گوادر اور بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ ظلم و زیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے

مولانا ہدایت الرحمان نے صحافیوں کو آج احتجاجی دھرنے میں کہا کہ جب گوادر 1958 کو پاکستان میں شامل ہوا ہے۔ تب سے ہمارے عوام نے اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ان کی آواز کو لاٹھی اور گولیوں سے دبانے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ بلوچستان کے عوام نے فیلڈ مارشل ایوب خان کی آمریت کے خلاف اپنے بنیادی حقوق کے لئے ہڑتالیں کی ہیں اور سب سے زیادہ فوجی آمر پرویز مشرف کے فوجی آپریشنوں میں مسخ شدہ لاشیں دی گئیں اور نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے خلاف کئی ہڑتالیں اور احتجاجی دھرنے اور پہیہ جام ہڑتالیں تک ہوئیں ہیں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
پہلے شاہد وہ احتجاج چند گھنٹوں چند دنوں تک محدود رہی ہیں۔ لیکن گوادر بلوچستان حق دو کی ہماری تحریک گزشتہ تین مہینوں سے جاری ہے اور دھرنا ایک ماہ کے قریب جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چائنہ حکومت نے جو خدشات ظاہر کیے تھے ہم نے کہا کہ ہم سی پیک پروگرام کے خلاف نہیں ہیں ہم نے ان تک اپنے تمام مطالبات بھیج دیے۔ جب ہماری باتیں ٹرانسلیٹ ہو کر ان تک پہنچ گئے۔ تو چائنہ حکومت ہم سے مطمئن ہوئی ہے۔
ابتدا میں چند ماہی گیری کے آلات سے لیس چائنہ کے جہاز ساحل بلوچستان پر ماہی گیری کر رہے تھے ہمارے ماہی گیروں نے اس کی مخالفت کی اور بلوچستان کی سیاسی پارٹیوں نے سخت احتجاج کیا تو چائنہ حکومت نے فوری طور پر ٹالرینگ بند کر دی۔
ہمارا چائنہ حکومت سے صرف یہ شکایت رہی ہے کہ وہ سی پیک منصوبے کے تحت یہاں کے مقامی لوگوں سے مشاورت کر کے ان تمام ترقیاتی کاموں کی ابتدا گوادر مکران اور بلوچستان سے کرتے، کیونکہ سی پیک کی ابتدا گوادر سے ہے تو گوادر مکران اور بلوچستان کا حق زیادہ بنتا ہے۔ یہاں کے مقامی بے روزگار نوجوانوں کو سی پیک کے مختلف منصوبوں میں ملازمتیں دی جائیں۔
مولانا نے کہا کہ لگتا ہے کہ ٹالر مافیا کے پشت پر بہت بڑی طاقتیں ملوث ہیں۔ اس لیے صوبائی حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے۔
ہم نے آج اپنے دھرنے میں 29 دن گزارے ہیں،
گزشتہ دنوں میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کی ریلی جس میں ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں نے بھی شرکت کی تھی۔ لیکن ہمیں افسوس ہے کہ ملکی میڈیا نے ہمیں اتنی کوریج نہیں دی۔ جس کا ہمیں توقع تھا۔
آج دنیا ایک گلوبل ولیج ہے ہماری صدائیں اب جب دنیا کو جگا رہی ہیں تو یقینا اسلام آباد میں وزیر اعظم کو بھی جھنجھوڑنے پر مجبور کریں گے۔
اگر وزیر اعظم نے ہمارے ریلی کی نوٹس لی ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ ہم صرف نوٹیفکیشن پر راضی نہیں ہوں گے بلکہ ہم اپنے جائز مطالبات پر عملدرآمد کے خواہاں ہیں۔
مولانا نے کہا کہ سمندر میں 12 ناٹیکل میل کی پابندی اس زمانے میں لگی تھی جب بحیر بلوچ میں اتنی بڑی تعداد میں ٹالرینگ نہیں ہوتا تھا۔ اب ہزاروں ٹالروں نے ساحل بلوچستان کو بانجھ بنا ڈالا ہے۔ مقامی ماہی گیروں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ 30 ناٹیکل میل کے اندر ٹالرینگ ممنوع قرارداد دی جائے۔ اس کی خلاف ورزی پر سخت سزاؤں کا اجراء اور بلوچستان کی اسمبلی میں قراردادیں پاس کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سورگ دل فٹبال گراؤنڈ میں گوادر کی خواتین گوادر بلوچستان حق دو کی حمایت میں ایک بڑے جلسے کر رہی ہیں۔ گوادر کی خواتین اب با شعور ہو چکی ہیں وہ اب اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ ہر جدوجہد میں شامل ہیں۔
مولانا نے کہا کہ نوٹیفکیشن کے باوجود کیچ سے آئے ہوئے گاڑی مالکان نے کہا کہ اب بھی ایف سی کے اہلکاروں نے لوگوں کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند نہیں کیا ہے۔

