر کہا۔ ایک بار پھر وہ زور سے بڑبڑائی تھی۔ اس کا یہ احساس اتنا بڑا ہوتا جا رہا تھا کہ اب اس کے چھوٹے سے سر میں سما نہیں پا رہا تھا۔

اوما جو اس دنیا میں کافی عرصے رہ چکی تھی، صحیح معنوں میں ایک اچھی نانی تھی۔ وہ کھڑکی کے پاس یوں گئی، جیسے پردہ ٹھیک کرنا چاہتی ہو، اور جلدی سے کھڑکی کے باہر نظر ڈال لی۔ جب کسی نے دنیا بہت دیکھ لی ہو تو اسے بہت جلدی نظر آ جاتا ہے کہ باہر چھوٹے آنگن میں کیا ہو رہا ہے، خواہ اس وقت اس کی عینک اس کی ناک کی نوک پر ہی کیوں نہ ہو اور خواہ وہ ہر روز ہی کیوں نہ شکایت کرتی ہو کہ اس کی آنکھیں روز بروز کمزور ہوتی جا رہی ہیں۔

” بچی ذرا کچن میں آنا، میں نے تمھارے لئے کچھ بنایا ہے!“
”نہیں، میں یہیں ٹھیک ہوں!“ آنکا نے اڑیل پن سے جواب دیا اور اپنی ناک کھڑکی کے شیشے سے سٹالی۔
تازے سیب اور بیک کیے ہوئے آٹے کی مہک اپارٹمنٹ میں پھیل گئی تھی اور اس کے پیٹ میں گڑگڑاہٹ ہونے لگی۔

Lili Potpara
Lili Potpara

اوما نے کچھ نہیں کہا۔ وہ کمرے سے چلی گئی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی آنکا نہ جانے کیوں اس کے پیچھے پیچھے چلی گئی۔

کچن میں اوما میٹھی مہک والا تازہ مال پوا کاٹ رہی تھی۔ پھر اس نے تین ٹکڑے تین چھوٹے چھوٹے پلیٹوں میں رکھے۔

”یہ کس کے لئے ہیں؟“ آنکا نے حیرت سے پوچھا۔

”نیزا اور کا رمن بھی تو آ رہی ہیں نا؟ جاؤ انھیں بلاؤ۔ پچھلی بار نیزا کی نانی نے بسکٹ بنائے تھے۔ تم نے مجھے بتایا تھا کہ بہت لذیذ تھے۔ یاد ہے نا؟“

آنکا کو نیزا کا کچن یاد آیا : بسکٹوں سے بھری میز، پلیٹیں، جوس اور تین لڑکیوں کے ساتھ اس کی نانی۔ وہ بسکٹ کھا رہی ہی، ہنس رہی ہیں اور وہ دنیا کی سب سے اچھی دوست ہیں۔ اس کی شدید نفرت نے اس تصویر کو دبا دینا چاہا، لیکن ناکام رہی۔ پھر یہ نفرت ہلکی ہو کر آخر میں پو ری طرح غائب ہو گئی۔

آنکا دوڑ کر کھڑکی کے پاس گئی اور اسے پورا کھول دیا۔ لڑکیوں نے اپنا نام سنا تو چونک کر اوپر دیکھا اور پھر چمکیلی مسکانوں سے ان کی باچھیں کھل گئیں۔

”اوما نے مال پوا بنایا ہے؟ ضرور آنکا، ہم ابھی پہنچے!“

آنکا نے نیچے کا دروازہ کھولنے والا بٹن دبایا۔ پھر اس نے سوچا، ہم تیسری منزل پر ہیں اور سیڑھیاں کچھ زیادہ ہی ہیں، اور کوئی لفٹ بھی نہیں۔

” آنکا، تم نیچے کیوں نہیں آئیں؟“ انھوں نے کمرے میں داخل ہو کر ہانپتے ہوئے پوچھا۔ ”تم آتیں تو رسی کودنے میں بہت مزا آتا۔ تم تو سب سے اونچا کودتی ہو!“

تینوں لڑکیاں مال پوئے کھا رہی تھیں۔ جوس پی رہی تھیں اور ہنس ہنس کر دوہری ہوئی جا رہی تھیں۔ اوما دھیرے سے باہر نکلی اور الگنی پر باقی کپڑے ڈالنے چلی گئی۔

مترجم: ڈاکٹر آفتاب احمد
سینئر لیکچرر، ہندی اردو، کو لمبیا یونیورسٹی، نیو یارک

Facebook Comments HS