کرپشن عوام شروع کرواتے ہیں


قارئین یہ کوئی دو سال پرانی بات ہوگی جو آپ کو سنانے جا رہا ہوں دل پر ہاتھ رکھیں اور پڑھتے جائیں میں نے ایام عاشورہ میں اپنے آبائی علاقے دیپالپور جانا تھا عاشورہ کے ایام میں ہی بابا فرید گنج شکر رح کا عرس ہوتا ہے تو عاشور اور عرس پر جانے والوں کا ایک جم غفیر ہوتا ہے بس والے آواز لگانا چھوڑ دیتے ہیں اور کرائے آسمان کو چھونے لگتے ہیں ایسے میں اگر کوئی سواری کہے کہ بہت زیادہ کرایا ہے تو کنڈیکٹر دھکا مار کر کہتا ہے کہیں اور چلے جائیں کنڈیکٹر میں تو یوں لگ رہا تھا مرحوم ضیاء الحق کی روح آ گئی تھی حق گویائی ہی چھین کھڑا تھا

خیر کیونکہ سواری نے تو جانا ہی جانا ہوتا ہے لہذا بلیک میلنگ کا بازار گرم رہتا ہے میں بھی بڑی مشکل سے ایک گاڑی میں آخری سیٹ پر بیٹھنے میں کامیاب ہوا جہاں یہ حضرات چار کی بجائے پانچ لوگ بٹھاتے ہیں اور کوسٹر میں تو یہ ظالم درمیان میں ایک سٹول رکھ کر سواریوں کی گنجائش بھی بنا لیتے ہیں ان کی قصور نہیں ہے دراصل نا انہیں کوئی پوچھتا ہے نا انہیں کسی کا ڈر ہے۔

میری عادت اپنے حصے کی شمع سمجھ لیجیے یا نظریاتی ہونا ہے گاڑی چلی تو میں نے حسب معمول اپنا حقوق حق استعمال کرتے ہوئے 1124 (ہائی وے پولیس پٹرولنگ کی ہیلپ لائن) پر کال کر دی (ایک آدھ دفعہ پہلے بھی میں یہ حق استعمال کر چکا تھا جس کے تحت گاڑی کو جرمانہ اور تمام سواریوں کو اضافی کرایہ واپس کیا گیا تھا) میری بات ایک پولیس افسر ہو رہی تھی میں نے سارا معاملہ ان کے روبرو رکھا انہوں نے کہا آپ میری ڈرائیور سے بات کروائیں میں نے فون بھیج دیا پولیس سے بات کرتے ہی ڈرائیور اور کنڈیکٹر کا اطمینان مجھے حیرت میں ڈال رہا تھا۔

گاڑی میں پاکپتن، بصیر پور، حجرہ شاہ مقیم، حویلی لکھا اور دیپالپور جانے والے مسافر سوار تھے جن میں کچھ پروفیشنلز، وکیل، اعلی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم کچھ لڑکے، کچھ سرکاری تعلیمی اداروں کے بچے فیکٹری میں کام کرنے والے اور ایک فیملی وہ تھی جو کسی کے گھر میں کام کرتی تھی الغرض ہر طرح کے لوگ تھے مڈل کلاس بھی اور بہت غریب بھی جبکہ پڑھے لکھے بھی تھے اور سب زیادہ پیسے دے کر سفر شروع کر چکے تھے جیسے ہی میں نے کال کی کچھ لوگ پریشان، کچھ خاموش اور کچھ میرے اس عمل پر خفا تھے بلکہ خلاف تھے اور ایک دو مجھے کہہ رہے تھے ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

اب واپس آتے ہیں اصل مدعے کی جانب دیپالپور جانے کے لیے درمیان میں بہت سے راستے آتے ہیں جہاں آپ ہائی وے کی حدود سے نکل جاتے ہیں اب پولیس کی ڈرائیور سے بات ہونے کے بعد ان کا اطمینان بھی ایک غور طلب معمہ تھا اسی دوران ڈرائیور صاحب نے ایک سڑک کی جانب گاڑی موڑ دی اور یوں اب معاملہ ہائی وے کی حدود سے نکل گیا میں نے کال کی تو پولیس والے صاحب نے کہا اب جی بات ہائی وی پولیس کی حدود سے نکل گئی ہے آپ پنجاب پولیس کو فون کریں (اب ان کے اطمینان کی سمجھ آنے لگی تھی جیسے انہیں۔

