مہنگائی مارچ سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی!


اپوزیشن کی طرف سے ایک شور بر پا ہے کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اگر یہ حکومت قائم رہی تو ملک کے معاشی حالات مزید سنگین سے سنگین تر ہوتے جائیں گے، اس لیے ضروری ہے کہ موجودہ حکومت کی چھٹی کردی جائے، اس حوالے سے پی ڈی ایم تین سال کی مسلسل کوشش کے بعد اس حتمی فیصلے پر پہنچی ہے کہ استعفے نہ لانگ مارچ نہ عدم اعتماد کی تحریک، اب صرف یوم پاکستان پر مہنگائی مارچ ہو گا، پی ڈی ایم یوم پاکستان منانے کے بجائے مہنگائی مارچ کی صورت میں یوم احتجاج منائے گی اور حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لے گی۔

یہ بات سچ ہے کہ مولانا فضل الرحمن لانگ مارچ نہ مہنگائی مارچ، وہ تو براہ راست اجتماعی استعفے دینے کے حق میں تھے اور چاہتے تھے کہ مسلم لیگ ( ن) ، پیپلز پارٹی اور خود ان کی جمعیت کے ارکان قومی اسمبلی سے استعفے دے کر باہر نکل آئیں اور ازسرنو انتخابات کا مطالبہ کر دیا جائے، کیو نکہ مولانا اسمبلی میں پہنچنے میں ناکام رہے ہیں اور ضمنی انتخابات میں بھی کامیابی کی امید نہیں، اس لیے چاہتے ہیں کہ ازسرنو انتخابات ہوں، تا کہ وہ کھلے ماحول میں اپنی قسمت آزمائی کر سکیں اور کامیابی کی صورت میں ایسی حکمت عملی اپنائیں کہ جس میں آئندہ حکومت کے ساتھ تعاون کا امکان بھی ہو سکتا ہے۔

عوام بھولے نہیں ہوں گے کہ مولانا فضل الرحمن، پرویز مشرف کے زمانے سے نواز شریف اور پھر زرداری دور اقتدار کا بھی حصہ رہے ہیں، مولانا نے تو اپوزیشن بھی ہمیشہ فرینڈلی کی ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ مولانا فضل الرحمن ایوان اقتدار سے باہر ہیں اور انہیں حقیقی اپوزیشن بھی کرنا پڑ رہی ہے، یہ صورت حال مولانا کے لئے نہ قابل برداشت ہے، انہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر سب کو اجتماعی استعفوں پر راضی کر لیا تھا، مگر پیپلز پارٹی نے سارا کھیل بگاڑ دیا، پیپلز پارٹی کسی صورت اجتماعی استعفوں کی روا دار نہیں تھی، کیوں کہ اس کی زد براہ راست سندھ حکومت پر پڑتی تھی، جہاں وہ تیسری بار اقتدار کے مزے لوٹ ر ہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگر کوئی غیر معمولی واقعہ پیش نہ آیا تو یہ سلسلہ آگے بھی چلتا رہے گا۔

پیپلز پارٹی کی بے وفائی پر مولانا فضل الرحمن لانگ مارچ پر اتر آئے اور بار بار اس کی تاریخیں دے رہے تھے، اس میں میاں نواز شریف کی ہلا شیری بھی شامل تھی، لیکن پیپلز پارٹی پھر آڑے آ گئی، اس نے لانگ مارچ کی حمایت کرنے اور اس کے لیے کارکن فراہم کرنے سے انکار کر دیا، آصف علی زرداری کا اصرار تھا کہ قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران حکومت کو رخصت کیا جاسکتا ہے اور وہ اس کی ذمے داری لینے کو تیار ہیں، لیکن حضرت مولانا آمادہ نہیں ہوئے، کیو نکہ مولانا ایوان میں نہ ہوتے ہوئے کسی دورے کو ذمہ داری دینے کے لئے تیار ہیں نہ اعتبار کرتے ہیں، اس لیے بات استعفوں سے چلتے مہنگائی مارچ پر جا کر ختم ہوئی ہے۔

اس وقت ملک میں مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے، حکمران خود بھی اعتراف کر رہے ہیں کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، مگر اسے عالمی لہر قرار دیتے ہیں، پی ڈی ایم نے بھی اپنے سیاسی ایشوز پر ناکامی کے بعد مہنگائی ہی کو سب سے اہم ایشو قرار دیتے ہوئے میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے یوم پاکستان کے دن کا انتخاب درست نہیں ہے، اس قومی دن کو سیاسی محاذ آرائی سے پاک ہونا چاہیے، کیو نکہ یہ عہد وفا کا دن ہے، اس دن قوم یکجاں ہو کر پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنانے کا عہد کرتی ہے، اس دن اسلام آباد میں صدر یا وزیراعظم کے خطاب کے ساتھ فوجی پریڈ ہوتی ہے، اسے دیکھنے اور سننے کے لئے غیر ملکی سفارت کاروں کو بھی مدعو کیا جاتا ہے، اگر اس دوران مہنگائی مارچ اسلام آباد میں وارد ہو گیا تو سارا پروگرام چوپٹ ہونے کے ساتھ جگ ہنسائی کا باعث بن سکتا ہے۔

ہماری سیاسی قیادت کو قومی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد عزیز ہیں، اس لیے مہنگائی مارچ کی تاریخ میں رد و بدل نہیں کی جا رہی ہے، تاہم وزیراعظم عمران خان بیان دے کر مہنگائی مارچ کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے کہ پاکستان اب بھی دنیا کا سستا ترین ملک ہے، اگر تھوڑی بہت مہنگائی ہوئی گئی ہے تو سردیوں کے جاتے ہی اڑن چھو ہو جائے گی، حکومت باور کروا رہی ہے کہ مولانا فضل الرحمن تین ماہ بعد جب مہنگائی مارچ لے کر اسلام آباد آئیں گے تو مہنگائی کا نام و نشان بھی نہیں ہو گا تو مولانا آخر کس سے اپنا سر کھپائیں گے، جبکہ مولانا کا اصل ہدف نہیں، حکومت کا تیا پانچا کرنا ہے، اس کے لیے مہنگائی کا نام استعمال کیا جا رہا ہے، اس مہنگائی مارچ سے مہنگائی ختم ہو گی نہ حکومت جائے گی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان آئندہ انتخابات تک عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے چوہے بلی کا کھیل یونہی چلتا رہے گا۔

Facebook Comments HS