کہا گیا ہو کہ میں یہاں کھڑا ہوں اس سے پہلے مڑ جانا) خیر اب معاملہ سنگین ہو گیا تھا ویران سا علاقہ تھا اور گاڑی وہ بہت تیز دوڑا رہے تھے اب میں نے پنجاب پولیس کی ہیلپ لائن 15 پر کال کی اور ایک صاحب کو جن کو کال ٹرانسفر ہوئی ان کو معاملہ بتایا تو انہوں نے بہت معصومانہ انداز سے کہا ”توں کمال کیتی کھڑا ہیں یار دو سو دے واسطے توں سانوں تنگ کر ریاں ایں ( تم دو سو کی خاطر پولیس کو کال کر رہے ہو)“ حیران کن معصومیت تھی لیکن ان کو میں قصور وار نہیں سمجھتا کیونکہ ایسی کمپلین کی حماقت ہم غریب پاکستانیوں نے کبھی کی ہی نہیں لیکن مجھے تو اپنا مقدمہ لڑنا تھا لہذا میں نے کہا سر کوئی لگ بھگ تیس کے قریب لوگ موجود ہیں گاڑی میں دو سو سے ضرب دے پر پیسے آپ اپنے پاس سے دیتے ہیں تو ہمیں کیا ضرورت ہے رولا ڈالنے کی اس پر پھر ان کو سمجھ آ گئی انہوں نے پیچھا شروع کیا اب اس جرمانے سے بچنے کے لیے ڈرائیور نے کون سا راستہ اختیار کیا اور وہ کون سی جگہ تھی یہ کسی کو علم نا تھا بہر حال پولیس کے ساتھ میں مسلسل رابطے میں تھا ان کو کہہ رہا تھا مجھے کچھ ہوا تو پولیس ذمہ دار ہو گی اتنے وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہونے والوں کی تعداد بڑھ چکی تھی اور ایک شخص میرے خلاف بول رہا تھا کہ یہ عجیب پاگل آدمی ہے اس کا جواب میں نے نہیں بس میں بیٹھے ایک جوان نے دیا کہ وہ حق پر ہے اور ہم سب اس کے ساتھ کھڑے ہیں اسی دوران بس اور ہم بیچارے مین حجرہ روڈ پر چڑھ گئے اور کال پر موجود پولیس والے صاحب نے بتایا معذرت آپ اس پولیس کی حدود سے نکل گئے ہیں آپ آپ کو تھانہ دیپالپور سٹی رابطہ کرنا ہے تب تک رات کے آٹھ بج چکے تھے اور غالباً سات یا آٹھ محرم الحرام ہو گی مجالس اور جلوسوں کا وقت تھا ہم بھی اڈے پر پہنچ چکے تھے بس سے اترتے وقت وہ شخص بھی مجھے عقیدت سے ملا جو مجھے پاگل کہہ رہا تھا کیونکہ میں نے کوشش پوری کی اور اس دوران ایک ہائی وے پولیس کے افسر نے جو کیا وہ اس کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے جبکہ دو تین دفعہ شکایت کرنے پر سخت ایکشن ہو چکا ہے

عزیز قارئین یہ دو سو روپے کی وہی کرپشن ہے جو اوپر جا کر اربوں کی کرپشن بن جاتی ہے اور اس سب کا حصہ کہیں نا کہیں ہم ہوتے ہیں۔

آخری حصہ یہ ہے کہ اگر وزیر ٹرانسپورٹ، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اور ہر اڈے پر موجود فیئر کنٹرول افسران نے کچھ کرنا ہی نہیں تو ان کی خدمات واپس لے لی جانی چاہئیں تاکہ لوگوں کو پتا ہو کہ کوئی ٹرانسپورٹ مافیا کو پوچھنے والا ہے ہی نہیں ایک دفعہ تو یوں بھی ہوا ایک صاحب اوکاڑہ میں اخبار اور اڈا ایک ساتھ چلاتے تھے ان کی گاڑیاں زیادہ کرایا لیتی تھیں جب بیچارے لوگ شکایت کرنے جاتے تو ٹیبل پر اخبار اور بندوقیں دیکھ کر سلام کر کے اپنی راہ لیتے اور چلے جاتے۔

Facebook Comments HS